آرہا ہے ای روپی

Updated: November 30, 2022, 2:06 PM IST | Mumbai

کیا آپ ای روپی کے استقبال کیلئے تیار ہیں جس کا اجراء یکم دسمبر کو ہونے جارہا ہے؟ شاید نہیں۔ ہمارا یہ احساس اس لئے ہے کہ ابھی یہ تصویر واضح نہیں کہ ای روپی کیا ہوگا، کیسا ہوگا اور اس سے کون سے فوائد حاصل کرلئے جائینگے۔

E-Rupee.Picture:INN
ای روپی۔ تصویر :آئی این این

کیا آپ ای روپی کے استقبال کیلئے تیار ہیں جس کا اجراء یکم دسمبر کو ہونے جارہا ہے؟ شاید نہیں۔ ہمارا یہ احساس اس لئے ہے کہ ابھی یہ تصویر واضح نہیں کہ ای روپی کیا ہوگا، کیسا ہوگا اور اس سے کون سے فوائد حاصل کرلئے جائینگے۔ ہماری آپ کی زندگیوں میں ڈجیٹائزیشن اتنی تیزی سے داخل ہوا ہے کہ ہم ذہنی طور پر اسے قبول کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ ای بینکنگ، پلاسٹک منی اور آن لائن لین دین کی آمد بھی استقبال کی تیاریوں سے پہلے ہوگئی مگر اس کے فوائد نے ہماری مزاحمت کم کردی۔ آج ہمارے لئے ’’منی آرڈر‘‘ قصہ ٔ پارینہ ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ آن لائن لین دین میں ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری رنگ چوکھا آتا ہے۔ چونکہ ہم لین دین کے روایتی طریقے پر عرصہ دراز سے قائم رہے ہیں اس لئے پرانے طریقے سے روپے ملنے کی خوشی تو نہیں ملتی اور نہ روپے کی ادائیگی کا اطمینان ہوتا ہے مگر جس برق رفتاری سے حصول و ادائیگی کے مراحل طے پاتے ہیں اس سے دل کی تسکین کا سامان فراہم ہوجاتا ہے۔ اس پس منظر میں جی چاہتا ہے کہ ای روپی کا خیرمقدم کریں۔ اس کی وجہ سے جیب میں نقدی رکھنے کی ضرورت پیش نہیں آئیگی۔ اس کی وجہ سے ریزگاری کا مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ بعض اوقات جب ریزگاری مارکیٹ میں کم ہوجاتی ہے تو لین دین کے معاملات میں کافی دقتیں آتی ہیں۔ ایسے ہی حالات میں دکانداروں نے کوپن سسٹم اپنے طور پر یعنی کسی بینک یا مرکزی بینک کی اجازت یا سرپرستی کے بغیر جاری کردیا تھا۔ اب ای روپی کی وجہ سے ریزگاری کی ایسی دقتوں سے محفوظ رہا جاسکے گا۔ مگر، جیسا کہ عرض کیا گیا، پہلے یہ آ تو جائے، اسے دیکھ لیں! ای روپی اور روایتی روپی میں فرق صرف اتنا ہے کہ روایتی روپیہ جیب میں یا بٹوے میں رہتا ہے، ای روپی برقی جیب یا برقی بٹوے (ای والیٹ) میں رہے گا۔ بعض اوقات الجھن ضرور ہوتی ہے کہ زندگی اتنی ای ای ہوتی جارہی ہے مثلا ای میل، ای ٹکٹ، ای بک، ای بینکنگ، ای مارکیٹنگ، وغیرہ لیکن ہر ای نے انسانی زندگی کو حیران کن تبدیلیوں اور سہولتوں سے مزین کیا ہے۔ یاد رہے کہ یکم دسمبر سے جاری ہونے والا ای روپی پہلے چار میٹروپولیٹن شہروں میں جاری ہوگا، یہاں کی کامیابی کے بعد دیگر شہروں میں اس کو وسعت دی جائیگی۔ ہمیں اس کے رواج پا جانے میں کوئی شک نہیں ہے مگر یہ روایتی روپے کا مکمل نعم البدل بن جائے اس کی امید زیادہ نہیں کیونکہ پیمنٹ کے دیگر ڈجیٹل پلیٹ فارم پہلے سے موجود ہیں۔ یہ ایک بات ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو لوگ معلوم وجوہات کی بناء پر نقد لین دین کو فوقیت دیتے ہیں وہ ہرگز ای روپی کو قبول نہیں کرینگے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ حکومت یا ریزرو بینک نے اس کیلئے عوامی اطلاع یا بیداری کا نظم نہیں کیا ہے۔کیا اس نظم کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا چند بڑے شہروں میں ان کے جاری ہوجانے اور ’’پائلیٹ پروجیکٹ‘‘ کے کامیابی سے ہمکنار ہونے کے بعد اس کی عوامی تشہیر کی جائیگی؟ یہ ہم نہیں جانتے۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ عوامی بیداری ضروری ہے تاکہ اگر ’’ای فراڈ‘‘ کا خدشہ ہو تو صارفین آگاہ رہیں اور ضروری احتیاطی تدابیر کو قبل از وقت ذہن نشین کرلیں۔بتانے کی ضرورت نہیں کہ ای فراڈ کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں،  بہت سے معاملات میں صارفین کا پیسہ واپس مل جاتا ہے لیکن ایسا بھی ہوتا ہےکہ روپوں کی بازیابی نہیں ہوپاتی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK