• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گھڑی کی چوری

Updated: September 05, 2026, 1:37 PM IST | Ismail Nirekar | Mumbai

انگریزی ادب سے منتخب کی گئی ایک سبق آموز کہانی کا اُردو ترجمہ جس میں ایک استاد کا کردار نمایاں کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک استاد اپنے شاگرد کو کبھی شرمندہ نہیں ہونے دیتا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

لندن میونسپل پارک کے بنچ پر ایک معمر شخص اکیلا بیٹھا  ہواتھا۔ ایک نوجوان ان کے  سامنے نمودار ہوا اور ادب سے سلام پیش کرتے ہوئے سوال کیا....’’ سر!آپ نے مجھے پہچانا؟‘‘

 اس بزرگ نے پوچھا ’’ کون؟‘‘

 جواب ملا’’ سر! میں۲۰؍ سال قبل آپ کا طالب علم رہ چکا ہوں۔‘‘

’’اوہ ! بیٹا! آج کل میں اچھی طرح دیکھ نہیں پارہا ہوں۔ اور میری یاد داشت بھی تھوڑی کمزور ہوچکی ہے۔ اس لئےمیں تمہیں پہچان نہیں پارہا ہوں۔آؤ، میرے پاس بیٹھ جاؤ۔ بتاؤ! آج کل تم کیا کر رہے ہو؟‘‘

وہ نوجوان بولا’’ سر! میں بھی آپ ہی کی طرح ایک ٹیچر بن گیا ہوں۔‘‘

’’واہ! بہت خوب ! مگر ایک ٹیچر کی تنخواہ کافی کم ہوتی ہے نا ۔‘‘

’’سر! جب میں ساتویں جماعت میں تھا، اُس وقت ہماری کلاس میں ایک سانحہ ہوگیا تھا اور اُس وقت آپ نے مجھے بچایا تھا۔‘‘

’’ کیا ہوا تھا؟‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن اور یومِ اساتذہ

اس نوجوان نے جواب میں کہا ’’ سر! ہماری کلاس میں ایک نہایت امیر لڑکا تھا۔ اور باقی ہم سب امیر باپ کی اولاد نہیں تھے۔ ایک روز وہ امیر لڑکا کلاس میں، ایک بے حد قیمتی گھڑی پہن کر آیا۔ اور اس کی گھڑی چوری ہوگئی۔اب آپ کو کچھ یاد آیا سر۔‘‘

    اس معمر شخص نے  ذہن پر کچھ زور ڈالتے ہوئےسوال کیا کہ ’’ ساتویں جماعت ؟‘‘

’’ جی ہاں سر!  اُس روز جب میں نے وہ قیمتی گھڑی دیکھی تو مجھے وہ اتنی پسند آئی کہ میں نے اسے حاصل کرنے کی ٹھان لی۔‘‘ 

    جب اسپورٹس کا پیریڈ تھا، تب میں نے دیکھا کہ اس امیر لڑکے نے  اپنی گھڑی کمپاس باکس میں رکھی اور کھیل کے میدان میں چلا گیا۔ جب باقی بچے بھی کلاس سے نکل گئے   تو میں جان بوجھ کر رکا رہا اور وہ گھڑی میں نے چرا لی، اور کھیل کے میدان میں چلا گیا۔

      اسپورٹس کا پیریڈ ختم ہونے پر سارے بچے دوبارہ کلاس میں آگئے۔ 

اُس وقت آپ کا پیریڈ شروع ہوا تھا۔ کمپاس باکس کھولنے پر ،اس لڑکے کو پتہ چلا کہ اس کی گھڑی چوری ہو گئی ہے۔ اب اس نے آپ سے چوری کی شکایت کی۔آپ نے کہاکہ جس نے بھی وہ گھڑی چرائی ہے وہ فوراً گھڑی لوٹا دے۔میں اسے کوئی سزا،نہیں دوںگا۔‘‘

سارے کلاس میں خاموشی چھا گئی۔کوئی آگے نہیں آیا۔ میں واپس کرنا چاہتا تھا لیکن بدنامی کے ڈر سے گھڑی لوٹانے کی ہمت نہیں کر پایا۔‘‘

اُس وقت آپ نے کمرے کا دروازہ بند کردیا۔اور طلباء کو حکم دیا کہ وہ دیوار کی طرف منہ کرکے ایک قطار میں کھڑے ہو جائیں اور اپنی اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ آپ نے کہا کہ آپ خود ،  ہر ایک کی تلاشی لیں گے اور گھڑی دستیاب ہونے تک کوئی آنکھ نہیں کھولے گا۔ گھڑی چور کو اسکول سے ہمیشہ کیلئے نکال دیا جائے گا۔

سبھی بچے ایک قطار میں کھڑے ہوگئے اور اپنی  اپنی آنکھیں بند کر لیں۔

  ’’ سر ۔آپ نے ایک کے  بعد ایک ہر لڑکے کی جیبوں کی تلاشی شروع کی۔ جب آپ میرے قریب پہنچے تو میرے دل کی دھڑکن عروج پر پہنچ چکی تھی۔ میری چوری پکڑے جانے والی تھی اورمجھے ہمیشہ کیلئے اسکول سے نکال دیا جانے والا تھا۔ اب مجھے اپنی غلط حرکت پر بہت پچھتاوا ہورہا تھا۔‘‘

’’ سر! آپ نے تلاشی پر، میری جیب سے گھڑی برآمد کرلی،لیکن اس کے باوجود آپ نے ،قطار کے آخری لڑکے تک تلاشی جاری رکھی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: یومِ اساتذہ پر روشن مستقبل کے معماروں کو سلام

’’تمام لڑکوں کی تلاشی ختم ہونے کے بعد آپ نے وہ گھڑی اس امیر لڑکے کو لوٹا دی  اور اسے تاکید کی کہ آئندہ وہ ایسی قیمتی چیزیں لے کر اسکول نہ آئے،اور کہا کہ جس نے بھی گھڑی چرائی اور غلط کام کیا ہے وہ آئندہ ہر غلط کام کرنے سے توبہ کرلے۔‘‘

یہ بیان کرتے وقت اس نوجوان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔اس نے کہا کہ ’’ سر ! آپ نے اُس روز مجھے سب کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچا لیا تھا۔ میں ایک چور ثابت ہو گیا تھا لیکن آپ نے مجھے رسوائی سے بچایا تھا۔ اسی وقت میں نے عزم کر لیا تھا کہ میں بھی آپ ہی کی طرح ایک ٹیچر بنوںگا۔ اور آج ، میں آپ کے سامنے ایک ٹیچر بن کر کھڑا ہوں۔‘‘

اس بزرگ شخص کی آنکھوں میں ایک چمک پیدا ہوئی۔  انھیں سب کچھ یاد آگیا۔ انھوں نے تعجب بھرے لہجے میں کہا کہ’’ میرے بیٹے ! مجھےآج تک یہ پتہ نہیں تھا کہ کس نے وہ گھڑی چرائی تھی کیونکہ بچوں کے جیبوں کی تلاشی کے دوران میں نے بھی اپنی آنکھیں بند رکھی تھیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK