باڈی بلڈنگ کے مقابلے میں حصہ لینے سے پہلے مشکل حالات کا سامنا کیا اور ڈائٹ کیلئے قرض لیا۔ مقابلے میں شرکت کیلئے ٹکٹ تک خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔
مہتاب حسین اپنے میڈل کے ساتھ ہیں۔ تصویر: آئی این این
گھاٹ کوپر کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے ۲۲؍ سالہ مہتاب حسین نایاب شیخ جب دہلی سے ۲۰۲۵ء کا ’مسل مینیا پرو، انڈیا‘ کا خطاب جیت کر لوٹے تھے تب گھر کے باہر اپنی والدہ سے جذباتی انداز میں گلے ملنے کا ان کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا تھا۔ اس نوجوان نے اس خطاب کو جیت کر صرف اپنی والدہ اور اہلِ خانہ کا ہی نہیں بلکہ پوری قوم اور ممبئی کا نام روشن کیا مگر اس نوجوان کا باڈی بلڈنگ میں یہ خطاب جیتنے کا سفر کافی مشکلوں سے بھرا ہوا تھا، یہاں تک کہ مقابلے میں حصہ لینے کی غرض سے سفر کے لئے ٹرین کی ٹکٹ خریدنے کے پیسے بھی اس کے پاس نہیں تھے اور ٹرین میں بیت الخلاء کے پاس بیٹھ کر اس نے یہ سفر کیا تھا۔
مہتاب اپنے مرحوم والد کو ہی اپنا آئیڈیل مانتے ہیں۔ ان کے والد پیشے سے درزی تھے اور مالی حالات اچھے نہ ہونے کے باوجود بچوں کی تعلیم پر توجہ دی جس سے وہ گریجویشن کرسکے۔ مہتاب بتاتے ہیں کہ ان کے والد بہت جدو جہد کرتے تھے لیکن کبھی ان پر گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے دبائو نہیں ڈالا۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ جو بننا ہے بنو لیکن کوئی غلط کام مت کرنا، کسی کا دل نہیں دکھانا اور کوئی ایسا کام مت کرنا جس سے خود یا اہلِ خانہ بدنام ہوں اور شرمندگی اٹھانی پڑے۔ تاہم مہتاب کی زندگی میں اس وقت بونچھال آگیا جب ۲۰۲۳ء میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ طبیعت خراب ہونے پر انہیں راجا واڑی اسپتال لے جایا گیا تھا لیکن اتوار کا دن ہونے کی وجہ سے کوئی ماہر ڈاکٹر موجود نہیں تھا اور دورہ اتنا شدید تھا کہ انہیں کسی دیگر اسپتال میں منتقل کرنا بھی ممکن نہیں تھا اور اسی حالت میں ان کا انتقال ہوگیا۔
وہ اپنی والدہ، دو بہنوں اور ایک بھائی کے ساتھ رہتے ہیں۔ والد کے انتقال سے مہتاب کی زندگی بدل گئی، اچانک گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ کاندھوں پر آگیا اور تقریباً ڈیڑھ برس تک انہیں باڈی بلڈنگ اور ریل بنانا، ایڈیٹنگ کرنا وغیرہ بند کرنا پڑا جسے وہ اپنا کریئر بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے دھیرے دھیرے خود کو سنبھالا اور دوبارہ قدم جمانے کی جد و جہد کی۔ اسی سے ان کی زندگی میں تبدیلیاں آنی شروع ہوئیں جس سے آج وہ موجودہ مقام پر پہنچے ہیں۔
’مسل مینیا پرو انڈیا‘ کا خطاب جیتنے کیلئے مہتاب کو نہ صرف باڈی بلڈنگ کی تیاری کرنے کا چیلنج تھا بلکہ زندگی کے بھی کئی چیلنجوں کا سامنا تھا مثلاً اہلِ خانہ کو یقین نہیں تھا کہ وہ باڈی بلڈنگ میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکیں گے اس لئے والدہ کی طرف سے بھی اکثر مشورہ رہتا تھا کہ یہ سب چھوڑ کر کوئی سنجیدہ روزگار تلاش کرلو۔ دیگر مسائل یہ تھے کہ باڈی بلڈنگ میں ’ڈائٹ‘ یعنی خصوصی کھانے پینے پر بہت زیادہ توجہ دینی پڑتی ہے جس پر کافی خرچ آتا ہے اور مہتاب کے پاس ان سب اخراجات کیلئے بھی پیسے نہیں تھے۔
مہتاب حسین فی الحال باڈی بلڈنگ کے ساتھ ہی فری لانس ویڈیو ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کرتے ہیں جس سے ان کی گزر بسر ہوتی ہے۔ انہوں نے باڈی بلڈنگ میں ڈائٹ اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اپنی بڑی بہن سے ۲۰؍ ہزار روپے قرض لئے تھے جو بیوٹی پارلر میں ملازمت کرتی ہیں۔ یہ پوری رقم ان کی باڈی بلڈنگ پر خرچ ہوگئی تھی اور جب وہ مقابلے کیلئے خود کو تیار سمجھ رہے تھے تب صورتحال یہ تھی کہ ان کے پاس دہلی جانے کیلئے پیسے نہیں تھے۔
پیسوں کی کمی کی وجہ سے مقابلے میں حصہ نہ لے پانے کی مایوسی کے دوران انہوں نے بلا ٹکٹ سفر کرنے کا فیصلہ کیا، راستے میں ٹی سی نے پکڑ لیا جس پر بہن سے آن لائن پیسے لے کر جرمانہ ادا کیا اور دہلی پہنچے۔ جو خطاب انہوں نے جیتا ہے اس میں مالی انعام نہیں ہوتا صرف میڈل اور ٹرافی ملتی ہے اس لئے واپسی بھی بغیر ٹکٹ اورجرمانہ بھر کر ہوئی۔البتہ دہلی میںمقابلے کے دوران ان کے ایک فالوور نے انہیں پہچان لیا اور پورا ایک دن انہیں سنبھالا ان کے کھانے اور ڈائٹ وغیرہ کا انتظام کیا جس کا احسان وہ کبھی نہیں بھول سکتے۔
جو مقابلہ انہوں نے جیتا ہے وہ قومی سطح کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب مہتاب عالمی سطح کے مقابلے میں حصہ لینے کی جدو جہد کررہے ہیں۔