کورونا متاثرین کے اندر احساس جرم نہ پیدا ہونے دیں

Updated: July 12, 2020, 10:15 AM IST | Jamal Rizvi

یہ اسلئے بھی ضروری ہے کہ دنیا کا کوئی بھی انسان یہ نہیں چاہے گاکہ اسے ایسا کوئی مرض لاحق ہو جس کا موثرعلاج اب تک دریافت نہیں ہو سکا ہے ۔ایسی صورت میں اگر اس وبا سے متاثر ہونے کے بعد اس کے اہل خانہ اور سماج بھی اس کے ساتھ غیر انسانی رویہ اختیار کریں تو اس کے روبہ صحت ہونے کی امید بہت کم رہ جائے گی۔ یہ پوری طرح سے طبی اور انسانی اخلاقیات کے منافی ہے

Health Worker - Pic : PTI
ہیلتھ ورکر ۔ تصویر : پی ٹی آئی

کورونا سے مقابلہ کرنے میں مختلف محاذ پر حکومت کی غیر واضح حکمت عملی نے ہندوستانی معاشرے کو بہ یک وقت کئی طرح کے مسائل میں مبتلا کر دیا ہے ۔ ان مسائل میں طب و صحت کے معاملا ت سے لے کر روزگار اور معیشت کے مسائل و معاملات بھی شامل ہیں ۔حکومت اور مقامی انتظامیہ نے اس وبا کا مقابلہ کرنے میں کوئی منظم اور باضابطہ طریق کار اختیار کرنے کے بجائےمعاملے کی نوعیت اور شدت کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ سرکاری مشنری غالباً اس تصور پر یقین رکھتی ہے کہ اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے لاک ڈاؤن ہی سب سے زیادہ کارگر طریقہ ہے ۔
 یہ تصور کسی حد تک درست بھی ہے لیکن عمل کی سطح پر اس کی کامیابی کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ لاک ڈاؤن کے ضابطوں اور تقاضوں کی پابندی کس حد تک ہو رہی ہے؟  ۲۴؍مارچ کو ملک گیر سطح پر تین ہفتے کے لاک ڈاؤن کے بعد اب مختلف ریاستوں میں صورتحال کے مد نظر لاک ڈاؤن نافذ کیا جا رہا ہے.... لیکن لاک ڈاؤن کے نفاذ میں ان احتیاطی تدابیر کو پوری طرح بروئے کار لانے میں حکومت، انتظامیہ اور عوام تینوں کی جانب سے غیر سنجیدگی والا رویہ دیکھنے کو ملتا ہے ،جن کے بغیر اس وبا کو کنٹرول کرنے کا کوئی اقدام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ان تدابیر پر عمل کرتے وقت ان حقائق کو مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو اس وبا کی نوعیت اور اس سے محفوظ رہنے کیلئے میڈیکل سائنس نے بتائے ہیں ۔
 میڈیکل شعبہ سے وابستہ افراد نے چین میں اس وبا کے ظاہر ہونے کے بعد سے اب تک متعدد مرتبہ عوام کو یہ بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اس وبا سے بچنے کیلئے احتیاط ہی سب سے کارگر نسخہ ہے ۔عالمی سطح پر طبی اداروں نے جن احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے کی بات کہی ہے، اس پر عمل کے ذریعہ ہی اس وبا سے محفوظ رہا جا سکتا ہے لیکن گزشتہ چار مہینوں کے دوران ملک اور مختلف ریاستوں میں وقتاً فوقتاً نافذ ہونے والے لاک داؤن کے دوران اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ان احتیاطی تدابیر کی مطلق پروا نہیں کی گئی ۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں وبا کے پھیلاؤ کو روکنا آسان نہیں ہوگا۔ اس وبا کی روک تھام کے سلسلے میں ملک کا میڈیکل شعبہ جن مسائل اور بدانتظامی کا شکار ہے، اس کی وجہ سے عوام کئی طرح کی پریشنانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت ، مقامی انتظامیہ اور میڈیکل شعبے کے مسائل ایک طرف جہاں اس وبا کا مقابلہ مؤثر طریقے سے کرنے سے قاصر ہیں وہیں دوسری جانب سماج میں اس وبا سے متعلق جو تصور عام ہو گیا ہے اس نے کورونا متاثرین کیلئے سخت مسائل پیدا کر دئیے ہیں۔
 اس وبا کے متعلق اس بنیادی حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ وائر س کے پھیلاؤ کو روکنا یا محدود رکھنا ہی اس سے بچنے کا موثر اور کارگر طریقہ ہے ۔ اس کیلئے جن احتیاطی اقدامات کو لازمی بتایا گیا ہے، ان میں کوئی کوتاہی کسی بھی شخص کو اس وبا کا شکار بنا سکتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس وبا سے متاثر ہو جاتا ہے تو سماج اور اس کے اہل خانہ کواس کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنا چاہئے کہ وہ اس بیماری کا مقابلہ پوری توانائی سے کر سکے۔ ہندوستان میں گزشتہ چار مہینوں کے دوران اس وبا کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی ایسی خبریں بھی منظر عام پر آتی رہی ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کورونا متاثرین کے ساتھ سماج کا رویہ ان توہمات پر مبنی رہا ہے جو مرض  کے بجائے مریض کو ہدف بناتے ہیں۔  اس کے سبب کورونا متاثرین کے اندر ایک طرح کا احساس جرم پیدا ہوتا ہے اور پھر نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ اس وبا کے اثرات کو مخفی رکھنے کو کوشش کی جاتی ہے۔ سماج کو اس وبا کا مقابلہ کرنے میں ان تدابیر پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جسے میڈیکل شعبہ نے اس وبا سے محفوظ رہنے کیلئے لازمی قرار دیا ہے لیکن یہاں یہ بات بھی مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان تدابیر پر عمل کرنے کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ کورونا متاثرین کو احساس جرم میں مبتلا کیا جائے اور ان کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جائے جو انسانیت کے منافی ہو۔
 اس ضمن میں سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ جن افراد میں اس وبا کی ابتدائی علامتیں ظاہر ہوں، انھیں فوراً علاج کیلئے سنجیدہ ہوجانا چاہئے۔ اب تو حکومت نے یہ سہولت بھی دی ہے کہ کورونا کا ٹیسٹ کروانے کیلئے کسی ڈاکٹر کے مشورے یا ہدایت کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ایک فرد ذاتی طور پر بھی یہ ٹیسٹ کروا سکتا ہے۔اگر اس ٹیسٹ میں کورونا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو جائے تو ڈاکٹروں کے ذریعہ بتائے گئے احکامات کی پیروی لازمی طور پر کی جانی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی کورونا متاثرین کے ساتھ اس کے اہل خانہ اور سماج کو وہ رویہ روا رکھنا چاہئے جو اس وبا سے مقابلہ کرنے میںاس کی مدد کر ے لیکن اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کورونا سے متاثر ہو گیا تو اس کے دوا علاج کے مسائل اپنی جگہ ، سماج اور اس کے گرد واطراف میں رہنے والوں کا رویہ اسے مزید کمزور اور لاغر بنا دیتا ہے ۔ سماج کا یہ رویہ کورونا متاثرین کو نفسیاتی اور جذباتی طور پر کئی طرح کے منفی رجحانات کا حامل بنا سکتا ہے جن کے اثرات صحت یاب ہونے کے بعد بھی ظاہر ہو سکتے ہیں اور جو اس کی شخصیت کی نشو ونما کو متاثر کرسکتے ہیں۔
 کورونا متاثرین کے ساتھ سماج کا رویہ اکثر سنگ دلی  کی اس حد تک پہنچا ہوا نظر آتا ہے جو انسانیت کو مجروح کرتا ہے ۔ ایسے غیر انسانی رویے کی بنیادی وجہ اس وبا سے متعلق ان طبی حقائق سے لاعلمی ہے جو اس وبا کی نوعیت اور اس کی روک تھام سے وابستہ ہیں ۔اگر کوئی شخص اس وبا سے متاثر ہو جائے تو سماج اور اس کے گرد و اطراف کے لوگوں کو سب سے پہلے اس کے دوا علاج کی فکر کرنی چاہئے اور پھر ان احتیاطی اقدامات کی پیروی کرنی چاہئے جو اس وبا سے محفوظ رہنے میں معاون ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں اس بات کو کبھی بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ کوئی بھی شخص جو اِن احتیاطی تدابیر پر سنجیدگی سے عمل نہیں کرے گا ، اس وبا سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اگر اس وبا کی علامتیں ظاہر ہونے لگیں تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ اور اس کے مشورے اور ہدایت پر عمل کرنے کی ضرورت ہےلیکن اس سلسلے میں یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ڈاکٹروں کے یہ مشورے اور ہدایتیں اس بات کی بالکل تائید نہیں کرتیں کہ کورونا متاثرین کے ساتھ غیر انسانی رویہ اختیار کیا جائے۔ انھیں شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جائے اور یہ تاثر ظاہر کیا جائے کہ جیسے اس نے کوئی جرم کر دیا ہے جس کا خمیازہ پورے سماج کو بھگتنا پڑے گا۔
 کورونا متاثرین کے ساتھ اس طرح کا غیر انسانی رویہ بیماری سے لڑنے کی اس کی قوت کو بھی متاثر کرتا ہے ۔ اور پھر ہوتا یہ ہے کہ تمام تر علاج اور احتیاط کے باوجود مرض کی شدت بڑھتی جاتی ہے ۔ اگر کوئی شخص اس وبا سے متاثر ہوتا ہے تو اس کے اہل خانہ اور گر د و اطراف کے لوگوں کو چاہئے کہ اسے جذباتی اور نفسیاتی طور پر اس بیماری سے مقابلہ کرنے میں تعاون کریں لیکن اکثر معاملات میں اس کے برعکس رویہ اختیار کیا گیا اور ملک کی مختلف ریاستوں سے ایسی خبریں بھی سامنے آئیں کہ کورونا متاثرین کو زد وکوب کیا گیا ۔ بعض معاملات میں کورونا متاثرین کو اس حد تک زد و کوب کیا گیا کہ ان کی موت ہو گئی۔
 گزشتہ دنوں متھرا سے دہلی جانے والی ایک بس سے ایک ۱۹؍ سالہ لڑکی کو اسلئے باہر پھینک دیا گیا کہ کنڈکٹر کو یہ شبہ ہو گیا تھا کہ وہ لڑکی کورونا سے متاثر ہے ۔ چلتی بس سے پھینکے جانے پر اس لڑکی کی موت ہوگئی ۔اس کے علاوہ اکثر ایسی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ اگر کسی شخص کی اس وبا سے موت ہوگئی تو اس کے اہل خانہ نے اس کی میت لینے اور آخری رسومات ادا کرنے سے انکار کردیا۔
 کورونا کی وبا نے سرکاری اور انتظامی امور کی جن خامیوں کو اجاگر کیا ہے، انھیں کسی حد تک دور بھی کیا جا سکتا ہے لیکن انسانی روابط پر اس وبا کے جو افسوس ناک اثرات  ظاہر ہو رہے ہیں وہ ایک طویل مدت تک سماج پر منفی طریقہ سے اثرانداز ہوتے رہیں گے۔کورونا متاثرین کے ساتھ انسانی رویہ روا رکھنا اشد ضروری ہے۔ یہ اسلئے بھی ضروری ہے کہ دنیا کا کوئی بھی انسان یہ نہیں چاہے گاکہ اسے ایسا کوئی مرض لاحق ہو جس کا موثرعلاج اب تک دریافت نہیں ہو سکا ہے ۔ایسی صورت میں اگر اس وبا سے متاثر ہونے کے بعد اس کے اہل خانہ اور سماج بھی اس کے ساتھ غیر انسانی رویہ اختیار کریں تو اس کے روبہ صحت ہونے کی امید بہت کم رہ جائے گی ۔ ایسا رویہ ان طبی اخلاقیات کے بھی منافی ہے جو کسی مریض کو مرض سے مقابلہ کرنے اور اس کی دیکھ بھال کرنے والوں کو انسانیت کی بنیاد پر ایک دوسرے سے مربوط رکھتی ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK