Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسکائی روٹ ایرواسپیس کا وِکرم-۱ خلاء میں پہنچنے والا پہلا نجی اوربیٹل راکٹ بن گیا

Updated: July 18, 2026, 8:01 PM IST | Hyderabad

حیدرآباد کی کمپنی، اسکائی روٹ ایرواسپیس نے ۱۸ جولائی کو اپنا وِکرم-۱ (Vikram-1) راکٹ آندھرا پردیش کے شری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے دوپہر ۱۲:۰۵ بجے کامیابی سے لانچ کرکے تاریخ رقم کر دی۔ یہ خلاء میں کامیابی سے پہنچنے والا ہندوستان کا پہلا نجی طور پر تیار کردہ اوربیٹل کلاس راکٹ بن گیا۔ اس سنگِ میل نے ملک کو نجی اوربیٹل لانچ کی صلاحیت حاصل کرنے والا دنیا کا تیسرا ملک بنا دیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

حیدرآباد کی کمپنی، اسکائی روٹ ایرواسپیس نے ۱۸ جولائی ۲۰۲۶ء کو اپنا وِکرم-۱ (Vikram-1) راکٹ آندھرا پردیش کے شری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے دوپہر ۱۲:۰۵ بجے کامیابی سے لانچ کرکے تاریخ رقم کر دی۔ یہ خلاء میں کامیابی سے پہنچنے والا ہندوستان کا پہلا نجی طور پر تیار کردہ اوربیٹل کلاس راکٹ بن گیا۔ اس اہم سنگِ میل نے ملک کو نجی اوربیٹل لانچ کی صلاحیت حاصل کرنے والا دنیا کا تیسرا ملک بنا دیا ہے۔

لانچ کے بعد، وِکرم-۱ نے اپنا آخری مرحلہ مکمل کیا اور اپنے پے لوڈز کو ۴۵۰ کلومیٹر کے لو ارتھ اوربٹ (کم بلندی والے زمینی مدار) میں داخل کر دیا، جو مشن کی توقعات سے بھی بڑھ کر تھا۔ ان-اسپیس (IN-SPACe) کے چیئرمین ڈاکٹر پون کے گوئنکا نے باضابطہ طور پر اس کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”وِکرم-۱ نے نہ صرف اپنے مشن کا ہدف پورا کیا، جو محض لانچنگ ٹاور کو عبور کرنا تھا، بلکہ یہ ۴۵۳ کلومیٹر بلند مدار تک گیا اور تمام کاموں کو کامیابی سے مکمل کیا۔ یہ ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: جیو کے ۱۶۰۰؍مواصلاتی سیٹیلائٹس کے مجوزہ نیٹ ورک کو تکنیکی منظوری

اس مشن کو ”آگمن“ کا نام دیا گیا ہے جس کا مطلب ’آمد‘ ہوتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ ہندوستان کی کسی نجی کمپنی نے اپنے خود کے لانچ وہیکل کا استعمال کرتے ہوئے سیٹلائٹس کو مدار میں پہنچایا ہے، جو مکمل طور پر کسی سرکاری راکٹ پروگرام سے آزاد تھا۔ وِکرم-۱، ۲۴ میٹر طویل، چار مراحل والا راکٹ ہے جو آل کاربن کمپوزٹ اسٹرکچر سے بنایا گیا ہے، یہ تین ٹھوس ایندھن (solid-fuel) کے مراحل اور ایک مائع اوربیٹل ایڈجسٹمنٹ ماڈیول سے لیس ہے۔ اسے ۶۰ ڈگری کے جھکاؤ کے ساتھ ۴۵۰ کلومیٹر کے لو ارتھ اوربٹ میں ۳۵۰ کلوگرام تک کے پے لوڈز لے جانے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس وہیکل میں تھری ڈی پرنٹڈ انجن، ماڈیولر اسٹیج سیپریشن اور ہلکے وزن والی کاربن فائبر مینوفیکچرنگ شامل ہیں، ان میں کئی ایسی ٹیکنالوجیز ہیں جو ہندوستان میں پہلی بار استعمال کی جا رہی ہیں۔

وکرم-۱ کے ذریعے گراہا اسپیس، کاسمو سرو، ڈی کیوبڈ اور اسکائی روٹ کے اپنے ’اسکوپ‘ (SCOPE) کے بنیادی پے لوڈز کو کامیابی کے ساتھ مدار میں نصب کیا گیا۔ راکٹ اپنے ساتھ بنگلورو کی کمپنی کاسموس ڈائمنڈز کا لیبارٹری میں تیار کردہ ڈائمنڈ لوٹس (ہیرے کا کنول)، وِکرم سارابھائی، سی وی رمن اور اے پی جے عبدالکلام کے مائیکرو مجسمے، ۱۸ قیراط سونے کا راکٹ اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کا ہاتھ سے لکھا ہوا پوسٹ کارڈ بھی لے کر گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کھیلوں کی صنعت کیلئے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ساتھ تعاون کرے گا

وزیرِ اعظم مودی نے اسے ’وندے ماترم مشن‘ قرار دیا

وزیرِ اعظم مودی نے وکرم-۱ کی کامیاب لانچ کے بعد اسکائی روٹ کی ٹیم کو فون کیا اور اس مشن کو ”وندے ماترم مشن اور بھارت ماتا کی عظمت کو نئی بلندیوں تک لے جانے والا مشن“ قرار دیا۔ اسکائی روٹ کے سی ای او پون کمار چندانا نے مودی کو بتایا کہ ”آپ کا کارڈ کامیابی سے مدار میں پہنچ گیا ہے۔ وندے ماترم مدار میں ہے۔“ مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں اس لانچ کو ”ہندوستان کے خلائی سفر کا اہم اور تاریخی لمحہ“ قرار دیا اور مزید کہا کہ ملک کے نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شرکت ”نئی سرحدیں کھول رہی ہے اور اختراع (innovation) کو تیز کر رہی ہے۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK