Inquilab Logo Happiest Places to Work

شہری آبادکاری اور تعمیرات کے سلسلے میں سردار الانبیاءؐ کی بے مثال منصوبہ بندی

Updated: June 05, 2026, 4:03 PM IST | Mufti Mohammed Junaid Anwar | Mumbai

نبی رحمتؐ کی حیاتِ طیبہ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو آپؐ کی شخصیت صرف ایک روحانی پیشوا، مذہبی رہنما اور معلم اخلاق ہی کی نظر نہیں آتی بلکہ ایک مفکر، منتظم اور منصوبہ ساز کی بھی نظر آتی ہے۔ بحیثیت آخری رسولؐ ، اللہ تعالیٰ نے دین و دنیا کی تعمیر کی اَن گنت صلاحیتیں آپؐ کو ودیعت کی تھیں اور پھر اپنے فیضانِ خاص سے بذریعہ وحی آپؐ کی رہنمائی فرمائی تھی۔ اس کی ایک مثال شہری آبادکاری اور تعمیرات کے سلسلے میں آپؐ کی منصوبہ بندی ہے جس کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ کیجئے۔

A beautiful aerial view of Medina, in which the entire blessed city seems to be bathed in light. Photo: INN
مدینہ منورہ کا ایک خوبصورت فضائی منظر، جس میں پورا شہر ِ مبارک نور میں ڈوبا ہوا سا محسوس ہورہا ہے۔ تصویر: آئی این این

نبی رحمت ﷺ خاتم الانبیا کی زندگی کا ہر پہلو ہراعتبار سے کامل ترین ہے۔ آپؐ  نے اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا اور اس کا تعارف آپؐ  نے عملاً اس کے قیام  کے ذریعے فرمایا۔ معاشی و سماجی اصلاحات کیں، مدینہ کے شہریوں کے رہن سہن کے اصول و ضوابط مرتب کیے۔ شہریوں کی روزمرہ ضروریات کی تکمیل کیلئے باضابطہ لوگوں کو  تیار فرمایا۔ مسلمان کو اپنا معاش خود تلاش کرنے کی ہدایت دی اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ طریقے بھی ارشاد فرمائے اور اس سلسلے میں ہرممکن عملی تعاون کا مظاہرہ بھی فرمایا۔
آپؐ  کی آمد سے قبل مدینے میں کوئی نظام موجود نہیں تھا۔ تمام نظام کا آغاز آپؐ  ہی نے فرمایا اور اسے ترقی دی اور اس کے تسلسل اور ارتقا کے لئے اصول و ضوابط متعین کیے۔ آپؐ  نے اس نظام کی بنیاد ان اصولوں پر رکھی جو بعد میں چل کر ترقی یافتہ تہذیب کی بنیاد بنے۔
 حدود کا تعین: اگرچہ مدینہ منورہ کی ارضی حدود کا تعین اہلِ علم و سیر کے درمیان متفق علیہ امر نہیں ہے، لیکن آپؐ  نے شہرمدینہ کی حدود کا جو تعین کیا وہ درج ذیل ہے: مشرق اور مغرب میں لاوے کی پہاڑیاں اور حرہ کا میدان، شمال میں جبلِ ثور اور جنوب میں جبلِ عیر مدینہ کی حدود اربعہ قرار پائے۔ (عہدنبویؐ کے میدانِ جنگ) رسولِ پاکؐ نے مکہ کی طرح مدینہ کو بھی حرم قرار دیا۔ صحیح مسلم کی روایت ہے: مدینہ عیر سے ثور تک حرم ہے۔جبلِ ثور اُحد کے پیچھے ہے، اور جبلِ عیر ذی الحلیفہ کی میقات کے پاس مکہ کی طرف ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایک بے سکون دَور

مسلمانوں کی آبادکاری کا انتظام: ہجرتِ مدینہ کے فوراً بعد ہی جب مہاجرین بڑی تعداد میں مدینہ پہنچنا شروع ہوئے تو ان کی آبادکاری کا مسئلہ سامنے آیا۔ کچھ مہاجرین کی آبادکاری کا انتظام تو مدینہ میں موجود ان کے واقف کاروں کی جانب سے ہوگیا، لیکن سب افراد کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں تھا۔ اس مسئلے کے مکمل حل کے لئے اللہ کے رسولؐ  نے مکّی اور مدنی مسلمان خاندانوں کے سربراہوں کا ایک بڑا اجلاس بلوایا اور انہیں تاکید و نصیحت کی۔ وہ مخلصانہ تعاون کے ساتھ مہاجرین کی آبادکاری اور انضمام کے مسئلے کو آسان بنائیں۔ اس عمل کی انجام دہی کے لئے آپؐ  نے ایک ٹھوس، مؤثر اور قابلِ عمل منصوبہ بھی پیش کیا، جس کی رُو سے ہر صاحب ِ حیثیت مدنی خاندان کے سربراہ کو ایک مکّی خاندان کو اپنے ساتھ لے کر جانا تھا اور اس کے ساتھ مؤاخاتی طور پر سلوک روا رکھنا تھا۔ اجلاس میں شامل تمام مسلمانوں نے اس بات سے اتفاق کیا اور حضوؐر نے فوری طور پر تقریباً ۱۸۶؍ مکّی حضرات کی مؤاخاۃ انصاری صحابہ سے قائم فرما دی۔ اس منصوبے پر عمل کروا کر آپؐ نے اپنی انتظامی و سیاسی بصیرت سے مسلمانوں کو درپیش ایک بڑے مسئلے کو آسانی سے حل فرما دیا۔ آبادکاری کیلئے مؤاخات کی حکمت عملی کو اختیار کرنا بہت سی حکمتوں اور مصالح کی بنا پر تھا جن کا فائدہ مستقبل میں ہوا۔ 
اس مؤاخاتی نظام سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ اسلامی سنہ ہجری کے آغاز کے موقعے پر مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے کم و بیش ۴۰۰ خاندانوں کے سربراہ پہلے ہی مسلمان تھے اور یقینا مسلمانوں کی حقیقی تعداد اس سے کافی زیادہ تھی۔ اس کے بعد کے مدنی دور میں جن آبادیوں کے افراد متفرق طور پر ایمان لاتے یا کسی جگہ کی چھوٹی آبادی ایمان لاتی تو ان کو مدینے میں لاکر بسایا جاتا، اور ان کی تعلیم و تربیت اور معاش کا انتظام کیا جاتا۔
 اس طریقے سے رفتہ رفتہ مدینے کی مسلم آبادی تیزی سے بڑھنے لگی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دو ہجری (۲ھ) میں جب رسولِ پاکؐ نے ایک موقعے پر غزوہ میں شرکت کے لئے مسلمانوں کی مردم شماری کرائی تو ان کی تعداد کوئی ۱۵۰۰؍ تھی۔ چنانچہ مسلمان مہاجرین کی تعداد میں روزافزوں اضافہ ہوتا چلا گیا اور وہ اپنی قرابت داریوں کی رعایت کرتے ہوئے مدینہ میں قیام پذیر ہوتے رہے۔ یہ تمام آبادکاری ایک مخصوص انتظام و انصرام کے تحت ہوئی۔ ہرآبادی کی ایک مسجد تھی، مارکیٹ تھی اور بعض بستیوں میں اپنا قبرستان تک بھی موجود تھا۔
ہر شہری کیلئے مکان: اللہ کے رسولؐ کے نزدیک پسندیدہ بات یہ تھی کہ ہر شہری کو علاحدہ مکان دستیاب ہو، آپؐ  کا ارشاد ہے: ’’ انسان کی خوش حالی کیلئے جو چیزیں ضروری ہیں ان میں کشادہ مکان اور قابو کی سواری بھی ہے۔‘‘
(احمد بن حنبل، ابوعبداللہ الشیبانی، الامام ، المسند)

یہ بھی پڑھئے: قربانی، معنی و مفہوم اور اہمیت

چنانچہ مہاجرین مکہ کو ابتدا میں انصار کے ساتھ ان کے گھروں میں ٹھہرایا گیا، بعد میں نبی کریمؐ نے ان کیلئے قطعۂ اراضی کی فراہمی اور مکانات کی تعمیر کا منصوبہ بنا کر ان کو اپنے گھروں میں آباد کیا۔  اس آبادکاری کیلئے آپؐ  نے افتادہ زمین کو استعمال کیا اور انصار کی طرف سے ہبہ کردہ آباد جگہوں سے بھی استفادہ کیا گیا۔ اس آبادکاری میں حضرت حارثہ بن نعمانؓ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس کام کے لئے نبی کریمؐ کو اپنی زمین اور مکانات ہبہ کئے۔ (وفاء الوفا، ج۱،ص ۵۲۷)
 آبادی میں اضافے کا حل: مسلمانوںکی تعداد میں اضافہ ہونے کے سبب مدینے کی آبادی بڑھنے لگی۔ آبادی میں اضافے سے شہر کی زمین رہائش کے لئے کم اور پہلے کی بہ نسبت مہنگی ہوتی چلی گئی۔ اس دشواری اور مشکل کو حل کرنے کیلئے رسولِ پاکؐ نے ایک سے زیادہ منزلہ عمارات بنانے کا مشورہ دیا۔ خود رسولِ پاکؐ ہجرت کے بعد سات ماہ تک حضرت ابوایوب انصاریؓ کے دو منزلہ مکان میں قیام فرما ہوئے۔ پہلی منزل پر حضرت ابوایوبؓ کا خاندان آباد تھا اور نیچے کی منزل میں آپؐ  نے قیام فرمایا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کثیر الاولاد تھے، ان کیلئے ان کا مکان چھوٹا پڑتا تھا۔ انہوں نے رسولِ پاکؐ کے سامنے یہ مسئلہ رکھا تو آپؐ  نے فرمایا: ’’اُوپر کی منزل تعمیر کرو اور اللہ سے کشادگی کی دُعا کرو‘‘۔
 شھروں کی آبادکاری:آپؐ نے اُس زمانے میں کسی بھی شہر کی  زیادہ سے زیادہ حد مقرر کردی تھی نیز یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر شہر کی آبادی اس سے بڑھ جائے تو دوسرا شہر آباد کیا جائے۔ عہدنبویؐ کے اختتام تک مدینہ شہر کی حدود مغرب میں بطحان تک، مشرق میں بقیع تک، اور شمال مشرق میں بنی ساعدہ کے مکانات تک پھیل چکی تھی۔ حضرت ابوذر غفاریؓ سے  رسول کریمؐ نے ایک موقعے پر فرمایا: جب مدینے کی آبادی سلع تک پہنچ جائے تو تم مدینہ چھوڑ دینا اور شام چلے جانا۔ (وفاء الوفائ، ج۱،ص ۸۴)
ان احکام اور واقعات سے معلوم ہوا  کہ آپؐ مدینہ شہر کی آبادی اور اس کے وسائل میں تناسب قائم رکھنے کیلئے غیرضروری طور پر بڑھنے سے روکنے کے حق میں تھے اور دوسرے شہر آباد کرنے کی ہمت افزائی فرماتے تھے۔ یہ وہی پالیسی تھی جس پر بعد میں خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروقؓ نے عمل کرتے ہوئے کوفہ اور بصرہ جیسے نئے شہر آباد کیے۔

یہ بھی جان لیں!

مدینہ منورہ کو قدیم زمانے میں ’یثرب‘ کہا جاتا تھا۔  یثرب ’ثرب‘ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں:  شروفساد پر قابو پانا یا ’تثریب‘ جس کے معنی گناہ پر مواخذہ کرنا اور گرفت کرنا ہے۔  نبی کریم ؐ کی  آمد کے بعد اس کا نام طیبہ، طابہ اور مدینۃ الرسولؐ ہوگیا۔ قرآنِ مجید میں اسکے دونوں نام یثرب اور مدینہ آئے ہیں۔  مدینہ سرسبز و شاداب  خطۂ زمین پر واقع ایک نخلستان ہے جہاں پانی کی فراوانی ہے اور جسے چاروں طرف سے سیاہ آتشیں چٹانوں نے گھیر رکھا ہے، جب کہ شہر کے شمال میں احد کا پہاڑ اور جنوب مغرب میں عسیر نامی کوہسار واقع ہے۔ ان کے علاوہ مدینہ میں کئی وادیاں ہیں جن میں سے مشہور ترین بطحان، مذینب، مہروز اور عقیق ہیں۔ 

آپؐ  نے جدید ترین خطوط پر مدینہ شہر کی منصوبہ بندی فرمائی جو قارئین نے دائیں جانب کے مضمون میں پڑھا۔ رہائشی سہولتوں اور آمدورفت میں آسانی کے حوالے سے بھی آپؐ نے اصول و ضوابط طے کئے، راستوں کو کشادہ رکھنے کی ہدایت فرمائی، نئے محلے قائم کئے اور کسی ایک مقام پر آبادی کو مرتکز کرنے کے بجائے حکم دیا کہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر آبادیاں قائم کی جائیں۔ اجتماعی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے اسلامی اصولوں پر ایک نئے بازار کی بنیاد رکھی۔ آپؐ  روزانہ اس بازار کا دورہ فرماتے، اوزان و پیمانہ جات کا جائزہ لیتے اور کاروبار کرنے والوں کو غلطی پر ٹوکتے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK