نبی رحمتؐ کی حیاتِ طیبہ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو آپؐ کی شخصیت صرف ایک روحانی پیشوا، مذہبی رہنما اور معلم اخلاق ہی کی نظر نہیں آتی بلکہ ایک مفکر، منتظم اور منصوبہ ساز کی بھی نظر آتی ہے۔ بحیثیت آخری رسولؐ ، اللہ تعالیٰ نے دین و دنیا کی تعمیر کی اَن گنت صلاحیتیں آپؐ کو ودیعت کی تھیں اور پھر اپنے فیضانِ خاص سے بذریعہ وحی آپؐ کی رہنمائی فرمائی تھی۔ اس کی ایک مثال شہری آبادکاری اور تعمیرات کے سلسلے میں آپؐ کی منصوبہ بندی ہے جس کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ کیجئے۔
مدینہ منورہ کا ایک خوبصورت فضائی منظر، جس میں پورا شہر ِ مبارک نور میں ڈوبا ہوا سا محسوس ہورہا ہے۔ تصویر: آئی این این
نبی رحمت ﷺ خاتم الانبیا کی زندگی کا ہر پہلو ہراعتبار سے کامل ترین ہے۔ آپؐ نے اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا اور اس کا تعارف آپؐ نے عملاً اس کے قیام کے ذریعے فرمایا۔ معاشی و سماجی اصلاحات کیں، مدینہ کے شہریوں کے رہن سہن کے اصول و ضوابط مرتب کیے۔ شہریوں کی روزمرہ ضروریات کی تکمیل کیلئے باضابطہ لوگوں کو تیار فرمایا۔ مسلمان کو اپنا معاش خود تلاش کرنے کی ہدایت دی اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ طریقے بھی ارشاد فرمائے اور اس سلسلے میں ہرممکن عملی تعاون کا مظاہرہ بھی فرمایا۔
آپؐ کی آمد سے قبل مدینے میں کوئی نظام موجود نہیں تھا۔ تمام نظام کا آغاز آپؐ ہی نے فرمایا اور اسے ترقی دی اور اس کے تسلسل اور ارتقا کے لئے اصول و ضوابط متعین کیے۔ آپؐ نے اس نظام کی بنیاد ان اصولوں پر رکھی جو بعد میں چل کر ترقی یافتہ تہذیب کی بنیاد بنے۔
حدود کا تعین: اگرچہ مدینہ منورہ کی ارضی حدود کا تعین اہلِ علم و سیر کے درمیان متفق علیہ امر نہیں ہے، لیکن آپؐ نے شہرمدینہ کی حدود کا جو تعین کیا وہ درج ذیل ہے: مشرق اور مغرب میں لاوے کی پہاڑیاں اور حرہ کا میدان، شمال میں جبلِ ثور اور جنوب میں جبلِ عیر مدینہ کی حدود اربعہ قرار پائے۔ (عہدنبویؐ کے میدانِ جنگ) رسولِ پاکؐ نے مکہ کی طرح مدینہ کو بھی حرم قرار دیا۔ صحیح مسلم کی روایت ہے: مدینہ عیر سے ثور تک حرم ہے۔جبلِ ثور اُحد کے پیچھے ہے، اور جبلِ عیر ذی الحلیفہ کی میقات کے پاس مکہ کی طرف ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایک بے سکون دَور
مسلمانوں کی آبادکاری کا انتظام: ہجرتِ مدینہ کے فوراً بعد ہی جب مہاجرین بڑی تعداد میں مدینہ پہنچنا شروع ہوئے تو ان کی آبادکاری کا مسئلہ سامنے آیا۔ کچھ مہاجرین کی آبادکاری کا انتظام تو مدینہ میں موجود ان کے واقف کاروں کی جانب سے ہوگیا، لیکن سب افراد کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں تھا۔ اس مسئلے کے مکمل حل کے لئے اللہ کے رسولؐ نے مکّی اور مدنی مسلمان خاندانوں کے سربراہوں کا ایک بڑا اجلاس بلوایا اور انہیں تاکید و نصیحت کی۔ وہ مخلصانہ تعاون کے ساتھ مہاجرین کی آبادکاری اور انضمام کے مسئلے کو آسان بنائیں۔ اس عمل کی انجام دہی کے لئے آپؐ نے ایک ٹھوس، مؤثر اور قابلِ عمل منصوبہ بھی پیش کیا، جس کی رُو سے ہر صاحب ِ حیثیت مدنی خاندان کے سربراہ کو ایک مکّی خاندان کو اپنے ساتھ لے کر جانا تھا اور اس کے ساتھ مؤاخاتی طور پر سلوک روا رکھنا تھا۔ اجلاس میں شامل تمام مسلمانوں نے اس بات سے اتفاق کیا اور حضوؐر نے فوری طور پر تقریباً ۱۸۶؍ مکّی حضرات کی مؤاخاۃ انصاری صحابہ سے قائم فرما دی۔ اس منصوبے پر عمل کروا کر آپؐ نے اپنی انتظامی و سیاسی بصیرت سے مسلمانوں کو درپیش ایک بڑے مسئلے کو آسانی سے حل فرما دیا۔ آبادکاری کیلئے مؤاخات کی حکمت عملی کو اختیار کرنا بہت سی حکمتوں اور مصالح کی بنا پر تھا جن کا فائدہ مستقبل میں ہوا۔
اس مؤاخاتی نظام سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ اسلامی سنہ ہجری کے آغاز کے موقعے پر مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے کم و بیش ۴۰۰ خاندانوں کے سربراہ پہلے ہی مسلمان تھے اور یقینا مسلمانوں کی حقیقی تعداد اس سے کافی زیادہ تھی۔ اس کے بعد کے مدنی دور میں جن آبادیوں کے افراد متفرق طور پر ایمان لاتے یا کسی جگہ کی چھوٹی آبادی ایمان لاتی تو ان کو مدینے میں لاکر بسایا جاتا، اور ان کی تعلیم و تربیت اور معاش کا انتظام کیا جاتا۔
اس طریقے سے رفتہ رفتہ مدینے کی مسلم آبادی تیزی سے بڑھنے لگی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دو ہجری (۲ھ) میں جب رسولِ پاکؐ نے ایک موقعے پر غزوہ میں شرکت کے لئے مسلمانوں کی مردم شماری کرائی تو ان کی تعداد کوئی ۱۵۰۰؍ تھی۔ چنانچہ مسلمان مہاجرین کی تعداد میں روزافزوں اضافہ ہوتا چلا گیا اور وہ اپنی قرابت داریوں کی رعایت کرتے ہوئے مدینہ میں قیام پذیر ہوتے رہے۔ یہ تمام آبادکاری ایک مخصوص انتظام و انصرام کے تحت ہوئی۔ ہرآبادی کی ایک مسجد تھی، مارکیٹ تھی اور بعض بستیوں میں اپنا قبرستان تک بھی موجود تھا۔
ہر شہری کیلئے مکان: اللہ کے رسولؐ کے نزدیک پسندیدہ بات یہ تھی کہ ہر شہری کو علاحدہ مکان دستیاب ہو، آپؐ کا ارشاد ہے: ’’ انسان کی خوش حالی کیلئے جو چیزیں ضروری ہیں ان میں کشادہ مکان اور قابو کی سواری بھی ہے۔‘‘
(احمد بن حنبل، ابوعبداللہ الشیبانی، الامام ، المسند)
یہ بھی پڑھئے: قربانی، معنی و مفہوم اور اہمیت
چنانچہ مہاجرین مکہ کو ابتدا میں انصار کے ساتھ ان کے گھروں میں ٹھہرایا گیا، بعد میں نبی کریمؐ نے ان کیلئے قطعۂ اراضی کی فراہمی اور مکانات کی تعمیر کا منصوبہ بنا کر ان کو اپنے گھروں میں آباد کیا۔ اس آبادکاری کیلئے آپؐ نے افتادہ زمین کو استعمال کیا اور انصار کی طرف سے ہبہ کردہ آباد جگہوں سے بھی استفادہ کیا گیا۔ اس آبادکاری میں حضرت حارثہ بن نعمانؓ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس کام کے لئے نبی کریمؐ کو اپنی زمین اور مکانات ہبہ کئے۔ (وفاء الوفا، ج۱،ص ۵۲۷)
آبادی میں اضافے کا حل: مسلمانوںکی تعداد میں اضافہ ہونے کے سبب مدینے کی آبادی بڑھنے لگی۔ آبادی میں اضافے سے شہر کی زمین رہائش کے لئے کم اور پہلے کی بہ نسبت مہنگی ہوتی چلی گئی۔ اس دشواری اور مشکل کو حل کرنے کیلئے رسولِ پاکؐ نے ایک سے زیادہ منزلہ عمارات بنانے کا مشورہ دیا۔ خود رسولِ پاکؐ ہجرت کے بعد سات ماہ تک حضرت ابوایوب انصاریؓ کے دو منزلہ مکان میں قیام فرما ہوئے۔ پہلی منزل پر حضرت ابوایوبؓ کا خاندان آباد تھا اور نیچے کی منزل میں آپؐ نے قیام فرمایا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کثیر الاولاد تھے، ان کیلئے ان کا مکان چھوٹا پڑتا تھا۔ انہوں نے رسولِ پاکؐ کے سامنے یہ مسئلہ رکھا تو آپؐ نے فرمایا: ’’اُوپر کی منزل تعمیر کرو اور اللہ سے کشادگی کی دُعا کرو‘‘۔
شھروں کی آبادکاری:آپؐ نے اُس زمانے میں کسی بھی شہر کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کردی تھی نیز یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر شہر کی آبادی اس سے بڑھ جائے تو دوسرا شہر آباد کیا جائے۔ عہدنبویؐ کے اختتام تک مدینہ شہر کی حدود مغرب میں بطحان تک، مشرق میں بقیع تک، اور شمال مشرق میں بنی ساعدہ کے مکانات تک پھیل چکی تھی۔ حضرت ابوذر غفاریؓ سے رسول کریمؐ نے ایک موقعے پر فرمایا: جب مدینے کی آبادی سلع تک پہنچ جائے تو تم مدینہ چھوڑ دینا اور شام چلے جانا۔ (وفاء الوفائ، ج۱،ص ۸۴)
ان احکام اور واقعات سے معلوم ہوا کہ آپؐ مدینہ شہر کی آبادی اور اس کے وسائل میں تناسب قائم رکھنے کیلئے غیرضروری طور پر بڑھنے سے روکنے کے حق میں تھے اور دوسرے شہر آباد کرنے کی ہمت افزائی فرماتے تھے۔ یہ وہی پالیسی تھی جس پر بعد میں خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروقؓ نے عمل کرتے ہوئے کوفہ اور بصرہ جیسے نئے شہر آباد کیے۔
یہ بھی جان لیں!
مدینہ منورہ کو قدیم زمانے میں ’یثرب‘ کہا جاتا تھا۔ یثرب ’ثرب‘ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں: شروفساد پر قابو پانا یا ’تثریب‘ جس کے معنی گناہ پر مواخذہ کرنا اور گرفت کرنا ہے۔ نبی کریم ؐ کی آمد کے بعد اس کا نام طیبہ، طابہ اور مدینۃ الرسولؐ ہوگیا۔ قرآنِ مجید میں اسکے دونوں نام یثرب اور مدینہ آئے ہیں۔ مدینہ سرسبز و شاداب خطۂ زمین پر واقع ایک نخلستان ہے جہاں پانی کی فراوانی ہے اور جسے چاروں طرف سے سیاہ آتشیں چٹانوں نے گھیر رکھا ہے، جب کہ شہر کے شمال میں احد کا پہاڑ اور جنوب مغرب میں عسیر نامی کوہسار واقع ہے۔ ان کے علاوہ مدینہ میں کئی وادیاں ہیں جن میں سے مشہور ترین بطحان، مذینب، مہروز اور عقیق ہیں۔
آپؐ نے جدید ترین خطوط پر مدینہ شہر کی منصوبہ بندی فرمائی جو قارئین نے دائیں جانب کے مضمون میں پڑھا۔ رہائشی سہولتوں اور آمدورفت میں آسانی کے حوالے سے بھی آپؐ نے اصول و ضوابط طے کئے، راستوں کو کشادہ رکھنے کی ہدایت فرمائی، نئے محلے قائم کئے اور کسی ایک مقام پر آبادی کو مرتکز کرنے کے بجائے حکم دیا کہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر آبادیاں قائم کی جائیں۔ اجتماعی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے اسلامی اصولوں پر ایک نئے بازار کی بنیاد رکھی۔ آپؐ روزانہ اس بازار کا دورہ فرماتے، اوزان و پیمانہ جات کا جائزہ لیتے اور کاروبار کرنے والوں کو غلطی پر ٹوکتے۔
نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے مسجد نبویؐ کی تعمیر فرمائی۔ یہ مسجد ہمارے زمانے کی عام مسجدوں کی طرح محض ایک عبادت گاہ نہیں تھی بلکہ اسلامی ریاست کا سیکرٹریٹ بھی تھی اور عبادت گاہ بھی، تعلیم گاہ بھی تھی اور حسب ضرورت وہاں خیمہ نصب کرکے اسپتال کا کام بھی لیا جاتا تھا۔
مسجد نبویؐ جاے وقوع کے اعتبار سے مدینے کے وسط میں واقع ہے۔ جب رسول پاکؐ مکہ سے ہجرت کرکے تشریف لائے تو قباء، بنوسالم اور کئی محلوں کے لوگوں نے دست بستہ اپنے یہاں قیام کی پیش کش کی، مگر حضور اقدس ؐ قبیلہ بنو نجار میں حضرت ابوایوب انصاریؓ کے گھر فروکش ہوئے جو آج صحن مسجد کا حصہ ہے۔(سیرت النبیؐ، ج۴،ص ۱۱۶) اس جگہ کے انتخاب کی حکمت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب ہم مدینے کی شاہراہوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ یہی ریاست کے سربراہِ اعلیٰ کی رہائش گاہ اور سیکرٹریٹ بھی تھا، جہاں منصوبہ بندی کی جاتی، جہاں سے مبلغین اور معلمین بھیجے جاتے، جہاں حساب کتاب رکھا جاتا اور جہاں سے مختلف گورنروں اور دیگر ممالک کے سربراہوں سے خط و کتابت کی جاتی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: مہرفاطمی کی ادائیگی، صدقات کی اقسام، ایام ِ اضحیہ کے بعد کوئی قربانی نہیں
بازار اور تجارتی مراکز کا قیام: شہری آبادی کی معاشی، سماجی اور یومیہ ضروریات پوری کرنے کیلئے شہر میں مارکیٹ اور تجارتی مراکز کا قیام بھی ناگزیر ہے۔ رسولِ پاکؐ نے اس بنیادی ضرورت کو محسوس فرمایا، کیوں کہ بڑی تعداد میں مسلمان ہجرت کرکے مدینہ میں آباد ہوگئے تھے، جن کے پاس زمین جائیداد نہیں تھی، وہ تجارت پیشہ تھے اور ان کے معاشی استحکام کا ذریعہ تجارت ہی ہوسکتی تھی اور اس کے لئے بازار اور مارکیٹ کا فروغ شہری ریاست کی اہم ضرورت بن گئی تھی۔
رسول پاکؐ نے اس سلسلے میں دو اُمور کی طرف توجہ فرمائی۔ ایک طرف تو آپؐ نے زراعت اور ملازمت کے مقابلے میں تجارت کی حوصلہ افزائی فرمائی اور اسے فروغ دینے کی ضرورت واضح فرمائی۔ آپؐ نے ایمان دار تاجر کو اجر کے لحاظ سے صدیقین، شہدا ءاور انبیاءؑ کے ہم رُتبہ قرار دیا۔ تجارت کرنے والوں کیلئے آپؐ نے برکت کی دعائیں کیں اور بھیک مانگنے والے گداگروں کی حوصلہ شکنی کی۔
مدینہ کی مرکزی مارکیٹ: آپؐ نے وسط مدینہ میں ایک مرکزی مارکیٹ بنوائی، جسے سوق المدینہ کہا جاتا ہے۔ اس وقت مدینے کی مشہور اور بڑی مارکیٹ قینقاع تھی جو یہودیوں کے علاقے میں تھی۔ وہاں وہ گاہکوں کا استحصال کرتے اور ان کی عورتوں کے ساتھ چھیڑخانی اور بدتمیزی بھی کرتے۔ اسی وجہ سے وہ جلاوطن بھی کئے گئے۔ رسولِ پاکؐ نے اس کے مقابلے میں مدینے کی مرکزی جگہ پر مسجدنبویؐ اور بقیع کے نزدیک ’سوق المدینہ‘ کہلانے والا بازار بنوایا۔
مارکیٹ منتظمین کا تقرر: مقامی منتظمین میں بازار کے منتظم کا ذکر بھی ملتا ہے جو خاص اہمیت کا حامل ہے۔ شہرمدینہ اور دوسرے بازاروں میں حضورؐ کا اقتدار و اختیار بہ طور سربراہِ مملکت قائم تھا۔ تاہم آپؐ نے مدینہ کے لئے ایک مخصوص منتظم ِ بازار کا تقرر کیا تھا، اور وہ حضرت عمر فاروقؓ تھے۔
سرکاری مہمان خانہ: نبی رحمت علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شہر کی بلدیاتی تنظیم میں اس بات کا بھی خیال رکھا تھا کہ سرکاری مہمانوں اور آنے والے وفود کے لئے مہمان خانوں کا انتظام کیا جائے۔ ان مہمانوں کے قیام و طعام کا انتظام انصار کے گھروں میں کیا جاتا اور بعض اوقات انہیں مسجد نبویؐ میں بھی ٹھہرایا جاتا، خصوصاً صفہ کے مدرسے میں۔ بعد میں جب خوش حالی آئی اور مہاجرین کے مکانات تعمیر ہونے لگے تو باقاعدہ طور پر سرکاری مہمان خانے کا بھی انتظام کیا گیا۔ اس سلسلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے ایک بڑا مکان بنایا تھا جسے مہمان خانہ بنا دیا گیا۔
سڑکوں اور گلیوں کا معیار: آبادی میں اضافے کے ساتھ جب شہر گنجان ہونے لگا تو گلیاں اور راستے بھی تنگ ہونے لگے۔ رسولِ پاکؐ نے ہدایت فرمائی کہ راستوں کو اتنا چوڑا رکھا جائے کہ ’’جب تم راستوں کی توسیع کرو تو انہیں سات گز چوڑا رکھو (تاکہ) لدے ہوئے دوجانور بآسانی آمنے سامنے گزر سکیں۔ اس بات سے گویا آپؐ نے دو رویہ (آنے اور جانے کے) ٹریفک اور بلدیاتی منتظمہ کا تصور دیا۔
صفائی کا اہتمام: رسولِ پاکؐ نے گھر، آنگن اور ماحول کو صاف رکھنے کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ شہری صفائی کے اس معاملے کو حضوؐر نے نظرانداز نہیں کیا۔ آپؐ نے جہاں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا وہاں اس کیلئے عملی اقدامات بھی فرمائے اور مسجد نبویؐ کی صفائی کے لئے باقاعدہ ایک فرد کو مقرر فرمایا۔
روشنی کا انتظام: آپؐ نے مسجد نبویؐ میں چراغ جلانے کے لئے ایک شخص کا تقرر فرمایا جو رضاکارانہ طور پر روزانہ مسجد نبویؐ میں چراغ جلاتا تھا۔ روایت میں ہے: ’’حضو ر نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ہماری مسجد کو کس نے روشن کیا؟ تمیم نے عرض کیا: میرے اس غلام نے۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: اس کا نام کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: فتح۔ (اس پر) حضور نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا: اس کا نام سراج (چراغ) ہے۔‘‘
ملک ِ عرب میں بلدیاتی اور ریاستی سطح پر صفائی اور عوامی مقامات پر روشنی، سینی ٹیشن اور اسٹریٹ لائٹس کا انتظام آپؐ کی منصوبہ بندی اور دور اندیشی کا بہترین ثبوت ہے۔
اسپتال کا قیام: امام بخاریؒ نے باب الخیمۃ للمرضی فی المسجد قائم کرکے یہ واضح کیا ہے کہ آپؐ نے اسپتال کے قیام کو بھی اپنی اوّلین توجہ کا مرکز بنایا اور اس کے لئے مسجد نبویؐ کے صحن میں خیمہ نصب کروایا، جہاں مریضوں کا علاج ہوتا۔
تفریح گاہوں کا قیام: صحت مندماحول اور معاشرے کی فراہمی شہری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ترقی یافتہ اور مہذب شہروں کی منصوبہ بندی میں پارک اور سیرگاہ کو آج غیرمعمولی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ یہ ضرورت عہدنبویؐ میں بھی نظر آتی ہے۔ رسولِ پاکؐ نے اس مقصد کیلئے مدینہ شہر کے باہر وادیِ عقیق کو منتخب فرمایا تھا۔ وہاں آپؐ نے سیرگاہ حمی النقیع کے نام سے بنوائی، جو گھوڑوں کی چراگاہ بھی تھی۔ وہاں پیڑ پودے اس کثرت سے لگوائے گئے کہ وہ خوب صورت تفریح گاہ بن گئی۔باغات، پانی اور شادابی کے سبب یہ جگہ سیرگاہِ مدینہ کہلائی۔ رسولِ پاکؐ آرام کے لئے وہاں تشریف لے جاتے۔ آپؐ کو یہ جگہ بے حد پسند تھی۔
شہر کی تزئین اور شجرکاری: رسول پاکؐ نے مدینہ کی ٹائون پلاننگ کرتے وقت صرف اس کی آبادکاری اور سہولیات کی فراہمی کا ہی خیال نہیں رکھا بلکہ شہر کی زینت و رونق اور خوب صورتی کو بھی پیش نظر رکھا۔ اسی وجہ سے یہاں کے قلعوں کو مسمار کرنے اور بلاضرورت درختوں کو کاٹنے سے منع فرمایا۔ چنانچہ محدث بیہقی فرماتے ہیں:’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے کی زینت اور خوب صورتی کو پیش نظر رکھا تاکہ یہ شہریوں کیلئے سکونت کی اچھی جگہ رہے۔ اسی لیے آپؐ نے مدینے کے قلعوں اور گڑھیوں کو مسمار کرنے سے منع فرمایا‘‘۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے کے قلعوں کو مسمار کرنے سے یہ کہہ کر منع فرمایا کہ وہ مدینے کی زینت ہیں۔
حرفِ آخر
نبی رحمتؐ کی حیاتِ طیبہ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو آپؐ کی شخصیت صرف ایک روحانی پیشوا، مذہبی رہنما اور معلم اخلاق ہی کی نظر نہیں آتی بلکہ ایک مفکر، منتظم اور منصوبہ ساز کی بھی نظر آتی ہے۔ آخری رسولؐ ہونے کے ناطے اللہ تعالیٰ نے دین و دنیا کی تعمیر کی اَن گنت صلاحیتیں آپؐ کو ودیعت کی تھیں اور پھر اپنے فیضانِ خاص سے بذریعہ وحی آپؐ کی رہنمائی فرمائی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ بیک وقت دینی و دنیاوی دونوں لحاظ سے آپؐ کامیاب رہنما اور حکمران ثابت ہوئے تھے۔ اس کی ایک مثال شہری آبادکاری اور تعمیرات کے سلسلے میں آپؐ کی وہ منصوبہ بندی ہے جس کی کچھ جھلکیاں اُوپر پیش کی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: ایام تشریق کی قضا نماز، گوشت کی تقسیم کا مسئلہ، قربانی میں شرکت
صفہ کیا ہے؟
معلمِ کتاب و حکمت، محسن انسانیتؐ پر نازل ہونے والی اوّلین وحی کا اوّلین لفظ اقراء یعنی ’پڑھئے‘ تھا۔ قرآنِ حکیم نے نبیؐ آخرالزماں ، سرکار دو عالمؐ کے منصب ِ نبوت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:’’ (رسولؐ اللہ ) تمہیں کتاب و حکمت اور اس چیز کی تعلیم دیتے ہیں جو تم نہ جانتے تھے۔‘‘(البقرہ :۱۵۱)
مختلف مراکز تعلیم و دعوت کی موجودگی کے باوجود آپؐ کی پیغمبرانہ حکمت و بصیرت نے فیصلہ کیا کہ تعلیم و تربیت کا مرکز ایسا ہونا چاہئے جہاں ہر روز مقررہ اوقات پر مسلمانوں کا اجتماع ہو اور اس اجتماع کی حیثیت گویا فرض و واجب کی ہو۔ چنانچہ اس مقصد کیلئے آپؐ نے مسجد کو منتخب کیا۔ اس اعتبار سے مسجدنبویؐ اسلام کا پہلا مرکز تعلیم و تربیت ہے۔ آپؐ نے مسجد نبویؐ کے ایک کنارے پر ایک جگہ مخصوص کرلی، جسے اس کے سائبان کی وجہ سے ’صفہ‘ کہتے تھے۔ یہ دراصل ایک کھلی اقامتی درس گاہ تھی، جس میں ہرچھوٹا بڑا شخص تعلیم و تربیت حاصل کرتا تھا، چاہے وہ اس میں اقامت گزیں ہو یا نہ ہو۔ مسلمانوں کی ایک جماعت جس نے اپنی پوری زندگی دین اسلام سیکھنے اور سکھانے کے لئے وقف کردی تھی، تعلیم و تربیت کے حصول کیلئے اس میں اقامت گزیں ہوگئی۔ انہیں ’اصحابِ صفہ‘ کہتے تھے۔ اس اعتبار سے اگر مسجد نبویؐ کی اس درس گاہ کو عصرحاضر کی اقامتی اور کھلی درس گاہوں کا پیش خیمہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ صفہ کی حیثیت تعلیم گاہ کے علاوہ نادار مسلمانوں کی پناہ گاہ کی بھی تھی۔