ایک استاذ کیلئے ’یوم اساتذہ‘ بہت خاص ہوتا ہے کیونکہ اس دن وہ اپنا احتساب کرتا ہے ، اپنی ذمہ داریوں کااحساس کرتا ہے اور اپنی کامیابیوں پر بجا طور پر فخر بھی کرتا ہے۔ اسی مناسبت سے ہم کچھ نوجوان (جین زی) اساتذہ کرام کی خدمت میں تین سوال کے ساتھ حاضر ہوئے (پہلا سوال: آپ نے درس و تدریس کا پیشہ کیوں اختیار کیا؟ دوسرا سوال:دوران طالب علمی آپ کو سب سے زیادہ کس نے متاثر کیا؟ اور تیسرا سوال: آپ اپنے طلبہ میں کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟) ملاحظہ کریں ان کے تاثرات: ترتیب و پیشکش: قطب الدین شاہد
فلاسفی کے میرے دو اساتذہ ڈاکٹر تبسم شیخ صاحبہ اورپروفیسر این ایچ پھاپھالے نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا
دیبا ہارون بیگ( اسسٹنٹ پروفیسر،جی ایم مومن ویمنس کالج، بھیونڈی)

میں نے یہ پیشہ خود نہیں چنا بلکہ اس پیشے نے مجھے چنا ہے، اسلئے میں اسے قدرت کا خصوصی عطیہ ، انعام اور ایک بہترین موقع سمجھتی ہوں۔ ا ب جبکہ میں پیشے میں آچکی ہوں تو میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ میں علم بانٹ سکوں، اپنے طلبہ کی مدد کرسکوں اور ان کی پڑھائی میں ان کا ساتھ دے سکوں، تاکہ ان کیلئے آگے بڑھنے کا راستہ آسان ہو۔میں ہر نئی معلومات اور ہنر دوسروں کے ساتھ بانٹنا چاہتی ہوں تاکہ ان کے علم میں بھی اضافہ ہو۔
طالب علمی کے زمانے میں مجھے سب سے زیادہ میرے ابا اور امی نے متاثر کیا۔ میرے خیال میں ان سے بہتر استاد کوئی ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ انہوں نے مجھے حقیقی زندگی سے واقف کرایا اور یہ سمجھایا کہ اصل زندگی کیا ہے اور اسے کس طرح جینا چاہئے۔وہ میری زندگی کے بہترین استاد ہیں۔انہوں نے مجھے سکھایا کہ زندگی میں کبھی ہار نہیں ماننی چاہئے۔ کسی ناکامی یا کسی کے ٹھکرانے سے مایوس نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی کسی سے ڈرنا چاہئے۔انہوں نے مجھے یہ بھی سکھایا کہ غلطیاں کرنے سے نہیں ڈرنا چاہئے کیونکہ غلطیاں ہی سیکھنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہوتی ہیں۔ انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور خود کو بہتر بناتا ہے۔
ان کے بعد طالب علمی کے زمانے میں میرے فلسفے کے دو اساتذہ ڈاکٹر تبسم شیخ صاحبہ اورپروفیسر این ایچ پھاپھالے نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ ان کا پڑھانے کا طریقہ بالکل مختلف تھا۔ وہ صرف کتابی باتیں نہیں سکھاتے تھے بلکہ ہر مشکل موضوع کو حقیقی زندگی کی مثالوں سے جوڑ کر اس قدر آسان بنا دیتے تھے کہ ہر طالب علم اسے بآسانی سمجھ لیتا تھا۔
میں اپنے طلبہ میں ایک متوازن اور ہمہ جہت ترقی( ہولسٹک گروتھ) دیکھنا چاہتی ہوں۔ میرا مقصد صرف انہیں امتحانات میں کامیاب کروانا نہیں بلکہ انہیں زندگی کے ہر موڑ پر ایک بہترین انسان بنانا ہے۔میں چاہتی ہوں کہ میرے طلبہ چیزوں کو صرف رٹنے کے بجائے ان کے تصورات اور بنیادی نکات کو اچھی طرح سمجھیں۔ ان میں تنقیدی سوچ پیدا ہو، وہ سوال پوچھنے کی عادت ڈالیں اور ہر بات کو سمجھنے اور پرکھنے کی کوشش کریں۔میں چاہتی ہوں کہ میرے طلبہ ایماندار، ہمدرد اور دوسروں کی عزت کرنے والے انسان بنیں۔ ان کا کردار ایسا ہو جس پر دوسرے لوگ اعتماد کرسکیں اور وہ معاشرے کیلئے ایک مثال بن سکیں۔میں چاہتی ہوں کہ میرے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہو اور وہ نئے چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔
فرزین مس میری آئیڈیل ہیں، مجھے ان کا پڑھانے کا انداز بہت پسند ہے، میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے
انصاری ایمن ناز محمد ایوب(انجمن خیرالاسلام گرلز ہائی اسکول، کرلا)

میں نے تدریس کو اپنا پیشہ اسلئے منتخب کیا کیونکہ مجھے بچوں کے ساتھ کام کرنا، انہیں نئی چیزیں سکھانا اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا بہت پسند ہے۔ میرے نزدیک ایک اچھا استاد صرف نصابی سبق پڑھانے والا نہیں ہوتا بلکہ وہ بچوں کی شخصیت اور مستقبل کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔مجھے خاص طور پر سائنس پڑھانا بہت پسند ہے کیونکہ سائنس ہماری روزمرہ زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔
میری کوشش ہوتی ہے کہ میں ہر موضوع کو بچوں کی روزمرہ زندگی کی مثالوں سے جوڑ کر سمجھاؤں اور مختلف سرگرمیوں اور نئی تدریسی تکنیکوں کا استعمال کروں تاکہ بچے صرف سبق یاد نہ کریں بلکہ اسے اچھی طرح سمجھیں۔میرا خیال ہے کہ جماعت کا ماحول ایسا ہونا چاہئے جہاں بچے بلا جھجھک سوال پوچھ سکیں، اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں اور اپنی رائے پیش کر سکیں۔ میں بچوں کے خیالات کو غور سے سننے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کو بہت اہم سمجھتی ہوں۔
میری مثالی استاد فرزین مس ہیں۔ وہ میرے لئے ایک بہترین استاد کی مثال ہیں۔ مجھے ان کا پڑھانے کا انداز بہت پسند ہے، کیونکہ وہ مشکل سے مشکل بات کو بھی آسان اور دلچسپ انداز میں سمجھاتی ہیں۔ وہ اپنے طلبہ کی باتوں کو بہت غور سے سنتی ہیں۔ وہ صرف کتابی علم دینے پر توجہ نہیں دیتیں بلکہ بچوں میں خود اعتمادی، غور و فکر اور سیکھنے کا شوق بھی پیدا کرتی ہیں۔ان کی یہی خوبیاں مجھے بہت متاثر کرتی ہیں۔ میں نے ان سے یہ سیکھا ہے کہ ایک اچھا استاد وہ ہوتا ہے جو صرف سبق نہ پڑھائے بلکہ اپنے طلبہ کی رہنمائی کرے، ان کی حوصلہ افزائی کرے اور انہیں آگے بڑھنے کا اعتماد دے۔اسی لیے فرزین مس میری مثالی استاد ہیں، اور میں بھی چاہتی ہوں کہ مستقبل میں اپنے طلبہ کیلئے ایسی ہی ایک اچھی اور قابلِ اعتماد استاد بن سکوں۔
ایک استاد کی حیثیت سے میری خواہش ہے کہ میرے طلبہ مستقبل میں اچھے، بااخلاق اور ذمہ دار انسان بنیں۔ میرے لیے صرف یہ اہم نہیں کہ وہ ڈاکٹر، انجینئر یا کسی بڑے عہدے پر فائز ہوں بلکہ یہ زیادہ اہم ہے کہ وہ ایماندار ہوں، دوسروں کا احترام کریں اور معاشرے کیلئے مثبت کردار ادا کریں۔میں چاہتی ہوں کہ میرے طلبہ اپنی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو پہچانیں اور اپنے پسندیدہ شعبے میں آگے بڑھیں۔ میری کوشش ہوگی کہ میں ان میں خود اعتمادی، غور و فکر، سوال کرنے کی عادت اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکوںتاکہ وہ زندگی میں آنے والے چیلنجز کا سمجھ داری سے سامنا کر سکیں۔
کنیز فاطمہ آپا تقریری مقابلے سے پہلے ہی میرے لئے لفافہ تیار رکھتی تھیں
فیضی عدنان ملکجدید انجمن ِ تعلیم (جے اے ٹی)ہارون انصاری اردو پرائمری اسکول، مالیگاؤں

حضور اکرم ؐ نے اپنے بارے میں کہا ہےکہ ’’میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘اسلئے پیشۂ درس و تدریس ہمارے لئے سنت نبویؐ ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی تسلیم شدہ ہے کہ ایک استاد مخیرقوم و ملت ہوا کرتا ہے۔ایک استاد طرزِ عمل و طرزِ حیات کی اساس ہوتا ہے لہٰذا بے ساختہ دل نے پیشہِ درس و تدریس کو اولیت دی۔ مزید یہ کہ یہ توفیق و ہدایت بھی باری تعالیٰ کی ہی عنایت رہی کہ ہم نے استاد بننا اپنی زندگی کا نصب العین بنالیا اور کوشاں ہوں۔
محترمی کنیز فاطمہ آپا جو میری استاد رہیں، میں اُن سے بے پناہ متاثر رہا کہ اُن کا اعتماد ایسا تھا کہ جب کوئی تقریری مقابلہ منعقد ہوتا وہ مقابلے سے پہلے ہی میرے لیے نقد انعام کا خوبصورت سا لفافہ تیار رکھتی تھیں۔ مجھ پر میری صلاحیتوں پر ان کا یہ اعتماد مجھے بھی یہ درس دے رہا ہے کہ میں اپنے شاگردان پر بہ ایں طرز شفقت و مہربانی کے ساتھ وہ اعتماد رکھوں جس کی طلبہ کو ضرورت ہے۔میں ان کے لیے دعا گو ہوں کہ اُن کی حیات کو رب العزت صحت و عافیت سے پُر رکھے اور تمام اساتذہ کے درجات کو بلند رکھے، آمین! جن کی بدولت ہم قابل بن سکے۔ آخر میںیہ کہنا چاہوں گا کہ’’اُستادوں کا استاد ہے اُستاد ہمارا‘‘
ہم اپنے طالبان میں دنیا بھر کی تمام خوبصورت ، دلکش اور مثبت خوبیاں دیکھنا چاہیں گے کہ وہ مثلِ آفتاب و ماہتاب چمکیں، دونوں جہاں میں سرخروئی حاصل کریں، خوب بلند اقدار و کردار کے مالک بنیں کیونکہ میں خود بھی میرے عزیز شاگردوں کی مناسبت سے ایک استاد ہوں۔ وہ عظیم عہدوں کے حقدار بنیں۔ اپنے طلبہ کے تعلق سے میری کوشش رہتی ہے کہ وہ امتحان میں صرف اچھے مارکس حاصل نہ کریں بلکہ وہ علم کو اپنی عملی زندگی میں استعمال کرنا بھی سیکھیں۔ میرے لئے اپنے طلبہ کی اہم کامیابی یہ ہے کہ وہ نیک انسان بنیں، اپنے والدین اور اساتذہ کا احترام کریں، وہ ایسا کام کریں کہ لوگ انہیں اچھے نام سے یاد کریں ۔آخری پیغام اپنے طلبہ کیلئے کہ وہ محبِّ زبان بنیں۔
استاد صرف مستقبل کے بارے میں نہیں پڑھاتا بلکہ وہ مستقبل بھی بناتا ہے
مہ جبین نعیم احمد( سویس ماڈل پری پرائمری اینڈ پرائمری اسکول، مالیگاؤں)
معلمی میرے لیے محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک احساس، ایک ذمہ داری اورمسلسل سیکھنے کا سفر ہے۔ میرے نزدیک استاد وہ ہستی ہے جو صرف کتاب کے صفحات نہیں کھولتا بلکہ ذہنوں میں سوچ کے بند دروازے کھولتا ہے، دلوں میں حوصلہ پیدا کرتا ہے اور زندگی کو ایک مثبت سمت عطا کرتا ہے۔میں معلمہ اسلئے بنی کہ ہمیشہ سے میری یہ خواہش تھی کہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے ذریعے معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرسکوں۔ کچھ نیا سمجھ میں آجانے پر بچے کی آنکھوں میں آنے والی چمک اور اس کےچہرے سے جھلکنے والی خوشی ، اس کی کامیابی اور اس کے اعتماد میں اضافہ میرے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے۔میرا تعلیمی اور تدریسی سفر دونوں ہی سویس ماڈل پرائمری اسکول سے جڑا ہوا ہے۔ یہ میرے لیے باعثِ فخر ہے کہ جس ادارے سے میں نے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کیا، اسی ادارے میں مجھے تدریسی خدمات انجام دینے کا موقع بھی مل گیا۔
کبھی اسی آنگن میں علم کی پیاسی تھی میں:آج اسی آنگن میں علم بانٹنے کا اعزاز ہے مجھے
اگر مجھ سے کسی ایک استاد کا نام پوچھا جائے کہ میں کس استاد سے متاثر ہوں تو شاید میرے لیے انتخاب مشکل ہو کیونکہ میرے تعلیمی سفر میں آنے والا ہر استاد میری شخصیت کی تعمیر میں کسی نہ کسی طرح شریک رہا ہے۔ کسی نے علم دیا، کسی نے سوچنے کا انداز سکھایا، کسی نے نظم و ضبط، کسی نے حوصلہ دیا تو کسی نے میری صلاحیتوں کو پہچان کر اسے مزید نکھارا۔ میرے لیے ہر استاد ایک کتاب کی مانند رہا، جس کے ہر صفحے سے میں نے کچھ نہ کچھ سیکھا۔
بحیثیت معلمہ میری ذمہ داری صرف نصاب مکمل کرنا نہیں بلکہ بچوں کی تعلیم، تربیت، کردار سازی اور مستقبل کی تیاری بھی ہے۔ جدید دور میں ٹیکنالوجی اور جدید تدریسی طریقوں کے مثبت استعمال سے بچوں میں تخلیقی سوچ، خود اعتمادی، تحقیق اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے۔میرے نزدیک استاد کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے کتنے اسباق پڑھائے، بلکہ یہ ہے کہ اس نے کتنے ذہن روشن کیے، کتنے کردار سنوارے اور کتنے مستقبل تعمیر کیے۔استاد صرف مستقبل کے بارے میں نہیں پڑھاتا بلکہ استاد مستقبل بھی بناتا ہے۔
امام سر کےپڑھانے کا انداز بہت مؤثر اور طلبہ کے ساتھ رویہ بہت اچھا تھا
سلمانی رضوان علاءالدین (جونیئر کالج اسسٹنٹ لیکچرر،نیشنل اردو ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کلیان)

میں نے ٹیچر بننے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ میرے نزدیک تعلیم صرف کتابیں پڑھانے کا نام نہیں بلکہ ایک انسان کی شخصیت اور مستقبل کو سنوارنے کا ذریعہ ہے۔ ایک استاد اپنے طلبہ کو صرف علم نہیں دیتا بلکہ ان میں اعتماد، اخلاق، نظم و ضبط، سوچنے کی صلاحیت اور زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی پیدا کرتا ہے۔میرے نزدیک استاد وہ شخص ہے جو صرف سبق نہیں پڑھاتا بلکہ نسلوں کی تربیت کرتا ہے۔ اسی لیے میں نے تدریس کو اپنے لیے صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری اور خدمت سمجھ کر منتخب کیا ہے۔
مجھے میرے ایک استاد محترم امام سر نے سب سے زیادہ متاثر کیا کیونکہ ان کا پڑھانے کا انداز بہت مؤثر، مختلف اور مثبت ہوتا تھا اور طلبہ کے ساتھ ان کارویہ بھی بہت اچھا رہتا تھا۔ وہ ہر طالب علم کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے اور کمزور طلبہ کی خاص طور پر حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے۔ ان سے میں نے سیکھا کہ ایک اچھا استاد وہ ہوتا ہے جو صرف علم نہ دے بلکہ اپنے طلبہ میں اعتماد، محنت اور آگے بڑھنے کا جذبہ بھی پیدا کرے۔ ان کی شخصیت اور تدریس کے انداز نے مجھے بھی ایک اچھا اور ذمہ دار استاد بننے کی ترغیب دی۔
میں اپنے طلبہ کو مستقبل میں کامیاب اور ذمہ دار انسان بنتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ وہ اپنی قابلیت اور دلچسپی کے مطابق اپنے پسندیدہ شعبے میں کامیابی حاصل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں چاہتا ہوں کہ وہ اچھے اخلاق، مثبت سوچ اور دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ بھی رکھیں۔ وہ صرف مارکس کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ کتابوں میں درج پیغام کو اپنے سینے میں اتاریں۔ میرے لیے طلبہ کی اصل کامیابی صرف اچھی نوکری حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ ایک اچھا انسان بننا بھی ہے، جو اپنے والدین، اساتذہ اور ملک کا نام روشن کرے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنے طلبہ تک وہ سارے علوم پہنچاؤں جو مجھے میرے اساتذہ سے ملے ہیں۔