بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ ان دنوں اپنی فلم ’’ڈان ۳‘‘ کے تعلق سے تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں۔ فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنے ایمپلائیز (ایف ڈبلیو آئی سی ای)(FWICE) نے شوٹنگ شروع ہونے سے عین قبل فلم سے دستبردار ہونے پر ان کا بائیکاٹ کردیا۔
EPAPER
Updated: May 27, 2026, 10:02 AM IST | Mumbai
بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ ان دنوں اپنی فلم ’’ڈان ۳‘‘ کے تعلق سے تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں۔ فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنے ایمپلائیز (ایف ڈبلیو آئی سی ای)(FWICE) نے شوٹنگ شروع ہونے سے عین قبل فلم سے دستبردار ہونے پر ان کا بائیکاٹ کردیا۔
بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ ان دنوں اپنی فلم ’’ڈان ۳‘‘ کے تعلق سے تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں۔ فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنے ایمپلائیز (ایف ڈبلیو آئی سی ای)(FWICE) نے شوٹنگ شروع ہونے سے عین قبل فلم سے دستبردار ہونے پر ان کا بائیکاٹ کردیا۔ اس نے انڈسٹری میں جاری بحث کو جنم دیا ہے۔ دریں اثناء فلمساز سنجے گپتا نے رنویر سنگھ پر لگائی گئی پابندی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی نامور اداکار پر پابندی لگانے سے نہ صرف اداکار بلکہ فلم انڈسٹری کے سیکڑوں کارکنوں کی روزی روٹی بھی متاثر ہوتی ہے۔
ایف ڈبلیو آئی سی ای نے رنویر سنگھ کے خلاف عدم تعاون کی ہدایت جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ ’’ڈان ۳‘‘ کے پروڈیوسرز فرحان اختر اور رتیش سدھوانی کی جانب سے فیڈریشن سے شکایت کے بعد کیا گیا۔ شکایت میں کہا گیا کہ رنویر سنگھ کے فلم سے اچانک باہر ہونے سے کافی مالی نقصان ہوا ہے۔ بتایا گیا کہ پروڈیوسرز کو تقریباً ۴۵؍ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:تائیوان ہندوستان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کے پانچویں بڑے اسٹاک مارکیٹ میں شامل
سنجے گپتا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہاکہ جب ایک اے لسٹ اداکار کسی فلم کی شوٹنگ کرتا ہے تو تقریباً۳۰۰؍ لوگ سیٹ پر کام کرتے ہیں، اس میں اسپاٹ بوائز، لائٹ مین، کیمرہ کریو، میک اپ آرٹسٹ، کاسٹیوم اسٹاف اور بہت سے دوسرے ملازمین شامل ہیں، اگر کسی اداکار کا بائیکاٹ کیا جاتاہے تو نہ صرف اداکار بلکہ سو سے زائد افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ فلم انڈسٹری بھی متاثر ہو رہی ہے۔
سنجے گپتا نے اپنی پوسٹ میں لکھا’’کسی بڑے اداکار کو روکنا ان پر پوری طرح اثر انداز نہیں ہو سکتا، لیکن ان کے ساتھ کام کرنے والے ملازمین بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ ایسے فیصلوں کا کیا فائدہ؟‘‘اس پورے تنازع کے حوالے سے ایف ڈبلیو آئی سی ای کے چیف ایڈوائزر اشوک پنڈت نے بتایا کہ رنویر سنگھ نے شوٹنگ شروع ہونے سے صرف تین ہفتے قبل فلم چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت تک فلم کی تقریباً تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ شوٹنگ کی جگہ طے ہو چکی تھی، ہوٹل بک ہو چکے تھے اور شوٹنگ کی اجازت حاصل کر لی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:اکشے کمار اور وپل امرت لال شاہ کی سب سے بڑی ایلین ایکشن اسپیکٹیکل فلم ’’سَموک ‘‘
اشوک پنڈت کا کہنا تھا کہ ’’اتنی بڑی فلم میں پہلے ہی بہت پیسہ لگایا جا چکا تھا۔ رنویر کے اچانک باہر ہونے سے پروڈیوسر کو مالی نقصان پہنچا۔ اس نقصان سے نہ صرف پروڈیوسرز بلکہ پوری ٹیم متاثر ہوتی ہے۔ فیڈریشن نے کئی بار رنویر سنگھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ نتیجتاً یہ فیصلہ کیا گیا۔‘‘