• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یومِ اساتذہ پر روشن مستقبل کے معماروں کو سلام

Updated: September 05, 2026, 1:24 PM IST | Tausif Parvez and Muhammad Muzaffar | Mumbai

یہ دن ان تمام عظیم ہستیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کاہے جو اپنے علم و تجربے اور محبت سے بچوں کی زندگیوں میں امید کے چراغ روشن کرتے ہیں۔

Teachers impart knowledge, skills, character, and the keys to success to the new generation. Picture: INN
اساتذہ نئی نسل کو علم، ہنر، کردار اور کامیابی کے گر سکھاتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

استاد صرف کتاب کے صفحات پر لکھی ہوئی عبارت سمجھانے والا شخص نہیںبلکہ وہ ایک نسل کی سوچ، کردار اور مستقبل کو سنوارنے والا معمار ہے۔ یومِ اساتذہ دراصل ان تمام عظیم ہستیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جو اپنے علم، تجربے، محبت اور محنت سے بچوں کی زندگیوں میں امید کے چراغ روشن کرتے ہیں۔

آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں استاد کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور معلومات کی فراوانی نے تعلیم کے انداز کو بدل دیا ہے، لیکن استاد کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ اس کی ذمہ داری مزید اہم ہوگئی ہے۔ آج ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا کہ بچے امتحان میں کتنے نمبر حاصل کریں گے بلکہ یہ سوچنا ہوگا کہ وہ آنے والے کل کیلئے کتنے باصلاحیت، باکردار، خوداعتماد اور ذمہ دار انسان بنیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: کیا سعودی، ترکی اور پاکستان مکہ معاہدہ میں ایران کو بھی شامل کر سکتے ہیں؟

مستقبل کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری تعلیمی ترجیحات میں چند بنیادی مہارتوں کو شامل کرنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے بچوں کو ڈیجیٹل لٹریسی، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، معلومات کی جانچ اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال سے روشناس کرایا جائے۔ انہیں یہ سکھایا جائے کہ ٹیکنالوجی صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلیم، تحقیق، تخلیق اور روزگار کے نئے مواقع کا وسیلہ بھی ہے۔اس کے ساتھ بچوں میں تنقیدی اور تخلیقی سوچ، سوال کرنے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے۔ ہفتے میں کم از کم ایک ایسی سرگرمی رکھی جا سکتی ہے جس میں بچے کسی حقیقی مسئلے کا حل تلاش کریں، تحقیق کریں، اپنی رائے پیش کریں اور دوسروں کے خیالات کو سمجھیں۔ اس طرح تعلیم رٹنے کے بجائے سوچنے اور سمجھنے کا عمل بنے گی۔

بچوں کے مستقبل کیلئے مؤثر ابلاغ بھی نہایت ضروری ہے۔ اردو اور انگریزی میں گفتگو، تحریر، پریزنٹیشن اور عوامی اظہار کی باقاعدہ مشق کرائی جائے تاکہ بچے اپنے خیالات اعتماد کے ساتھ بیان کرسکیں۔ اسی طرح مطالعے کی عادت کو فروغ دیا جائے اور اسکول میں ہفتہ وار مطالعہ کا وقت مقرر کیا جائے۔

تعلیم کے ساتھ مالیاتی شعور اور عملی زندگی کی مہارتیں بھی بچوں کو سکھائی جائیں۔ انہیں بچت، بجٹ، ضرورت اور خواہش میں فرق، بنیادی کاروباری اصول اور وسائل کے درست استعمال سے آگاہ کیا جائے۔ مختلف پروجیکٹس، سائنس کے تجربات، فنون، کوڈنگ اور دیگر عملی سرگرمیوں کے ذریعے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی فروغ دیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ٹیکنالوجی کی سہولت کے بدلے کہیں ہم اپنی خودمختاری تو نہیں کھو رہے؟‘‘

مستقبل کا کامیاب انسان صرف ذہین نہیں بلکہ اچھے کردار کا حامل بھی ہونا چاہئے۔ اسلئے ٹیم ورک، نظم و ضبط، دیانت داری، برداشت، احترام، ذمہ داری اور قیادت جیسی اقدار کو روزمرہ تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ بنایا جائے۔ ہر بچے کی صلاحیت اور دلچسپی کو پہچان کر اسے اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔

والدین اور اساتذہ کے درمیان مضبوط رابطہ بھی بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے ضروری ہے۔ بچے کی صرف تعلیمی کارکردگی نہیں بلکہ اس کی دلچسپی، شخصیت، کردار، تخلیقی صلاحیت اور خوداعتمادی میں ہونے والی پیش رفت پر بھی توجہ دی جائے۔ ہر ماہ بچے کی علم، ہنر، کردار اور خوداعتمادی کے حوالے سے مختصر جائزہ لیا جاسکتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں پر صرف نمبروں اور مقابلے کا دباؤ نہ ڈالا جائے۔ انہیں یہ سکھایا جائے کہ ناکامی اختتام نہیں بلکہ سیکھنے کا ایک موقع ہے۔ انہیں خواب دیکھنے، سوال کرنے، غلطی کرنے، دوبارہ کوشش کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا حوصلہ دیا جائے۔

آج ہماری کلاس روم میں بیٹھا ہوا بچہ ہی کل کے معاشرے کی تعمیر کرے گا۔ اگر ہم اسے صرف امتحان پاس کرنے کیلئے تیار کریں گے تو شاید وہ ایک سند حاصل کرلے، لیکن اگر ہم اسے سوچنا، سیکھنا، کردار بنانا، مسائل حل کرنا، ٹیکنالوجی کا درست استعمال کرنا اور بدلتے حالات کے ساتھ خود کو بہتر بنانا سکھائیں گے تو وہ حقیقی معنوں میں مستقبل کیلئے تیار ہوگا۔آج کے بچے کو صرف کل کی کسی مخصوص ملازمت کیلئے نہیں، بلکہ مسلسل سیکھتے رہنے، نئی مہارتیں حاصل کرنے اور بدلتی ہوئی دنیا میں نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے تیار کرنا ہوگا۔ یہی جدید تعلیم کا اصل مقصد ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اساتذہ کو علم، حکمت، صبر اور اخلاص عطا فرمائے، ان کی محنتوں کو قبول فرمائے اور ان کے ذریعے ہماری نئی نسل کو علم، ہنر، کردار اور کامیابی کی بلندیوں تک پہنچائے۔

آئیے، اس یومِ اساتذہ پر ہم سب یہ عہد کریں کہ ہم بچوں کو صرف اچھے نمبر حاصل کرنے کیلئے نہیں بلکہ اچھا انسان، باصلاحیت شہری اور روشن مستقبل کا معمار بننے کے لیے تعلیم دیں گے۔اساتذہ کو سلام، علم کو سلام، اور روشن مستقبل کے معماروں کو سلام!

مضمون نگار’ایس سی ای آر ٹی‘ مہاراشٹر پونے کےرابطہ کار برائے اُردو ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK