• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا CNN، MS NOW اور پولیٹیکو کو وہائٹ ہاؤس سے باہر رکھنے کا اعلان

Updated: September 19, 2026, 3:35 PM IST | Washington

امریکی صدر نے تینوں اداروں پر ’جعلی خبریں‘ نشر کرنے کا الزام لگایا، مزید میڈیا اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی دھمکی؛ قانونی ماہرین نے اقدام کو آئینی آزادیٔ صحافت سے جوڑا۔

Donald Trump. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے CNN، MS NOW اور پولیٹیکو کو وہائٹ ہاؤس سے باہر رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے ۱۸؍ ستمبر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ یہ فیصلہ ان اداروں کی جانب سے ان کی انتظامیہ کے بارے میں مسلسل ’’جعلی خبریں‘‘ شائع کرنے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی اشارہ دیا کہ مزید میڈیا اداروں کو بھی ایسی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وہ CNN، MS NOW اور پولیٹیکو کو ’’فوری طور پر‘‘ وہائٹ ہاؤس سے باہر کر رہے ہیں کیونکہ یہ ادارے مسلسل ’’جعلی خبریں‘‘ رپورٹ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق میڈیا اداروں کو امریکی صدر، ٹرمپ انتظامیہ یا امریکہ سے متعلق ’’افسانے اور جھوٹ‘‘ لکھنے یا نشر کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ بعد میں اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھی انہوں نے کہا کہ ان اداروں کی خبریں جعلی ہیں اور انہیں ایسی رپورٹیں دیکھ کر ’’بہت اکتاہٹ‘‘ ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: روس میں پارلیمانی انتخابات کا آغاز ، یوکرین جنگ کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ یہ اقدام اسی وقت کیوں کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے کوئی ایک مخصوص واقعہ نہیں ہے بلکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران شائع ہونے والی مجموعی رپورٹیں اس فیصلے کی وجہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ان اداروں کو اپنے دفتر میں نہیں چاہتے۔ تاہم وہائٹ ہاؤس نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ پابندی کا دائرہ کیا ہوگا اور کیا اس کا مطلب صحافیوں کے داخلے، پریس پاس یا وہائٹ ہاؤس کی تمام سرگرمیوں تک رسائی ختم کرنا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اعلان کے کئی گھنٹے بعد بھی CNN، MS NOW اور پولیٹیکو کے صحافی وہائٹ ہاؤس کے احاطے میں کام کرتے دکھائی دیے۔ اس لیے فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اعلان عملی طور پر کب اور کس شکل میں نافذ ہوگا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہائٹ ہاؤس نے بھی پابندی کے طریقۂ کار کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

یہ بھی پڑھئے: جنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار نبھانے سے انکار

سی این این نے اپنے وہائٹ ہاؤس بیورو کے صحافیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسے امریکی آئین کے تحت حکومتی مداخلت کے بغیر رپورٹنگ کا حق حاصل ہے۔ ادارے کے مطابق اگر ٹرمپ کی اعلان کردہ پابندی نافذ کی گئی تو یہ آئین میں محفوظ اس بنیادی حق پر غیر قانونی حملہ ہوگا۔ پولیٹیکو نے بھی کہا کہ وہ وہائٹ ہاؤس اور آنے والی انتظامیہ کے بارے میں منصفانہ رپورٹنگ جاری رکھے گا اور اپنے پہلی ترمیم کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی راستہ اختیار کرے گا۔ MS NOW نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ وہائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس اسوسی ایشن نے بھی CNN، MS NOW اور پولیٹیکو کے صحافیوں کی حمایت کی۔ تنظیم کے مطابق امریکی آئین صحافت کو حکومتی مداخلت سے تحفظ دیتا ہے اور یہ تحفظ اس بات پر منحصر نہیں کہ صدر کسی میڈیا ادارے کی رپورٹنگ یا سوالات کو پسند کرتے ہیں یا نہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی کے نائٹ فرسٹ امینڈمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ جمیل جعفر نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ صدر صحافیوں کو ان کی رپورٹنگ ناپسند ہونے کی وجہ سے سزا نہیں دے سکتے۔

اس معاملے میں آئینی سوال اس بات پر بھی منحصر ہوگا کہ پابندی کس حد تک نافذ کی جاتی ہے۔ امریکی عدالتوں نے صدر کو بعض محدود مواقع، جیسے اوول آفس کی مخصوص تقریبات یا محدود پریس پولز، میں صحافیوں کی رسائی کے حوالے سے کچھ صوابدید دی ہے، لیکن وہائٹ ہاؤس کی عمومی پریس سہولتوں یا سرکاری طور پر دستیاب صحافتی رسائی سے کسی ادارے کو اس کی رپورٹنگ کی بنیاد پر خارج کرنے پر پہلی ترمیم اور قانونی طریقۂ کار کے تحت زیادہ سخت سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: خیبر پختونخوا: پولیس مرکز کے قریب مسجد میں کار بم دھماکہ،۱۵؍ سے زائد ہلاک

یاد رہے کہ ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان کشیدگی ان کی موجودہ مدتِ صدارت تک محدود نہیں رہی۔ ۲۰۲۵ء میں ان کی انتظامیہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بعض صدارتی تقریبات سے اس وقت محدود کیا تھا جب ادارے نے خلیجِ میکسیکو کے لیے ٹرمپ کی پسندیدہ اصطلاح استعمال کرنے سے انکار کیا۔ ایک وفاقی جج نے بعد میں اے پی کی رسائی بحال کرنے کا حکم دیا، اگرچہ اس معاملے پر قانونی تنازع مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ٹرمپ کی پہلی مدت میں بھی CNN کے صحافی جم اکوسٹا کا پریس پاس منسوخ کرنے کی کوشش ہوئی تھی، جس کے بعد عدالت نے ان کی رسائی بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ ٹرمپ نے اس بار CNN، MS NOW اور پولیٹیکو کے علاوہ نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کا نام بھی لیتے ہوئے کہا کہ مزید ’’جعلی نیوز‘‘ اداروں کو بھی ایسی پابندی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس اعلان کے وقت نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں چند ہفتے باقی ہیں، جن میں کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول داؤ پر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK