بچوں کی صرف جسمانی دماغی تربیت کی فکر نہ کریں بلکہ دِل کی پرورش پربھی توجہ دیں

Updated: November 20, 2020, 12:11 PM IST | Muhiyuddin Ghazi

اگر آپ اپنے بچے کے دل کی پرورش کا ارادہ رکھتے ہیں تو پھر سنجیدگی سے سوچیں کہ آپ کے بچے کے دل کو کیسا ہونا چاہئے، اس کے دل کے اندر کن اوصاف کی آبیاری بہت ضروری ہے۔ وفاداری، ایمان داری، خود داری، سخاوت پسندی، شجاعت پسندی، طہارت پسندی، نیکی سے محبت اور برائی سے نفرت وہ چیزیں ہیں جو دل کو کمال عطا کرتی ہیں۔ آپ ایک اچھے اور باکمال دل کا تصور کرکے اپنے بچے کی شخصیت میں قیمتی اوصاف پیدا کرسکتے ہیں۔

Children Health
اپنے بچے کی ایک ایک حرکت اور ایک ایک ادا کے پیچھے اس کے دل کی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

بچوں کی جسمانی صحت کا خیال رکھنا بہت اچھی بات ہے، ان کے جسم کی بہتر نشوونما کے لئے اچھی غذا، صحت بخش فضا اور حسب ضرورت ٹانک اور دوا کا انتظام ضروری ہے۔ صحت مند دماغ کیلئے صحتمند جسم چاہئے۔ جس کا تقاضا یہ ہے کہ دماغ کی صحت اور جسم کی صحت دونوں ہی پر خوب توجہ دی جائے۔
لیکن ہم اپنے بچوں کے سلسلے میں سخت کوتاہی کرتے ہیں جب ہماری ساری توجہ صرف جسم اور دماغ کی پرورش تک محدود ہوجاتی ہے۔ اپنے بچوں کے فربہ ہوتے ہوئے جسم کو دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں، اور ان کی یادداشت اور ذہانت کے مظاہرے ہمارے اندر مسرت بھری گدگدی کرتے ہیں۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہمارے رنگین خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے سارے ہی مطلوبہ رنگ مہیا ہوتے جارہے ہیں لیکن اس خوشی میں ہم بچے کی شخصیت کے سب سے اہم عنصر یعنی دل کو فراموش کردیتے ہیں۔ اور پھر زندگی بھر اس کے برے نتائج کا سامنا کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جسم اور دماغ کی پرورش میں مگن ہوکر جب ہم بچے کے دل کی پرورش بھول جاتے ہیں تو یہ ہماری بہت بڑی کوتاہی ہوتی ہے۔ کیوں کہ دل کی پرورش کے بغیر ہم چالاک لومڑیاں، شریر بندر، تیز رفتار گھوڑے، سخت جان گدھے اور دوسرے بھانت بھانت کے جانور تو تیار کردیتے ہیں، لیکن درد مند اور شکرگزار انسان نہیں تیار کرتے ہیں۔
اگر آپ اپنے بچے کے دل کی پرورش کا ارادہ رکھتے ہیں تو پھر سنجیدگی سے سوچیں کہ آپ کے بچے کے دل کو کیسا ہونا چاہئے، اس کے دل کے اندر کن اوصاف کی آبیاری بہت ضروری ہے۔ وفاداری، ایمان داری، خود داری، سخاوت پسندی، شجاعت پسندی، طہارت پسندی، نیکی سے محبت اور برائی سے نفرت اور ایسے بہت سے اوصاف مل کر دل کو کمال عطا کرتے ہیں۔ آپ ایک اچھے اور باکمال دل کا تصور کرکے اپنے بچے کے دل کی بہتر نشوونما پر پورا دھیان دیں۔ اس یقین کے ساتھ کہ انسان کی اصل شخصیت تو اس کے دل سے عبارت ہوتی ہے۔
یقینی بنائیں کہ اللہ کی محبت، اللہ کی ناراضگی کا خوف، اللہ کی عظمت کا احساس، اللہ کی نعمتوں کا شعور، اور اللہ کی بندگی کا شوق بچے کے دل میں مسلسل پرورش پاتا رہے۔ جان لیں کہ سورتیں اور دعائیں یاد کرانا، ناظرہ قرآن پڑھانا، نماز کا طریقہ سکھانا، یہ سب اپنی جگہ بہت مفید اور ضروری کام ہیں، لیکن صرف ان کاموں سے دل کی تعمیر نہیں ہوتی ۔ دل کے اوصاف پر الگ سے خصوصی توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔ بچے کے دل میں انسانوں سے ہمدردی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر دیں۔ وہ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر بے چین ہو جائے۔ کسی کو دکھ دینے کا خیال بھی اس کے دل میں نہ آئے، ظلم سے اسے شدید نفرت ہوجائے، انسانوں کی خدمت میں اسے خوشی محسوس ہو اور  ضرورتمندوں کی مدد کرکے نیز بے سہاروں کو سہارا دے کر اسے بے بہا دولت پانے کا احساس ہو۔
اپنے بچے کی ایک ایک حرکت اور ایک ایک ادا کے پیچھے اس کے دل کی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جیسے ہی محسوس کریں کہ دل میں کوئی منفی جذبہ پروان چڑھنے لگا ہے، فوراً اسے خطرناک بیماری سمجھ کر اس کا  علاج کریں۔ اگر آپ کے کسی بچے نے کوئی مزے دار چیز اکیلے ہی کھالی، تو سمجھ لیں کہ اس کے دل میں خود غرضی اور لالچ کے جراثیم پل رہے ہیں، جب کہ مزے دار چیز کو تقسیم کرکے کھانے کا مطلب ہے کہ اس کے دل میں سخاوت اور کشادگی آرہی ہے اور یہ بہت اچھی بات ہے۔
اگر والدین یا گھر کے دوسرے بزرگ گھر اور باہر کے پرمشقت کاموں میں مصروف ہیں، لیکن بچے ان کے کاموں میں ہاتھ نہیں بٹاتے، اور اپنی تفریحات میں مگن ہیں، تو سمجھ لیں کہ ان کے دل میں نرمی اور سوز پیدا ہونے سے رہ گیا ہے۔ اگر فوری توجہ نہیں دی گئی تو ان کے دل پتھر کی طرح سخت ہوسکتے ہیں۔
دھیان دیں کہ بچے اپنے رشتے داروں کے سلسلے میں کیا احساس رکھتے ہیں، کہیں ان کے دلوں میں رشتے داروں کے سلسلے میں نفرت کے جذبات تو نہیں پل رہے ہیں۔ وہ آپ کے سامنے کسی رشتے دار کی برائی اور شکایت کرتے ہیں، یا سب کے سلسلے میں اچھے جذبات رکھتے ہیں؟ کوئی رشتے دار آپ سے ملنے گھر آتا ہے تو بچے خوشی سے اس کا استقبال کرتے ہیں، یا بے زاری اور روکھے پن کا رویہ اختیار کرتے ہیں، آپ بچے کے رویے سے اس کے دل کی نشوونما کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ جو بچہ اپنے دل میں اپنے ہی عزیز واقارب سے نفرت پالتے ہوئے بڑا ہوگا، وہ بڑا ہوکر کس سے محبت کرے گا اور کس سے ہمدردی رکھے گا؟
گھر اور خاندان کے جس شخص سے آپ نفرت کرتے ہیں، اگر آپ کا بچہ بھی اس سے نفرت کا اظہار کرتا ہے، تو آپ کے نفس کی تسکین کا وقتی سامان ہوجاتا ہے، لیکن آپ غور سے دیکھیں کہ اس طرح اس کے دل میں نفرت کے جراثیم پل رہے ہیں، اور پھر سوچیں کہ یہ نفرت اس کے دل کی صحت کیلئے کتنی مہلک ہے۔ آپ اپنے نفس کی تسکین کیلئے اپنے بچے کے دل کی بربادی قبول کرلیتے ہیں، کیا یہ نفع کا سودا ہے؟
جس طرح جسم اور دماغ کی ہمہ جہت نشوونما پر دھیان ضروری ہے، اور کسی ایک پہلو کے سلسلے میں لاپرواہی خطرناک ہوسکتی ہے،  اسی طرح دل کی پرورش میں بھی تمام پہلوؤں پر دھیان دینا ضروری ہے۔ اگر آپ نے بچے کے دل میں اللہ کی محبت اتنی زیادہ بڑھادی کہ وہ فرض نمازوں کے ساتھ تہجد کی بھی پابندی کرنے لگا، تو یہ بہت اعلیٰ بات ہے، آپ قابل تعریف ہیں۔ لیکن دوسری طرف اگر اس کے اندر خدمت وتعاون کا جذبہ پیدا نہیں ہوسکا، اور وہ بس لوگوں سے فائدہ اٹھانے والا بن کر رہ گیا، لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا نہیں بنا، تو یہ دل کا بہت بڑا نقص ہے۔ 
یاد رکھیں دل کا ہر شعبہ اور ہر گوشہ الگ الگ خصوصی توجہ مانگتا ہے۔ ہوسکتا ہے انسانوں سے تعلقات کے سلسلے میں دل کی نشوونما بہت اچھی ہورہی ہو، لیکن اللہ سے تعلق کے سلسلے میں دل کی بالکل تربیت نہیں ہوسکی ہو۔ ہوسکتا ہے دل میں سخاوت کا جذبہ پروان چڑھا ہو، لیکن شکر اور احسان مندی کا پہلو کوتاہی کی نذر ہوگیا ہو۔ ہوسکتا ہے اپنی غلطی پر معافی مانگنے کے لئے آمادگی ہو، لیکن دوسرے کی غلطی پر معاف کرنے کے لئے دل میں گنجائش نہیں ہو۔ اس لئے آپ کی ذمہ داری ہے کہ بچے کی تربیت کرتے ہوئے اس کے دل کے ہر پہلو پر توجہ دیں، اور دل کی پرورش میں کسی طرح کی کمی نہیں ہونے دیں۔
ایک بچے کے مزاج میں شرارت ہو اور وہ کسی بڑے کی شان میں گستاخی کربیٹھے۔ اور ایک بچے کے دل میں بغض اور کینہ ہو جس کے زیر اثر وہ کسی بڑے کے ساتھ گستاخی سے پیش آئے، دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ پہلی صورت کے لئے ’’ یہ اچھی بات نہیں ہے، ایسا نہ کرو‘‘ کی ہلکی سی تنبیہ کافی ہے۔ لیکن دوسری صورت کے لئے تنبیہ کافی نہیں ہے، بلکہ دل کی اچھی طرح صفائی کرنا اور دل کی سوچ کو بدلنا ضروری ہے۔
دل کے اندر بہت سے غلط جذبات اچھے ناموںکے ساتھ پنپنے لگتے ہیں، اس لئے ہر جذبے کا صحیح مفہوم بتانا بھی ضروری ہے۔ خودداری کا جذبہ بڑھائیں، مگر ساتھ ہی یہ بھی سمجھائیں کہ خودداری یہ نہیں ہے کہ غلطی ہونے پر بھی معافی نہیں مانگی جائے۔ خودداری یہ بھی نہیں ہے کہ اپنے بزرگوں کی خدمت نہیں کی جائے۔ دوسروں کی نصیحت سن لینا بھی خودداری کے خلاف نہیں ہے۔ خودداری کے خلاف یہ ہے کہ گھر میں کھانا تو کھائیں، لیکن گھر کا کوئی کام نہ کریں۔ یہ بھی خودداری کے خلاف ہے کہ دوسروں سے فائدہ اٹھائیں اور دوسروں کے کام نہ آئیں۔
اپنے بچے کے دل کی اچھی تربیت کے لئے اپنے دل کی اصلاح پر توجہ ضرور دیں۔ کیوں کہ اکثر آپ کے دل کی بیماریاں آپ کے بچے میں منتقل ہوجاتی ہیں، خاص طور سے جب آپ بچوں کے سامنے ان بیماریوں کا کھل کر مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کبھی وہ بیماریاں بھی اس کے دل میں آسکتی ہیں جو آپ کے دل میں نہیں ہیں۔ بچے کی پرورش کے دوران آپ کو دونوں جہتوں سے خیال رکھنا ہوگا۔
بچے کے ساتھ آپ کا غلط اور غیر دانشمندانہ رویہ اس کے دل کی پرورش کو متاثر کرسکتا ہے۔ آپ اپنی پرسوز باتوں اور پر اثر برتاؤ سے بچے کے دل کو پگھلنے کا موقع بار بار دیں، لیکن کبھی بھی اپنے رویے سے اس کے دل کو ٹوٹنے نہ دیں۔ 
آپ اپنے بچے سے محبت کرتے ہیں، یہ اچھی بات ہے، آپ کا بچہ آپ سے محبت کرتا ہے یہ بھی اچھی بات ہے، لیکن اس میں آپ کی تربیت کا زیادہ رول نہیں ہے، یہ انتظام تو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ تاہم زیادہ اہم اور خاص بات یہ ہے کہ آپ کے بچے کے اندر انسانیت کا جذبہ پرورش پارہا ہے اور آپ اسے عام انسانوں سے محبت کرنا سکھارہے ہیں۔ 
آپ اپنے بچے کے سامنے جو کچھ کہتے ہیں یا کرتے ہیں، اس کا خیال ضرور کریں کہ اس سے بچے کے دل پر کیا نقوش مرتسم ہورہے ہوں گے۔ آپ جب اپنے بچوں کے سامنے اپنے بزرگوں کی خدمت کرتے ہیں، تو بچوں کے دلوں میں بزرگوں کی خدمت کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ آپ جب بچوں کے سامنے رشتے داروں سے محبت اور خیرخواہی کا اظہار کرتے ہیں، تو ان کے اندر بھی صلہ رحمی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ آپ جب بچوں کے سامنے اسلام اوراسلامی شخصیات اور اسلامی تحریکات کے بارے میں اچھے جذبات کا اظہار کرتے ہیں، تو یہ جذبات ان کے دل میں جاگزیں ہوجاتے ہیں۔ آپ جب نماز کے وقت سارے کام روک کر نماز کی تیاری میں مصروف ہوجاتے ہیں، تو بچوں کے دل میں نماز کی اہمیت بیٹھ جاتی ہے۔ غرض آپ اپنے بچوں کے سامنے جو کام بہت اہتمام سے کرتے ہیں، وہ کام ان کے دل میں اپنی جگہ بناتے جاتے ہیں۔
دل کی پرورش پر دھیان دینے والوں کے لئے بہترین اسوہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سواری پر آپؐ کے پیچھے بیٹھے تھے، عمر زیادہ نہیں دس سال کے آس پاس رہی ہوگی، آپؐ نے انہیںکچھ نصیحتیں کیں۔ یہ نصیحتیں کیا تھیں، ایمان اور توکل کے پودے تھے جو ان کے دل میں لگادیئے تھے۔ آپ نے فرمایا : ’’اے لڑکے، اللہ کا خیال رکھو، اللہ تمہارا خیال رکھے گا، اللہ کا خیال رکھو اللہ کو اپنی طرف پاؤگے، اور جب مانگو تو اللہ سے مانگو، اور جب مدد کے لئے پکارو تو اللہ کو پکارو، سمجھ لو کہ سارے لوگ مل کر تمہیں کچھ فائدہ پہنچانا چاہیں تو نہیں پہنچاسکتے، مگر بس اتنا ہی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور جان لو کہ سارے لوگ مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو نہیں پہنچاسکتے مگر بس اتنا جتنا کہ اللہ نے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھائے جا چکے ہیں، اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔‘‘ اس نصیحت کے ایک ایک لفظ پر غور کریں، اور سوچیں کہ نبی پاک ﷺ نے چند لمحوں میں اور چند جملوں سے ایک کم عمر لڑکے کے دل کی کتنی اعلیٰ تربیت کردی تھی۔ اگر ہم اپنے بچوں کے دلوں کی نشوونما ان عظیم اور عالیشان قدروں اور عقیدوں کے ساتھ کریں، تو ان کی شخصیت کی بہترین تعمیر کا سامان کرینگے، اور اس طرح واقعی ان کے محسن بن جائیں گے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK