• Thu, 17 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: روسی تیل خریدنے پر ہندوستان پر ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف عائد کرنے والا بل منظور

Updated: September 17, 2026, 7:03 PM IST | Washington

امریکی ایوان نمائندگان نے ہندوستان سمیت دیگر ممالک پر روسی تیل خریدنے پر۱۰۰؍ فیصد ٹیرف عائد کرنے کی اجازت دینے والا بل منظور کر لیا، جس کے جواب میں ہندوستان نے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام کے لیے توانائی کی حفاظت کو متنوع ذرائع اور بدلتی ہوئی مارکیٹ کی بنیاد پریقینی بناتا رہے گا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی ایوان نمائندگان نے بدھ کو ایک قانون سازی منظور کی جس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ہندوستان اور روسی تیل اور گیس خریدنے والے دیگر ممالک پر۱۰۰؍ فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔یہ بل۲۶۲؍ ووٹوں کے حق میں اور۱۵۹؍ مخالفت میں منظور کیا گیا، اور اب اسے صدر کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔جمعرات کو، ہندوستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ حکومت اپنے عوام کے لیے توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ وہ متنوع ذرائع اور بدلتی ہوئی مارکیٹ کی بنیاد پر ایسا کرتی رہے گی۔وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران، دوطرفہ تعلقات کے ساتھ بین الاقوامی توانائی مارکیٹ پر اس معاملے کے ممکنہ مضمرات کو ہندوستانی فریق کی جانب سے بہت واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا ہندوستانی فریق نے اپنے تجارتی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کے اپنے عزم کو بھی واضح کیا ہے۔  مزید برآں حکومت ان پیش رفتوں کے مضمرات سے نمٹنے کے لیے ہندوستانی تجارت اور صنعتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران نے جنگ بندی کیلئے براہ راست رابطہ کیا: ٹرمپ کا دعویٰ

مسودہ قانون کے مطابق، ٹیرف ان پانچ ممالک پر عائد ہو سکتا ہے جنہوں نے قانون کے نافذ ہونے سے پہلے۱۲؍ مہینوں میں روسی خام تیل یا قدرتی گیس کی سب سے زیادہ مقدار درآمد کی ہے، اگر وہ قانون کے نافذ ہونے کے۳۰؍ دن بعد بھی جان بوجھ کر روسی خام تیل خریدنا جاری رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ طویل عرصے سے دعویٰ کرتا رہا ہے کہ روسی توانائی کی خریداری ماسکو کی یوکرین پر جنگ کو ہوا دے رہی ہے جو فروری۲۰۲۲ء میں شروع ہوئی تھی۔ اس قانون کا نام مرحوم قانون ساز لنڈسے گراہم کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہوں نے جولائی میں اپنی موت سے پہلے اس کی قیادت کی تھی۔ٹیرف ان پانچ ممالک میں سے کسی کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں جن کی شناخت روس کو تیل سے متعلق پابندیوں سے بچنے میں مدد کرنے کے طور پر کی گئی ہے۔تاہم، وہ ممالک جنہوں نے روسی قدرتی گیس کی درآمد میں نمایاں کمی کی ہے، یا جن کی روسی گیس کی درآمد روس کی گیس کی برآمدات کا۱۵؍ فیصد سے کم ہے، مستثنیٰ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا بھوٹان دورہ، اہم لیڈروں سےملاقات

یاد رہے کہ یہ قانون سازی اس وقت سامنے آئی ہے جب ہندوستان نے اس سال روسی تیل کی خریداری میں اضافہ کیا ہے، جب کہ نئی دہلی اور واشنگٹن ابتدائی تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ-اسرائیل کی ایران پر جنگ کے بعد اپریل میں ہندوستان کی روسی تیل کی درآمد۱۱؍ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔اس سے پہلے، ہندوستان نے روسی تیل کی خریداری میں کمی کی تھی، جو دسمبر میں۳۸؍ ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی تھی۔ جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے ہندوستان پر روسی توانائی کی خریداری پر اضافی۲۵؍ فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جس سے کل ٹیرف ۵۰؍ فیصد ہو گیا تھا۔ امریکی خزانہ نے بعد میں روسی تیل کی ترسیل پر پابندیوں کو روک دیا جو امریکہ - ایران تنازع کی وجہ سے سپلائی میں خلل کے درمیان۱۱؍ مارچ سے پہلے ہی ٹرانزٹ میں تھیں۔ تاہم  فروری کو عبوری دوطرفہ تجارتی معاہدے پر اتفاق ہونے کے بعد، ہندوستانی اشیا پر امریکی ٹیرف ۵۰؍ فیصد کی مشترکہ شرح سے کم ہو کر۱۸؍ فیصد ہوگئی۔
۳؍ ستمبر کو، ہندوستان کے وزیر تجارت پیوش گوئل نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کی حتمی تفصیلات کا اعلان اس وقت کیا جائے گا جب واشنگٹن نئی دہلی کو مسابقتی ممالک پر ٹیرف کا فائدہ دینے کے قابل ہو جائے گا۔ساتھ ہی گوئل نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان نے ہر حساس شعبے، جیسے زراعت، ماہی گیری اور مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں ایک اچھا معاہدہ حاصل کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK