• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران: ٹرمپ کی دھمکی کے بعد تہران میں حکومت حامی مظاہرہ، لاکھوں کی شرکت

Updated: September 19, 2026, 8:02 PM IST | Tehran

ایران کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایران میں حکومت حامی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا، جس میں لاکھوں ایرانیوں نے شرکت کی، جس میں امریکہ اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے گونج اٹھے۔

Iranian military women participating in the demonstration. Photo: X
مظاہرے میں شامل ایران کی فوجی خواتین۔ تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سات ماہ کی جنگ کے بعد تعطل کو توڑنے کے لیے مزید فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں،تہران نے ڈونالڈ ٹرمپ کی دھمکی  کہ وہ ایران کوتباہ کر سکتے ہیں، کے خلاف حکومت کے حامی ایک بڑا مارچ نکالا ۔کہا جاتا ہے کہ جمعہ کو حکومت کے زیر اہتمام اس مارچ میں لاکھوں ایرانیوں نےشرکت کی،جس میں عوام نے فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد سے اس طرح کے سب سے بڑے مظاہرے میں ہتھیار اٹھانے کے لیے اپنی تیاری کا عہد کیا۔واضح رہے کہ یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ نے اس ہفتے تہران پر رواں سال کے شروع میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام لگایا تھا جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ایران میں امریکی جنگی جرائم کے معقول شواہد ملے‘‘

اس مارچ میں شامل ۲۴؍ سالہ مرضیہ آفاقی، جو اپنے چھوٹے بچے اور شوہر کے ساتھ ریلی میں شریک تھیں، نے کہا، ’’میں یہاں ٹرمپ کو بتانے آئی ہوں کہ ہم ایرانیوں کو اپنی سرزمین کے خلاف ان کی دھمکیوں سے کوئی خوف نہیں ہے۔تاریخ میں کوئی بھی ایران پر حملہ کر کے وہاں باقی نہیں رہ سکا۔‘‘
بعد ازاں یہ ریلی ایران کے لیے فوجی ساز و سامان کی نمائش کا بھی موقع تھی۔اس میں اینٹی ایئر کرافٹ بیٹریاں نمائش کے لیے رکھی گئی تھیں، جبکہ سیاہ ہیڈ اسکارف میں ملبوس خواتین گارڈ ممبران ٹرک پر نصب مشین گنوں کے ساتھ بیٹھی تھیں۔اس کے علاوہ گارڈ نے ڈرونز کی نمائش کی جو آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے خلاف استعمال کیے گئے ہیں،ہرمز جہاں ایران کے حملوں اور دھمکیوں نے خلیجی ممالک سے باقی دنیا کو تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے۔
تہران کے گارڈ چیف جنرل حسن حسن زادہ نے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ۶؍ لاکھ سے زائد افراد نے مظاہروں میں حصہ لینے کے لیے اپنا نام درج کرایا ہے، جبکہ  دس لاکھ سے زائد افراد کے تربیت میں حصہ لینے کی توقع ہے۔جمعہ کی صبح، نشریاتی ادارے نے اندازہ لگایا کہ۳؍ لاکھ سے زیادہ لوگ سڑکوں پر تھے۔علاوہ ازیں بسیج کے نئے سربراہ حسین طائب نے ریلی شروع ہوتے ہی ایک تقریر میں اعلان کیا کہ رضاکار ’’مکمل دفاع‘‘ کے لیے تیار ہوں گے اور جلد ہی دیگر شہروں میں بھی اسی طرح کی ریلیاں نکالی جائیں گی۔جب صدر مسعود پزشکیان، فوجی کمانڈروں اور دیگر سینئر حکام نے مارچ دیکھا، طائب نے مزید کہا،’’ نئے تربیت یافتہ ایران کے دشمنوں کے لیے ’’ڈراؤنا خواب‘‘بنیں گے،‘‘

یہ بھی پڑھئے: جنگ کے درمیان ایرانی صدر پیزشکیان امریکہ جائینگے

کچھ شرکاء نے امریکہ اور اسرائیل کے جھنڈوں کو روند ڈالا۔ دوسروں نے ’’امریکہ مردہ باد‘‘ اور "اسرائیل مردہ باد" کے نعرے لگائے۔اس کے علاوہ  ،محدود فوجی تربیت حاصل کرنے اور ’’جانفدائے ایران‘‘ یا ’’ ایران کے لیے اپنی جان قربان کرنے والوں‘‘نے رضاکارانہ طور پر کام  بڑی تعداد میں  اپنے نام درج کروائے۔ یہ رضاکار نیم فوجی انقلابی گارڈ اور بسیج ملیشیا کے لیے سیکیورٹی کی ایک اضافی پرت ہوں گے، جس نے حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ مارچ میں ، جنگی وردی میں، جھنڈے اٹھائے ہوئے، جوانوں نے مارچ کیا، جسے دیکھ کر ناظرین خوشی سے جھوم اٹھے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا CNN، MS NOW اور پولیٹیکو کو وہائٹ ہاؤس سے باہر رکھنے کا اعلان

 جمعہ کے مارچ سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کی قیادت میں طائب جیسے سخت گیر مستقبل میںحکومت کے خلاف کسی بھی مظاہرے کو دبانے کے لیے زیادہ تیار ہوں گے۔مزید برآں مئی میں، سرکاری حکام نے کہا تھا کہ ایران میں، جس کی کل آبادی تقریباً۹۰؍ ملین ہے،۳۰؍ ملین سے زیادہ لوگوں نے آن لائن فارم کے ذریعے یا عوامی اجتماعات میں ملک کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK