طالب علمی کا دور کسی طالب علم کیلئے سب سےیادگار دور ہوتا ہے۔ دوران طالب علمی جو باتیں سکھائی جاتی ہیں، وہ ہمیشہ یاد رہتی ہیں، طلبہ انہیں کبھی نہیں بھولتے۔
چائنا اور رینالڈس پین، جن کا ایک دور تھا۔ تصویر: آئی این این
طالب علمی کا دور کسی طالب علم کیلئے سب سےیادگار دور ہوتا ہے۔ دوران طالب علمی جو باتیں سکھائی جاتی ہیں، وہ ہمیشہ یاد رہتی ہیں، طلبہ انہیں کبھی نہیں بھولتے۔ اس دور سے وابستہ چیزیں بھی انہیں ہمیشہ یاد رہتی ہیں۔ ہر دور تبدیلی سے گزرتاہے اوریہ تبدیلی ہی ہر دور کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک روزچند دوستوں کے ساتھ شام کےوقت چائے کی چسکی لیتے ہوئے ایسے ہی ایک بدلتے ہوئے دور کی گفتگو شروع ہوئی۔ ہم چا ردوست ۹۰ء کی دہائی کے طالب علمی کے دور کی بات کررہے تھے جب کتابیں علم کا منبع ہوا کرتی تھیں۔ آج کے دور میں تو لوگ انٹرنیٹ، وہاٹس ایپ اور دیگر برقی ذرائع سے علم حاصل کررہے ہیں۔ آج صرف نوٹس لکھائی جاتی ہیں اور طلبہ اس کام کو بھی پرنٹ آؤٹ کے ذریعہ انجام دیتے ہیں، مطلب انہیں زیادہ لکھنا نہیںہے۔
۹۰ء کی دہائی میں ہماری بیاض (نوٹ بُک ) تحریروں سے بھرجایا کرتی تھی۔اسی گفتگو کے دوران ۹۰ء کی دہائی کی وہ مشہور اور معروف پین یا قلم کا بھی ذکر ہوا جن سے لکھنا ایک شان کی بات ہوتی تھی۔ جن طلبہ کے پاس یہ قلم ہوتی تھیں، انہیں کلاس کا امیر طالب علم سمجھا جاتاتھا۔ ان میں سب سے مشہورچائناپین، پائلٹ پین اور رینالڈس پین ہوا کرتی تھیں۔ دوستوں نے اس موضوع پر لکھنے پر اصرار کیا کیونکہ آج یہ ساری چیزیں تاریخ کا حصہ ہیں اور نوجوان نسل جسے جین زی کہتے ہیںوہ ان سب سے محروم ہے۔
دوستوں کی اس گفتگو نےمجھے طالب علمی کے اس دور میں پہنچا دیا جب چائنا پین حاصل کرنے کے لئے مالی طور پرمضبوط ہونا پڑتاتھاکیونکہ اوریجنل چائنا پین مہنگی تھی۔ چائنا پین کو اِنک پین کا بادشاہ کہا جاسکتاہے کیونکہ اس کی جسامت، بناوٹ اور تحریر دیگر اِنک پین سے منفرد ہوتی تھی۔ سنہری ڈھکن والی یہ قلم سیاہ، مرون اور سبز رنگ میں مل جایا کرتی تھی۔اس کی بناوٹ ایسی ہوتی تھی جیسے مرسڈیز یا بی ایم ڈبلیو کی لگژری کار ہو۔ دیگر اِنک پین کے مقابلے اس کی نب پردے میں ہوتی مطلب پوری طرح ظاہر نہیں ہوتی تھی۔ یہ نوٹ بُک کے صفحہ پر ہموار طریقے سے چلتی تھی جبکہ دیگر اِنک پین صفحہ پر چاقوزنی کرتی ہوئی اسے پھاڑ دیتی تھیں۔ اس کی تحریر نہایت خوشخط ہوتی تھی اور اگر کسی اچھے لکھنے والے کے ہاتھ لگ گئی تو جماعت میں اس کے ہی نمبر زیادہ ہوتے تھے۔ دیگر قلم میں اِنک بھری یا انڈیلی جاتی تھی لیکن چائنا پین میں اِنک ڈالنے کا نظام منفرد تھا۔ یہ اِنک کی بوتل سے اسے چوس لیا کرتی تھی۔ ہم نے بھی اس پین کو حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اوریجنل نصیب نہیں ہوئی بلکہ اس کی نقل ہی استعمال کی جوکہ بہت اچھی نہیں تھی۔ اس لئے ہم نے اپنے دور میں کسی دوست سے مانگ کر اوریجنل چائنا پین سے لکھنے کا لطف لیا تھا۔
اسی دور کی ایک اور مشہور قلم پائلٹ پین تھی جس سے تحریر باریک ہوا کرتی تھی۔ پائلٹ پین کی بھی اپنی ایک خاص شناخت تھی جس کی باڈی سفید رنگ میں آتی تھی اور اس کے کیپ یا ڈھکن پر نیلے رنگ کا نشان ہوتا تھا۔ یہ پین نیلے اور سیاہ رنگ میں دستیاب تھی ، بعد میں ہم نے اسے سرخ اور سبز میں بھی دیکھا تھا۔ اس پین کا نام پائلٹ کیوں پڑا تھا یہ تو معلوم نہیں لیکن لکھائی میں اس کی رفتار بہت اچھی تھی۔ اس کی خصوصیت یہ تھی کہ یہ تیز لکھتے ہوئے بھی نوٹ بُک کے صفحات کو خراب نہیں کرتی تھی۔ اس کی نب سوئی جیسی ہوتی تھی اور اس کی چبھن بھی سوئی ہی کا احساس کرواتی تھی۔ ۹۰ء کے دور میں یہ چائنا پین کے بعد سب سے زیادہ پسند کی جانے والی قلم تھی۔
چائنا اور پائلٹ پین کے بعد رینالڈس پین نے اس دور میں قدم رکھا تھا۔ اس دور میں بال پین کا چلن زیادہ تھا۔ زیادہ تر بال پین ۲؍سے ۵؍ روپے کے درمیان دستیاب تھیں لیکن ان کی نب زیادہ موٹی تھی اس لئے تحریر میں وہ خوبصورتی نہیں آتی تھی۔ ایسے ہی دور میں رینالڈس پین نے قدم رکھا تھا جس اس کی نب باریک تھی۔ یہ کسی بھی نوٹ بُک کے صفحہ پر بہتر طریقے سے چلتی تھی۔ اس کی بناوٹ خاص نہیں تھی لیکن اس شناخت یہ تھی کہ اس کی باڈی آف وہائٹ رنگ کی ہوتی تھی اور اس کا ڈھکن نیلے رنگ کا ہوتا تھا۔ اس کی باڈی کے ایک طرف رینالڈس تحریر تھا۔ حالانکہ کچھ فنکار اس رینالڈس کے الفاظ کو اس طرح سے تراش دیتے تھے کہ وہ انڈیا بن جاتا تھا، مطلب انڈیا کے الفاظ بن جایا کرتے تھے۔ بال پین میں یہ قلم سب سے تیز اور خوشخط تحریر پیش کرتی تھی اسلئے اکثرجماعت کے اسکالر طلبہ کی یہ پہلی پسند ہوتی تھی۔ حالانکہ یہ پین جیب پر زیادہ بار بھی نہیں ڈالتی تھی۔
آج جین زی نمائشی چیزوں کو پسند کرتے ہیں۔ آج انہیں لکھنے کی فکرنہیں ہے بلکہ ان کی پین یا قلم کیسی لگتی ہے اس کی فکر ہے۔ اس لئے وہ مختلف کارٹونس یا دیگر اینی میٹڈ کیریکٹر کی تصویروں والی قلم کو اپنے پاس رکھنا پسند کرتےہیں، متذکرہ قلم سے چاہے تحریر کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو،انہیں اس کی فکر نہیں ہے۔ جین زی میں سے زیادہ تر کو لکھنے کا ہنر اور فن معلوم ہی نہیں ہے، اس لئے انہیں کون سی قلم اچھی ہے اور کون سی کم اچھی ہے،اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ انہیں تو بس اپنے پسند کے کیریکٹر کے فوٹو والی قلم چاہئے۔آخر میں جین زی کے دور اور اپنے دور کے بارے میں صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ:
مجھے یادسب ہے ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو