ڈاکٹر ڈوم

Updated: September 27, 2022, 2:03 PM IST | Mumbai

انگریزی میں ’’ڈوم‘‘ (بروزن دھو م، جھوم، چوم) کا معنی ہے موت، تباہی، دہشت ناک انجام وغیرہ۔ اسی لئے اس زبان میں قیامت کو ڈومس ڈے کہا جاتا ہے۔

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

 انگریزی میں ’’ڈوم‘‘ (بروزن دھو م، جھوم، چوم) کا معنی ہے موت، تباہی، دہشت ناک انجام وغیرہ۔ اسی لئے اس زبان میں قیامت کو ڈومس ڈے کہا جاتا ہے۔ اس لفظ کی معنویت پر روشنی ڈالنے کی ضرورت اسلئے پیش آئی کہ ایک عالمی شہرت یافتہ ماہر معاشیات ایسا ہے جسے عالمی میڈیا ’’ڈاکٹر ڈوم‘‘ کے نام سے یاد کرتا ہے کیونکہ ۲۰۰۸ء کی عالمی کساد بازاری سے کم و بیش تین سال پہلے ڈاکٹر ڈوم نے، جن کا اصل نام نوریل روبنی ہے، امریکہ کی شدید ابتری کی گوئی کردی تھی۔  نوریل روبنی نیویارک یونیورسٹی کے اسٹرن اسکول آف بزنس کے معلم اور روبنی میکرو اسوسی ایٹس کے چیئرمین ہیں جو کہ معاشی مشاورت کی ایک ممتاز فرم ہے۔ نوریل ترکی میں پیدا ہوئے اور اٹلی میں پلے بڑھے۔ ابتدائی دور میں اُن کی ریسرچ کا موضوع ’’اُبھرتی منڈیاں‘‘ (اِمرجنگ مارکیٹس) تھا۔ بعد ازاں وہ آئی ایم ایف، امریکہ کے فیڈرل ریزرو، ورلڈ بینک اور بینک آف اسرائیل سے وابستہ رہے۔ امریکہ سے شروع ہونے والی ۲۰۰۸ء کی کساد بازاری، جس کے اثرات پوری دُنیا میں دیکھے گئے تھے، کی بابت اُنہوں نے تین سال پہلے متنبہ کردیا تھا کہ امریکہ میں مکانوں کے غیر معمولی قرضوں کی صورتحال، تیل کی قیمتیں اور صارفین کا ڈوبتا اعتماد ممکنہ معاشی بحران کے طاقتور اشارے ہیں۔  اس پیش گوئی کے نتیجے میں نوریل روبنی کو سب سے پہلا جو ’’خطاب‘‘ دیا گیا وہ تھا: ’’کساندرا‘‘ (Cassandra)۔ یہ، یونانی دیومالائی کہانیوں کی وہ شہزادی ہے جس کی سچی پیشین گوئیوں پر کوئی یقین نہیں کرتا تھا۔ بعد ازیں یہ لفظ یا نام ایسے شخص کیلئے استعمال کیا جانے لگا جو تباہی کا پیغامبر ہو۔ ڈاکٹر ڈوم کا خطاب اس کے بعد ملا۔ مگر جب ۲۰۰۸ء میں امریکہ حقیقتاً کساد بازاری کا شکار ہوا اور نوریل روبنی کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی تو اُن کی قدرمنزلت میں اضافہ ہوا جس کا نتیجہ تھا کہ فارین پالیسی میگزین نے اُنہیں ۱۰۰؍ عالمی معاشی مفکرین میں شمار کیا۔  یہ ماضی تھا۔ اب آئیے حال کی طرف۔ نوریل روبنی نے گزشتہ دنوں ایک بار پھر متنبہ کیا ہے۔ اس بار اُن کا انتباہ صرف امریکہ کیلئے نہیں بلکہ پوری دُنیا کیلئے ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اِس وقت امریکہ سمیت پوری دُنیا پر اَبتر معاشی حالات کے بدترین دَور کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اُنہیں اندیشہ ہے کہ امریکہ اور دُنیا کی دیگر معیشتیں اس سال کے اواخر سے شدید مندی کا شکار ہونگی جو ۲۰۲۳ء کے اواخر تک جاری رہے گی۔ اس دوران الگ الگ ملکوں کی حکومتوں کے پاس حالات کو سنبھالنے کا کوئی چارا نہیں رہ جائیگا (خدانخواستہ)۔ نوریل روبنی کے خیال میں اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ حکومتوں پر بیرونی قرضوں کا بوجھ کافی بڑھ گیا ہے۔  آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جن ملکوں کو ہم ترقی یافتہ سمجھتے ہیں مثلاً امریکہ، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی وغیرہ، یہ قرضداروں کی عالمی فہرست کے اولین نام ہیں (ہندوستان کا نمبر ۱۷؍ واں ہے)۔ اس فہرست کے اولین ۱۳؍ ممالک میں سے ہر ایک پر بیرونی قرض ایک کھرب ڈالر سے زیادہ ہے۔ ان ’’کھرب پتی‘‘ ملکوں کا مجموعی بیرونی قرض لگ بھگ ۸۳؍ کھرب ڈالرہے۔  حیرت انگیز طور پر اس تازہ انکشاف کے سبب نوریل روبنی کو ڈاکٹر ڈوم کوئی نہیں کہہ رہا ہے۔ ہم پیش گوئی پر یقین نہیں رکھتے مگر، خدا نہ کرے، نوریل روبنی کی یہ پیش گوئی بھی سچ ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ مہنگائی، بے روزگاری اور غلط سرکاری پالیسیاں معیشتوں کو برباد کررہی ہیں اور عقل کے ناخن لینے کو کوئی تیار نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK