دہلی میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگ چک کو حکومت نے زبردستی پولیس کے ذریعے اٹھواکر اسپتال بھیج دیا۔ ان کی جگہ اب کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے خود بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 19, 2026, 9:34 AM IST | Aurangabad
دہلی میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگ چک کو حکومت نے زبردستی پولیس کے ذریعے اٹھواکر اسپتال بھیج دیا۔ ان کی جگہ اب کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے خود بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں۔
دہلی میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگ چک کو حکومت نے زبردستی پولیس کے ذریعے اٹھواکر اسپتال بھیج دیا۔ ان کی جگہ اب کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے خود بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں۔ اس کی وجہ سے اورنگ آباد میں ابھیجیت کے والدین پریشان ہیں۔ ایک مراٹھی چینل سے بات کرتے ہوئے ابھیجیت کی والدہ انیتا دپکے نے کہا کہ سونم وانگ چک کا دہلی میں احتجاج عمدہ اور پرامن طریقے سے چل رہا تھا، اب جبکہ آج انہیں لے جایا گیا ہے، تو وہ (ابھیجیت) بھی بھوک ہڑتال پر بیٹھ گیا۔ ہمیں اس کی فکر ہے، ہماری اس سے کوئی بات نہیں ہوئی بلکہ ہم نے دو تین دن سے اس سے بات نہیں کی۔ ‘‘ان کا کہنا ہے کہ ’’حکومت کو ایسا نہیں کرنا چاہئےتھا، انہوں نے غلط کیا، بچے پر امن احتجاج کر رہے تھے۔ انہیں جو بھی فیصلہ کرنا تھا ۲۰؍ تاریخ کے بعد کرنا چاہئے تھا۔ہم سب ۲۰؍ تاریخ کا انتظار کر رہے تھے، کہ بچے اب گھر آئیں گے، تب گھر آئیں گے، اسے ( ابھیجیت) کو گھر سے گئے ایک مہینہ ہو گیا، ہمیں اس کی فکرہے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ پتہ نہیں حکومت ان تمام طلبہ کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لے رہی؟ کچھ نہیں معلوم کیا ہو رہا ہے کیا نہیں۔ ‘‘
ابھیجیت د پکے کے والد بھگوان رائو دپکے نے بھی میڈیا سے بات کی۔ انہوں نے کہا ہے کہ’’ ہم نے ابھجیت سے بات نہیں کی۔چار پانچ دن پہلے ضرور بات ہوئی تھی، لیکن اس کے بعد میری اس سے بات نہیں ہوئی کیونکہ میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ باپ کی حیثیت سےکسی کو بھی اپنے بچے کی فکر ہوتی ہے ، اسی طرح مجھے بھی اپنے بیٹے کی فکر ہے۔ تخت پر بیٹھے نریندر مودی سے، مجھے تھوڑی سی امید ہے، خدا انہیں عقل دے، ملک میں مختلف جگہوں پر طلبہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں، کیا وہ کسی کے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں؟ ‘‘ بھگوان دپکے نے کہا ’’کتنے لوگ ان کیلئے جانیں دے دیں، ان کی کوئی اولاد نہیں، بیوی نہیں، ان میں رحم نہیں، محبت نہیں۔ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اگر یہ انسان ہے۔ اگر نریندر مودی انسان ہیں، اس دنیا میں جتنے جاندار ہیں ان میںانسان ہی سب سے عقلمند ہوتا ہے۔ اگر مودی کا شمار انسانوں میں ہوتا ہے تو خدا انہیں عقل دے تاکہ وہ سن سکیں کہ طلبہ کیا کہہ رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ’’ ہم بھی اپنے بچے کے ساتھ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے والے ہیں، ہم دونوں وہاں( دہلی) جا رہے ہیں۔ میری آنکھوں میں آنسو ہیں، انہیں بھی احساس ہونا چاہئے، کیا یہ طالب علم پاکستان سے آئے ہیں؟ کیا یہ بیرون ملک سے آئے ہیں؟یہ ہندوستانی طالب علم ہیں، اس شخص کو اتنی بے رحمی سے کام نہیں لینا چاہئے، اس کے سرپر اقتدار کا خمار چڑھا ہوا ہے۔ ہٹلر کی طرح اس کے سر میں خمار چڑھا ہوا ہے، وہ خمار اترے گا اور اور جمہوری طریقوں ہی سے اترے گا۔
دپکے کی ماں نے کہا’’ ہم بھی دہلی جا کر بھوک ہڑتال کریں گے۔ ہمارے کسی بیٹی یا بیٹے نے نیٹ کا امتحان نہیں دیا ہے ۔ جنہوں نے خودکشی کی ہے، وہ بھی ہمارے رشتہ دار نہیں تھے لیکن یہ سارے طلبہ ہمارے ہیں۔ ہمیں ان چیزوں کو ذات یا مذہب کی بنیاد پر نہیں دیکھنا چاہئے۔ میرا صرف یہ کہنا ہے کہ خدا اس نریندر مودی کو عقل دے اور وہ ان بچوں کی بات سنیں، آپ یہ بات اسے ان تک پہنچا دیں۔‘‘ یاد رہے کہ ابھیجیت کا آبائی وطن اورنگ آباد ہے جبکہ وہ امریکہ کی بوسٹن یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں جہاں سے احتجاج کیلئے ہندوستان آئے ہیں۔ ‘‘