Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ کے احتجاج میں ڈرامائی موڑ

Updated: July 19, 2026, 12:28 PM IST | Mumbai

چند روز قبل، دہلی ہائی کورٹ نے مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے بعد جو ہدایت دی تھی وہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگ چک کی صحت کی نگرانی سے متعلق تھی۔ عدالت نے اُنہیں دھر دبوچ کر، زبردستی اسپتال لے جانے کا حکم نہیں دیا تھا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

سنیچر (۱۸؍ جولائی ۲۶ء) کی صبح دہلی پولیس کے افسران کا جنتر منتر پر اچانک دھاوا بولنا غیر حساسیت کا مظہر اور غیر پیشہ ورانہ عمل ہے۔ چند روز قبل، دہلی ہائی کورٹ نے مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے بعد جو ہدایت دی تھی وہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگ چک کی صحت کی نگرانی سے متعلق تھی۔ عدالت نے اُنہیں دھر دبوچ کر، زبردستی اسپتال لے جانے کا حکم نہیں دیا تھا۔ جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ سونم اور اُن کے ساتھیوں کا بیس سے زیادہ دِنوں کا احتجاج پُرامن تھا۔ کوئی ناخوشگوار واقعہ وہاں پیش نہیں آیا۔ اِس پس منظر میں، پولیس کی کارروائی احتجاج کو کمزور کرنے کی کوشش کے علاوہ کچھ نہیں۔ ضروری تھا کہ مصروفِ احتجاج طلبہ سے بات چیت کی جاتی۔ کیا اتنے دنوں تک کسی سرکاری نمائندہ کا مظاہرین سے رابطہ نہ کرنا اس لئے تھا کہ اکیسویں دِن وہاں پولیس کو پہنچنا تھا؟
جمہوری طریقہ اپنا کر مسائل پر گفتگو کے بجائے طاقت کے ذریعہ حل نکالنے کی کوشش تشویشناک ہے۔ اِس وقت سب سے زیادہ متاثر اور پریشان کوئی ہے تو وہ ملک کے نوجوان اور طلبہ برادری ہے۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ پیپر لیک کے بارے میں تشفی بخش جواب دیتی۔ اس کا فرض تھا کہ طلبہ اور نوجوان برادری کو اعتماد میں لیتی۔ اس کی ذمہ داری تھی کہ مکالمے کی راہ اختیار کرکے طلبہ تنظیموں سے مشاورت کرتی۔ بیس دن کے احتجاج کا نوٹس نہیں لیا گیا مگر جب انہی طلبہ کے پارلیمنٹ تک مارچ کی تاریخ قریب آئی تو صبح صبح پولیس پہنچ گئی۔ ملک کے طلبہ پیپر لیک سے پریشان ہیں، نظام ِ تعلیم کی استحصال پسندی سے عاجز ہیں، اپنے خوابوں کو ٹوٹتا اور بکھرتا ہوا دیکھ رہے ہیں، انہیں اپنا مستقبل غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے، کئی طلبہ خود کشی کرچکے ہیں، اس کے باوجود اگر حکومت اعتماد کی فضا تیار کرنے کو تیار نہیں ہے اور دوستانہ اور مشفقانہ طرز عمل نہیں اپنانا چاہتی ہے تو ایسا کرنا ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگانے جیسا ہے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات کیا ہیں ؟ وزیر تعلیم استعفےٰ دیں، این ٹی اے کو تحلیل کیا جائے، نئی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء کا نفاذ روکا جائے، نظام ِ تعلیم میں غیر معمولی مسابقت اور مقابلہ آرائی ختم کی جائے، تعلیمی اخراجات کم سے کم کئے جائیں، ہر طبقہ اور فرقہ کے طلبہ کو شمولیت کی ضمانت دی جائے اور ہر خاص و عام کو معیاری تعلیم کے حصول کا موقع ملے۔ کوئی بتائے کہ ان میں کون سا مطالبہ ناجائز ہے۔ اگر اس کا جواب نہیں ملتا تو حکومت ہی بتائے کہ وہ کون سی پالیسی ہے جس کے تحت ان مطالبات کو سننے سے بھی انکار کیا گیا۔ 
اُدھر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پہلے کوٹا اور پھر دہرا دون میں غیر سیاسی ریلیوں کے ذریعہ طلبہ کو یقین دلایا کہ وہ اور اُن کی پارٹی اُن کے ساتھ ہے۔ ایسی ہی رَیلیاں مرکزی و ریاستی وزراء بھی کرسکتے تھے۔ اراکین پارلیمان بھی اپنے اپنے پارلیمانی حلقوں میں طلبہ اور نوجوانوں سے ملاقاتیں کرسکتے تھے۔ کیا یہ اتنا مشکل کام تھا؟ ایسی کوششیں کی جاتیں تو جنتر منتر کا احتجاج نہ ہوتا اور پیر سے شروع ہونے والے پارلیمانی اجلاس کیلئے حکمراں طبقہ کے پاس اپوزیشن کے سوالوں کا جواب ہوتا۔ افسوس کہ وہ معاملات جو بہ آسانی سلجھ سکتے تھے اس قدر اُلجھا دیئے گئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK