امریکی صدر کی سب سے بڑی کامیابی ریپبلکن پارٹی پر اُن کی مضبوط گرفت ہے۔ سب سے بڑی ناکامی ایران کے خلاف پسپائی ہے جسے وہ تسلیم نہیں کرنا چاہتے۔
EPAPER
Updated: September 20, 2026, 2:24 PM IST | Aakar Patel | Mumbai
امریکی صدر کی سب سے بڑی کامیابی ریپبلکن پارٹی پر اُن کی مضبوط گرفت ہے۔ سب سے بڑی ناکامی ایران کے خلاف پسپائی ہے جسے وہ تسلیم نہیں کرنا چاہتے۔
واشنگٹن ڈی سی میں اس ماہ ڈونالڈ ٹرمپ کیلئے تعمیر کی جانے والی یادگاری محراب پر کام شروع ہو رہا ہے۔ یہ ۲۵۰؍ فٹ اونچا ڈھانچہ بظاہر انگلستان سے امریکی آزادی کے ۲۵۰؍ سال مکمل ہونے کی یادگار ہوگا لیکن درحقیقت یہ ٹرمپ کی اپنی ایک یادگار ہے۔
کون نہیں جانتا کہ ٹرمپ خود کو تاریخ کا عظیم ترین امریکی صدر سمجھتے ہیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ سیاسی ہے۔ ٹرمپ سیاست کے میدان میں ’’بیرونی شخص‘‘ (آؤٹ سائیڈر) تھے جنہوں نے ۱۰؍ سال قبل ریپبلکن پارٹی پر اپنا اثرو رسوخ قائم کیا اور اب تک اپنی گرفت مضبوط رکھی ہے۔ امریکہ کی دونوں بڑی جماعتیں اپنے امیدواروں کا انتخاب پرائمریز (Primaries) کہلانے والے اندرونی انتخابات کے ذریعے کرتی ہیں۔ جن افراد کی ٹرمپ نے حمایت اور واہ واہی کی ہو، وہ اپنی ہی پارٹی (ریپبلکن) کے اُمیدواروں کو شکست دے سکتے ہیں۔ ریپبلکن ووٹرز کیلئے امیدوار کے پالیسی مؤقف یا پس منظر سے زیادہ اہم بات ٹرمپ سے ان کی وفاداری ہے۔ اسی خوبی نے انہیں پارٹی کا گویا ’’مالک‘‘ بنا دیا ہے۔
یہ ایک غیر معمولی کامیابی ہے کیونکہ ریپبلکن پارٹی کے اراکین و کارکنان خود کو نظریاتی (سیاست پر یقین رکھنے والے) اور قدامت پسند (کنزرویٹو) سمجھتے ہیں، جبکہ ٹرمپ نظریات کے قائل ہیں نہ ہی قدامت پسند ہیں۔ ممکن ہے کوئی کہے کہ اس نظریاتی لبادے کے پیچھے ریپبلکن ہمیشہ سے متعصب رہے ہیں تو اس سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا تاہم ٹرمپ کی خاصیت یہ ہے کہ انہوں نے اس لبادے کو ہٹا دیا ہے۔ لیکن پارٹی میں انہوں نے جو پکڑ بنائی ہے اس کا سہرا انہی کے سر باندھنا چاہئے کیونکہ آج ریپبلکن پارٹی ٹرمپ کی وجہ سے ہے۔ یہ ٹرمپ کی پارٹی بن چکی ہے۔
اسی جوڑ توڑ اور گھس پیٹھ کی بنیاد پر ٹرمپ نے تین انتخابات میں حصہ لیا اور دو میں کامیاب ہوئے۔ ۲۰۲۴ء کی دوسری فتح واقعی حیران کن تھی، خاص طور پر اس تناظر میں کہ اپنی پہلی مدتِ صدارت کے اختتام پر تشدد کو ہوا دینے کے سبب انہوں نے بحیثیت صدر جو کچھ بھی کمایا تھا، وہ غارت ہوگیا لہٰذا ٹرمپ ایک منفی کردار کے طور پر اُبھرے جو قانون اور روایات کو پیروں تلے مسلتا ہے۔ اتنا سب ہونے کے باوجود انتخاب جیتنا ان کی کامیابیوں میں سے پہلی تھی۔
وہ اسے لازمی طور پر اپنی عظمت کی دلیل کے طور پر پیش نہیں کرتے مگر کون نہیں جانتا کہ وہ قاتلانہ حملے کی ایک کوشش اور دو دیگر حملوں سے، جو ناکام ہوئے، بچ نکلے ہیں۔ غالباً اس بات سے بھی ان کے اس احساس کو تقویت ملتی ہے کہ وہ تاریخ ساز شخصیت ہیں۔
دوسری وجہ، جو وہ بیان کرتے ہیں، کا تعلق طرزِ حکمرانی سے ہے۔ وہ امیگریشن اور معیشت کے شعبوں میں اپنی کامیابیاں گناتے ہیں۔ ہندوستانی عوام امیگریشن سے متعلق ان کی کارروائیوں سے واقف ہیں جن میں غیر قانونی تارکین وطن کو قید کرنا، ہتھکڑیاں لگانا، انہیں ملک بدر کرنا، امریکی شہروں میں ’’آئیس‘‘ (ICE) جیسے ادارہ کو متحرک کرنا اور ایچ وَن بی ویزا کے نظام پر تنقید یا حملہ شامل ہے۔
معیشت کے حوالے سے ان کا دعویٰ اسٹاک مارکیٹ کی ریکارڈ بلندی، اپنی ٹیرف پالیسی، مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں بڑی کمپنیوں کی مسلسل سرمایہ کاری اور بے روزگاری کی کم شرح پر مبنی ہے۔ اس معاملے میں نتائج یا ریکارڈ ابھی حتمی طور پر طے شدہ نہیں ہیں لیکن وقت کے ساتھ صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔ ان کی موجودہ میعاد ِ صدارت میں ابھی دو سال باقی ہیں۔
اگر ہم ان کی کامیابیوں کا احاطہ انہی امور تک محدود رکھیں تو ممکن ہے کہ وہ امریکی سیاست کی کامیاب ترین شخصیات میں سے ایک کے طور پر ابھریں۔ ایک ایسا منفرد اور غیر روایتی لیڈر جس نے کسی بھی پیش رَو کے برعکس ایک بڑی سیاسی جماعت پر مکمل غلبہ حاصل کیا اور جو ٹیکنالوجی کے انتہائی غیر معمولی انقلاب کے دور میں اقتدار میں رہا۔ اس تناظر میں سابق صدور واشنگٹن، جیفرسن اور لنکن کی طرح ٹرمپ کا بھی کوئی مجسمہ یا یادگار دارالحکومت واشنگٹن میں قائم کی گئی تو حیرت نہیں ہوگی۔
بدقسمتی سے، ان کے ورثہ کی شناخت بنیادی طور پر مذکورہ بالا امور سے نہیں ہوگی۔ اس بات سے وہ خود بھی واقف ہیں۔ ٹرمپ کا نام ہمیشہ آیت اللہ خامنہ ای کے قتل اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی افراتفری کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ ایران کے خلاف کارروائی ایسی اسٹراٹیجک ناکامی ہے جس کی نوعیت افغانستان یا ویتنام کی ناکامیوں سے مختلف اور سنگین تھی۔ ان دونوں شکستوں کے بعد، امریکی افواج جب لڑکھڑاتی ہوئی واپس آئیں تو وہ ایسے ملک میں آئیں جس کی طاقت اور اثر و رسوخ کم نہیں ہوا تھا۔
یہ معاملہ مختلف ہے۔ میں اس’’حماقت بھری جنگ‘‘ سے عالمی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر نہیں کر رہا ہوں، وہ ایک الگ موضوع ہے۔ توانائی کی قیمتیں بالآخر کم ہونے کا امکان ہے، کم از کم اس وجہ سے کہ قابلِ تجدید توانائی (Renewables) کے ذرائع بھی اب فوسل فیولز (روایتی ایندھن) کی طرح ہی سہولت بخش بنتے جا رہے ہیں۔ چین اور اس کی ایجادات و جدت طرازی دنیا کو اس دہائی اور اگلی دہائی کے دوران پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار ختم کرنے پر مجبور کر دیں گی۔ یہ بات واضح ہے۔
پوری دنیا کیلئے اب امریکہ کے الفاظ غیر اہم ہوگئے ہیں۔ خود امریکی صدر کے دستخط شدہ امن معاہدے کی خلاف ورزی تقریباً فوراً ہی ہو گئی تھی۔ وہ نہ تو شکست تسلیم کر سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں جیتنا آتا ہے۔ ان کے سامنے صرف’’بُرے‘‘ اور ’’بدترین‘‘ آپشنز ہی ہیں۔ اُن کی گفتگو میں ان میں سے کوئی حقیقت نہیں ہے، ایک شعبدہ باز یہی کرسکتا ہے۔ ۱۰؍ مارچ کو انہوں نے کہا کہ ’’یہ جنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے‘‘ جبکہ ادھوری ہے۔ یہ وہی (فور ایور وَار) چیز بن چکی ہے جس کے خلاف ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران آواز اٹھائی تھی۔
ویتنام جنگ ختم ہونے ہونے تک اتنی غیر مقبول ہو چکی تھی کہ تب کے صدر نے شہری حقوق کے شعبے میں نمایاں کامیابیوں کے باوجود دوبارہ انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ٹرمپ کے پاس ’’دوبارہ‘‘ کا متبادل نہیں ہے۔ وہ ریٹائرمنٹ کی طرف بڑھیں گے مگر فاتح کی حیثیت سے نہیں، مفتوح کی حیثیت سے۔