مت بھولئے کہ دینی ودُنیوی تعلیم دوآنکھوں کی طرح ہیں

Updated: September 04, 2020, 8:55 AM IST | Mudassir Ahmed Qasmi

ہم سب اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند رہتے ہیںاورہماری کوشش ہوتی ہے کہ انہیں بہترین تعلیم ملے تاکہ آنے والا وقت تمام سہولتوں کے ساتھ اس طرح اُن کا استقبال کرے کہ وہ عزت، دولت اور شہرت کے بام عروج پر پہنچ جائیں

Students
بچوں کی دنیوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کی فکر کیجئے جو زیادہ ضروری ہے

ہم سب اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند رہتے ہیںاورہماری کوشش ہوتی ہے کہ انہیں بہترین تعلیم ملے تاکہ آنے والا وقت تمام سہولتوں کے ساتھ اس طرح اُن کا استقبال کرے کہ وہ عزت، دولت اور شہرت کے بام عروج پر پہنچ جائیں۔ ہم اپنی اس فکر کی تسکین کے لئے بہترین اساتذہ اور تعلیم گاہوں کا انتخاب کرتے ہیںاور اپنی خون پسینے کی کمائی صرف کرکے اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ اِس تعلق سے ہماری سنجیدگی کا عالم یہ ہوتا ہے کہ مقصد کی تکمیل میں ہم ذرہ بھر رُکاوٹ یا خلل کو برداشت نہیں کرتے۔ ہمارے اِس طرزِ عمل کی بہترین مثال موجودہ وقت میں کورونا وائرس کی وبا  ہے جس کے نتیجے میں اسکول و کالج کے بند ہونے کی وجہ سے ہماری بے چینی کی کیفیت ہے؛ گویا کہ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ نظامِ تعلیم کا یہ تعطل ہمارے بچوں کے مقصد کو متا ثر کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نقصان کی بھر پائی کے لئے ہم متعدد طریقے اپنا رہے ہیں یعنی اُن کے لئے گھر پر آن لائن یا آف لائن تعلیم کا انتظام کر رہے ہیں۔
یقیناً بچوں کے حوالے سے مذکورہ طرزِ عمل ہماری پُر خلوص محبت کا نتیجہ اور قابلِ تعریف ہے؛ اِس کے برخلاف بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں کسی بھی درجے میں ہماری کوتاہی بچوں کے ساتھ دشمنی پر محمول ہوگی اور لازماً اس کا اثر بچوں کے مستقبل پر پڑے گا۔ عصری تعلیم کے حوالے سے مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں جب ہم اپنے بچوں کی دینی تعلیم کے تعلق سے اپنے طرزِ عمل کا انصاف کے ساتھ جائزہ لیتے ہیںتو انتہائی مایوس کن منظر ہماری نظروں کے سامنے گھوم جاتاہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اپنے بچوں کی دینی تعلیم کے باب میں وہ توجہ نہیں دے پاتے جس کی ضرورت ہے۔ ذرا غور کریں کہ جس تندہی اور پابندی سے ہم اپنے بچوں کواسکول بھیجتے ہیں کیا اسی جذبے سے ہم اپنے بچوں کو مکتب بھی بھیجتے ہیں؟ اسی طرح سے جس فکر کے ساتھ اسکول کے اسباق و ہوم ورک پر توجہ دیتے ہیں کیا اُسی فکر کے ساتھ مکتب کے اسباق و ہوم ورک بھی ہم کراتے ہیں؟ یقیناً دونوں تعلیم کے حوالے سے طرزِ عمل میں کافی تضاد اور فرق ہے جو ہمارے فکری زوال کا غماز ہے۔
لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ ہم ایسی تعلیم پر تو پوری توجہ دے رہے ہیں جس کا فائدہ اِس دنیا تک ہی محدودہے لیکن اُس تعلیم سے اپنے بچوں کو کما حقہ مزین نہیں کر پارہے ہیں جس کا فائدہ دونوں جہان کو محیط ہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ہم دنیاوی تعلیم کے تھوڑے نقصان کو بھی برداشت نہیں کر پاتے لیکن دینی تعلیم کے عدمِ حصول پر بے حسی کی چادر تانے رہتے ہیں جبکہ اِس صورت میں دنیا و آخرت دونوں جگہ خسارہ یقینی ہے۔
یقیناً خوش نصیب ہیں وہ افراد جو اپنے بچوں کی دینی تعلیم کے حوالے سے بیداری کا ثبوت دے رہے ہیں۔ درحقیقت یہ لوگ اپنے بچوں کی ہمیشہ ہمیش کی زندگی کو کامیاب و تابناک بنارہے ہیں۔ چنانچہ کورونا وائرس کے اِس وبائی دور میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بہت سارے لوگوں نے موقع کو غنیمت جان کر اپنے بچوں کے لئے خصوصی دینی تعلیم کا انتظام کیاحتیٰ کہ کچھ لوگوں نے قرآن کریم کے حفظ کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ ہم میں سے جن لوگوں سے بھی اِس باب میں اب تک کوتاہی ہوئی ہے، اُنہیں چاہئے کہ بلا تا خیر اِس جانب توجہ دیں اور اپنے بچوں سے حقیقی محبت کا عملی ثبوت پیش کریں۔
ایسے وقت میں جب ہندوستانی مسلمانوں کی زبوں حالی و پریشانی کا واحد حل تعلیم میںدیکھا جارہا ہے جو یقیناً صحیح سوچ اور درست نظریہ ہے، ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ محض دنیاوی تعلیم تمام مسئلوں کا حل نہیں ہے جب تک کہ دینی تعلیم کی رہنمائی نہ ملے۔غور کریں کہ ایک ایسا مسلم افسر جو دین کی تعلیم سے نا بلد ہو، وہ مسلمانوں کی مذہبی ضرورت کو کیا سمجھے گااور عام مسلمان اس سے کیا توقع وابستہ رکھیں گے؟ اس لئے اب ہماری سمجھ میں یہ بات آجانی چاہئے کہ دین اور دنیا کی تعلیم کو دو الگ خانوں میں بانٹ کر ایک سے قربت اور دوسرے سے دوری اختیار کر کے ہم کامیاب نہیں ہوسکتے؛ ہمیں دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ 
ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ دین کی اتنی تعلیم ہر ایک کے لئے ضروری ہے جس سے وہ فرائض و وا جبات اور حلال و حرام کو سمجھ سکے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے ایک طبقے نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یہ سب مولانا لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ یہ سوچ غلط فہمی بلکہ لاعلمی کا نتیجہ ہے۔  ایسے لوگوں کے ذہن میں یہ بات رہنی چاہئے کہ مذہب ِ اسلام میں کوئی ایسا نظام نہیں ہے جس کے تحت مذہبی پیشوا عام لوگوں کو دینی امور کے انجام دینے سے ہدیہ وغیرہ وصول کر کے بچا دے۔ حتیٰ کہ اسلام میں امامت،خطابت وغیرہ پر بھی صرف مولانا حضرات کی اجارہ اداری نہیں ہے بلکہ ایک عام مسلمان جو امامت کی شرائط پوری کرتا ہو وہ بھی امامت کرسکتا ہے۔ جنازہ کی نماز پڑھانے کا حقدار میت کا قریبی رشتہ دار ہے اور اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ عالم ہو۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں اور بالواسطہ ملت کے مستقبل کو محفوظ و کامیاب بنانے کے لئے بیک وقت دینی و دنیاوی تعلیم کا انتظام کریں اور دونوں تعلیم کو ہم اپنی دو آنکھوں کی طرح سمجھیں کہ اگر ایک میں روشنی کم ہوئی یا غائب ہوئی تو لامحالہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑےگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK