امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایسے قانون پر دستخط کردیئے ہیں، جس کے تحت روسی تیل اور گیس خریدنے والے ہندوستان سمیت بعض ممالک پر ۱۰۰؍ فیصد تک ٹیرف عائد کیا جاسکتا ہے۔ تاہم قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی ٹیرف خودکار طور پر لاگو نہیں ہوں گے۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 8:02 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایسے قانون پر دستخط کردیئے ہیں، جس کے تحت روسی تیل اور گیس خریدنے والے ہندوستان سمیت بعض ممالک پر ۱۰۰؍ فیصد تک ٹیرف عائد کیا جاسکتا ہے۔ تاہم قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی ٹیرف خودکار طور پر لاگو نہیں ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایک ایسے قانون پر دستخط کرکے اسے منظوری دے دی، جس کے تحت انہیں روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ہندوستان اور دیگر ممالک پر ۱۰۰؍ فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا ہے۔ تاہم بل پر دستخط کرکے اسے قانون بنانے سے یہ ٹیرف خودکار طور پر نافذ نہیں ہوں گے۔ قانون کے مطابق، یہ ٹیرف ان پانچ ممالک پر عائد کیے جاسکتے ہیں جنہوں نے قانون کے نافذ ہونے سے قبل ۱۲؍ ماہ کے دوران روسی خام تیل یا قدرتی گیس کی سب سے زیادہ مقدار درآمد کی ہو، اگر وہ قانون کے نفاذ کے ۳۰؍ دن بعد بھی جان بوجھ کر روسی خام تیل خریدنا جاری رکھتے ہیں۔ واشنگٹن طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ روسی توانائی کی خریداری سے ماسکو کو یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے مالی وسائل مل رہے ہیں، جو فروری ۲۰۲۲ء میں شروع ہوئی تھی۔ یہ بل بدھ کو ایوانِ نمائندگان سے منظور ہوا تھا۔ سینیٹ نے اسے ۷؍ اگست کو منظوری دی تھی۔ اس قانون کا نام آنجہانی ریپبلکن قانون ساز لنڈسی گراہم کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہوں نے اس قانون کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور جولائی میں انتقال کرگئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا CNN، MS NOW اور پولیٹیکو کو وہائٹ ہاؤس سے باہر رکھنے کا اعلان
ٹیرف کا نشانہ ان پانچ ممالک میں سے کسی کو بھی بنایا جاسکتا ہے، جن کے بارے میں یہ شناخت کی گئی ہو کہ وہ روس کو تیل سے متعلق پابندیوں سے بچنے میں مدد دے رہے ہیں۔ تاہم، وہ ممالک جنہوں نے روسی قدرتی گیس کی درآمد میں نمایاں کمی کی ہے، یا جن کی روسی گیس کی درآمد روس کی مجموعی گیس برآمدات کے ۱۵؍ فیصد سے کم ہے، انہیں اس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ ایوانِ نمائندگان سے بل کی منظوری کے بعد ہندوستان کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ نئی دہلی اپنے عوام کی توانائی کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ وزارت نے کہا، ’’وہ توانائی کے متنوع ذرائع اور بدلتی ہوئی مارکیٹ کی صورتحال کی بنیاد پر ایسا کرتا رہے گا۔‘‘ وزارتِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکی حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران اس معاملے کے دوطرفہ تعلقات اور عالمی توانائی مارکیٹ پر ممکنہ اثرات کو ’’ہندوستانی فریق نے بہت واضح انداز میں پیش کیا ہے۔‘‘ وزارت نے کہا، ’’ہندوستانی فریق نے اپنے تجارتی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کے عزم کو بھی واضح کیا ہے۔ حکومت ان پیش رفت کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ہندوستانی تجارتی اور صنعتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: گرین لینڈ، ڈنمارک اور امریکہ کے درمیان آرکٹک سیکوریٹی معاہدہ اگلے ہفتے متوقع
یہ قانون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستان نے رواں سال روس سے تیل کی خریداری میں اضافہ کیا ہے، جبکہ نئی دہلی اور واشنگٹن ایک ابتدائی تجارتی معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد اپریل میں ہندوستان کی روسی تیل کی درآمد ۱۱؍ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اس سے قبل ہندوستان نے روسی تیل کی خریداری کم کردی تھی، جو دسمبر میں ۳۸؍ ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی تھی۔ گزشتہ ایک سال کے دوران روسی خام تیل کی مسلسل خریداری کے معاملے پر واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان سفارتی کشیدگی رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اگست ۲۰۲۵ء میں یوکرین جنگ کے دوران روس سے تیل خریدنے پر ہندوستان پر ۲۵؍ فیصد تعزیری ڈیوٹی عائد کی تھی۔ اس کے بعد امریکہ کی جانب سے ہندوستان پر مجموعی ٹیرف کی شرح ۵۰؍ فیصد ہوگئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: روس میں پارلیمانی انتخابات کا آغاز ، یوکرین جنگ کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات
جنوری میں امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ کی جانب سے تعزیری ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد ہندوستان نے روسی تیل خریدنا بند کردیا ہے۔ فروری میں نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے پر اتفاق کے بعد ٹرمپ نے روسی تیل کی خریداری سے متعلق اضافی ۲۵؍ فیصد تعزیری ڈیوٹی ختم کردی تھی۔ بعد میں امریکی محکمۂ خزانہ نے روسی تیل کی ان کھیپوں پر عالمی پابندیاں عارضی طور پر روک دی تھیں، جو ۱۱؍ مارچ سے قبل ہی روانہ ہوچکی تھیں۔ یہ اقدام مغربی ایشیا میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والی سپلائی میں رکاوٹوں کے درمیان کیا گیا تھا۔