قوموں کی تاریخ میں بعض دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں ہوتے بلکہ اپنے اندر ایک فکری پیغام رکھتے ہیں۔ ۵؍ ستمبر بھی ایسا ہی دن ہے۔
EPAPER
Updated: September 05, 2026, 1:31 PM IST | Dr. Ishtiaq Ahmed Muhammad Ishaq | Mumbai
قوموں کی تاریخ میں بعض دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں ہوتے بلکہ اپنے اندر ایک فکری پیغام رکھتے ہیں۔ ۵؍ ستمبر بھی ایسا ہی دن ہے۔
قوموں کی تاریخ میں بعض دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں ہوتے بلکہ اپنے اندر ایک فکری پیغام رکھتے ہیں۔ ۵؍ ستمبر بھی ایسا ہی دن ہے۔ یہ دن ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن کی پیدائش کی یاد دلانے کے ساتھ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے اور استاد کا حقیقی مقام کہاں ہے؟ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن۵؍ ستمبر ۱۸۸۸ء کو پیدا ہوئے۔ وہ فلسفی، دانش ور، ماہرِ تعلیم اور دوسرے صدرِ جمہوریہ تھے۔ لیکن ان کی سب سے نمایاں شناخت ایک استاد اور مفکر کی تھی۔ انہوں نے تعلیم کو محض معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی شخصیت کی تعمیر، فکری بیداری اور اخلاقی تربیت کا وسیلہ سمجھا۔ اسی نسبت سے ہم ۵؍ ستمبرکو یومِ اساتذہ کے طور پر منا تے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یومِ اساتذہ پر روشن مستقبل کے معماروں کو سلام
اس دن کی اصل معنویت صرف تقریبات، مبارک باد اور پھول پیش کرنے میں نہیں بلکہ تعلیم کے مقصد پر غور کرنے میں ہے۔ اگر یہ دن صرف رسمی سرگرمیوں تک محدود ہوجائے تو اس کی روح کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارا تعلیمی نظام نئی نسل کو صرف امتحانات اور ملازمت کیلئے تیار کررہا ہے یا اسے ایک باشعور، باکردار اور ذمہ دار انسان بھی بنا رہا ہے۔آج تعلیم کا منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ معلومات حاصل کرنے کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہوگئے ہیں۔ طالب علم چند لمحوں میں کسی بھی موضوع کے بارے میں مواد حاصل کرسکتا ہے۔ ایسے ماحول میں بظاہر استاد کی ضرورت کم محسوس ہوسکتی ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ معلومات حاصل کرنا آسان ہے، مگر ان کی صحت کو جانچنا، انہیں سمجھنا، درست اور غلط میں فرق کرنا اور مناسب نتیجے تک پہنچنا ایک الگ عمل ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں استاد محض معلّم نہیں بلکہ فکری رہنما بن جاتا ہے۔ آج استاد کا کام صرف سبق پڑھانا نہیںبلکہ طلبہ میں سوال کرنے، سوچنے، تحقیق کرنے اور دلیل کے ساتھ فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ نئی ٹیکنالوجی تعلیم میں معاون ہوسکتی ہے لیکن استاد کے انسانی کردار کا بدل نہیں بن سکتی۔ طالب علم کی صلاحیت کو پہچاننا، اس کی مشکلات کو سمجھنا اور اس کے اندر اعتماد پیدا کرنا استاد ہی کے انسانی کردار کا حصہ ہے۔