یہ اپنے حقوق کی حفاظت اور حق تلفی کی مدافعت کی ایک آئینی تدبیر ہے ، اگر ہم نے کوتاہی اور بے دِلی سے کام لیا تو موجودہ حالات میں یہ بڑے خسارہ کی بات ہوگی۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 3:44 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai
یہ اپنے حقوق کی حفاظت اور حق تلفی کی مدافعت کی ایک آئینی تدبیر ہے ، اگر ہم نے کوتاہی اور بے دِلی سے کام لیا تو موجودہ حالات میں یہ بڑے خسارہ کی بات ہوگی۔
سیرت نبوی ﷺکے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر عہد میں اسلام کی تائید و تقویت اور مسلمانوں کے ملی وجود کی حفاظت کیلئے تمام اسباب اختیار کرنے چاہئیں ، جو اس زمانہ میں مروج ہوں اور ان میں شریعت کے خلاف کوئی بات نہ ہو۔ اللہ کے رسولؐ کی حیاتِ طیبہ میں بہ کثرت اس کی مثالیں موجود ہیں، آپؐ نے دعوتِ توحید کے لئے پہلی دفعہ صفا کی پہاڑی کا انتخاب کیا اور وہاں جا کر اہل مکہ کو اکٹھا کر کے اپنی بات کہی، یہ کوئی اتفاقی انتخاب نہ تھا؛ بلکہ پہلے سے اہل مکہ کا طریقہ چلا آرہا تھا کہ کسی اہم بات کی اطلاع دینے کے لئے اسی مقام پر کھڑے ہو کر لوگوں کو بلاتے تھے، گویا یہ اس زمانے کا ذریعۂ ابلاغ تھا اور مکہ شہر کی حد تک اس سے زیادہ وسیع الاثر ابلاغ کا کوئی اور ذریعہ موجود نہیں تھا۔ عرب میں دو ایسے اجتماعات ہوتے تھے ، جن میں پورا جزیرۃ العرب اُمڈ آتا تھا ، ایک حج اور دوسرے عکاظ کا تجارتی میلہ۔ ان دونوں اجتماعات میں بہت سی منکرات اور فواحش کا ارتکاب کیا جاتا تھا ، حج میں تو بہر حال ایک پہلو عبادت کا بھی تھا ، گو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اصل اُسوہ میں بہت کچھ آمیزشیں کردی گئی تھیں ؛ لیکن عکاظ کے میلے کی نوعیت مذہبی نہیں تھی، اس کے باوجود آپؐ ’’ کُل عرب سطح‘‘ کے ان دونوں اجتماعات میں جاتے اور لوگوں پر دعوت اسلام پیش فرماتے؛ کیوںکہ اس وقت اس سے زیادہ موثر ، زود رفتار اور وسیع الاثر کوئی اور میڈیا نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اسوۂ براہیمی اور ملت ِ اسلامیۂ عالم
عربوں کاایک قدیم قبائلی نظام تھا ، جس کے مطابق قبیلہ کے ایک شخص کو پورے قبیلہ کی پناہ حاصل ہوتی تھی اور اگر قبیلہ کے ایک شخص کے خلاف بھی کوئی زیادتی کی جاتی تو پورا قبیلہ اسے اپنے آپ پر حملہ تصور کرتا تھا ، آپؐ بنو ہاشم میں تھے اور اس وقت اس قبیلے کی قیادت ابو طالب کے ہاتھ میں تھی، جو آپ کے چچا تھے؛ لیکن اولاد سے بڑھ کر آپ سے محبت رکھتے تھے؛ اس لئے باوجودیکہ بنو ہاشم کی اکثریت ابھی مسلمان نہیں ہوئی تھی اور ابو لہب جیسا بدترین دشمنِ اسلام اسی خاندان سے تعلق رکھتا تھا؛ اس کے باوجود ابوطالب کی وجہ سے آپ ؐ کو اس خاندان کی ایسی حمایت و حفاظت حاصل رہی کہ شعب ابی طالب جیسے دل گداز اورصبر آزما واقعہ میں بھی بنو ہاشم نے آپؐ کا ساتھ نہ چھوڑا اور عرب کے اس قبائلی پناہ دہی اور پناہ گیری کے نظام کا آپؐ کو بھرپور فائدہ ملا۔ اسی طرح آپؐ کے سب سے جاں نثار رفیق حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ابن الدغنّہ کی پناہ حاصل کرنے میں کوئی تکلف نہیں برتا۔
مدینہ جانے کے بعد آپؐ نے مسلمانوں، یہودیوں اور مشرکین کے درمیان بقاء باہم اور مدینہ کے مشترکہ دفاع کا ایسا معاہدہ کرایا جو اسلام کے سیاسی تصورات کے لئے نشانِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے؛ کیوںکہ اس معاہدہ کے مطابق مدینہ کے غیر مسلم قبائل کو عقیدہ و مذہب کی آزادی دی گئی، ایک دوسرے کی جان و مال کے احترام کا سبق دیا گیا اور بہ وقت ضرورت غیر مسلموں کے ساتھ مل کر کسی علاقہ کی حفاظت اور دفاع کو قبول کیا گیا، اسی طرح فتح مکہ سے پہلے متعدد ایسے مشرک قبائل جو اس وقت تک اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے، سے آپؐ نے ناجنگ معاہدہ کیا؛ بلکہ مشکل وقتوں میں بحیثیت حلیف ایک دوسرے کی مدد کرنے کے معاہدے بھی کئے۔ یاد رہنا چاہئے کہ بظاہر اسلام میں ’’موالات ‘‘ وغیرہ کے سلسلہ میں جو احکام ہیں، ہو سکتا ہے کہ بادی النظر میں یہ معاہدات اس کے خلاف محسوس ہوں لیکن دراصل ان سب میں ایک ہی روح کار فرما ہے کہ ہر عہد ضرورت ، تقاضہ اور رسم و رواج کے مطابق اسلام کو سر بلند کرنے اور اُمت ِمسلمہ کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے کہا کہ اعداء ِاسلام کے مقابلہ میں قوت بھر تیاری کرو ( الانفال : ۶۰) کیا اس کا مطلب صرف اسلحہ اورجنگی طاقت کا فراہم کرنا ہے ؟ غالباً ایسا نہیں ہے؛ بلکہ ہر طرح کی طاقت اس میں داخل ہے، کبھی علم کی طاقت ہتھیار کی طاقت پر فائق ہو تی ہے، جس کی مثال آج جاپان ہے، کبھی سیاسی طاقت کے ذریعہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہو تے ہیں۔ ہندوستان میں برہمن اِزم اسی کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ کبھی معاشی طاقت کی بنیاد پر انگلیوں پر گنی جانے والی قوم پوری دنیا کو اپنے چشم وابروکا متبع بنا کر رکھتی ہے؛ جیسا کہ اس وقت صہیونی طاقت کا حال ہے، غرض کہ ہر عہد میں اس عہد کی ضرورت کے مطابق اپنی طاقت کو بڑھانا، اس طاقت کو مذہب و ملت کی سربلندی کے لئے استعمال کرنا اور ظالموں کے تسلط سے بچنے کے لئے اس کو ڈھال اور نیام بنانا اُمت کا فریضہ اور اللہ کے رسولؐ کا اُسوہ ہے۔
آج کی دنیا میں معیار کے ساتھ ساتھ تعداد و مقدار کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ اس سے کسی قوم کا سیاسی مقام متعین ہوتا ہے اور نظام ِمملکت کے نقشہ میں اس کی اہمیت محسوس کی جاتی ہے۔ جو زبان کسی علاقہ میں بولی جاتی ہو، اس زبان کی قدر و قیمت بھی بولنے والوں کی تعداد پر منحصر ہے، اسی پس منظر میں تمام ہی ممالک میں اور خاص کر جمہوری ملکوں میں مردم شماری کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ہندوستان میں اس وقت چھٹی مردم شماری کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بار مردم شماری نسبتاً زیادہ تفصیل سے عمل میں آرہی ہے جس میں مذہب، زبان اور معاشی حالات کے علاوہ معذورین اور ان کے حالات بھی مرکز توجہ ہونگے اور ان ہی اعداد و شمار کی روشنی میں ملک میں آئندہ سیاسی ، تعلیمی اورمعاشی منصوبہ بندی ہو سکے گی ۔
اُردو ہماری مادری زبان ہے اور عربی زبان کے بعد کوئی زبان نہیں، جس میں علوم اسلامی کا اتنا بڑا سرمایہ موجود ہو ؛ بلکہ بعض موضوعات پر اُردو میں ایسی کتابیں بھی آچکی ہیں ، کہ شاید عربی میں بھی اس جیسی کتاب نہ ہو، فارسی حالاںکہ صدیوں سے مسلمانوں کی زبان ہے ، اور ایک بہت بڑا ذخیرہ فارسی زبان میں بھی ہے؛ لیکن اُردو نے صرف ڈیڑھ دو سو سال میں نہ صرف فارسی کی برابری حاصل کر لی؛ بلکہ اسلامی فکر و عقیدہ، علم و عمل اور تہذیب و ثقافت کی نمائندگی میں غالباً فارسی سے بہت آگے جا چکی ہے۔ بد قسمتی سے آزادی کے بعد سے مسلسل اُردو لکھنے پڑھنے والوں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے اوراس لئے حکومت کوبھی اُردو کی طرف سے دانستہ تغافل کا بہانہ ہاتھ آرہا ہے۔ مردم شماری میں اگر ہم اہتمام کے ساتھ مادری زبان کی حیثیت سے اُردو کا نام لکھائیں اور اعداد و شمار اس بات کو واضح کر دیں کہ اُردو بولنے، سمجھنے، لکھنے اورپڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ، تو اس سے ہمیں اپنی زبان کی حفاظت میں سہولت بہم پہنچے گی اور ہماری اگلی نسلوں کو اپنے سلف کے اتنے عظیم الشان علمی اور دینی سرمایہ سے محروم نہیں کیا جاسکے گا۔
اس لئے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حالات میں مردم شماری میں حصہ لینا مسلمانوں کا اہم ترین فریضہ ہے اور یہ اپنے حقوق کی حفاظت اور حق تلفی کی مدافعت کی ایک آئینی تدبیر ہے ، اگر ہم نے اس موقع پر غفلت کی اور کوتاہی سے کام لیا تو خاص کر موجودہ حالات میں یہ بہت ہی خسران، خسارہ اور نقصان کی بات ہوگی اور اپنی طاقت کے ضائع کرنے اور اپنی قیمت آپ گرانے کے مترادف ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: وہ سہ رُکنی خاندان جوتاریخ ِ انسانیت کا روشن مینار ہے
یوں مردم شماری کا تصور بہت قدیم ہے؛ چوںکہ اس سے عوام کے مسائل کو سمجھنے اورخاص کر عوام کے مسائل کا جائزہ لینے میں مدد ملتی ہے، بائبل میں ہے کہ ’’پہلی اسم نویسی سوریا کے حاکم رکوِرِنِیسُ کے عہد میں ہوئی اور سب لوگ نام لکھوانے کے لئے اپنے اپنے شہر کو گئے‘‘ (نوما: ۲ ؍۲،۳) یہ واقعہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت سے پہلے کا ہے ؛لیکن غالباً اس کا تعلق سلطنت روما یا یہودا کی آبادی سے ہے۔ مردم شماری تو اس سے پہلے بھی ہوئی ہوگی ؛ کیوںکہ بائبل کے عہد عتیق میں بھی مختلف موقعوں پر مختلف قوموں کے اعداد و شمار مذکور ہیں۔ اللہ کے رسولؐ نے بھی مدینہ میں مردم شماری کرائی تھی اور اس کا ذمہ دار حضرت حذیفہ ؓ کو بنایا تھا۔ حضرت حذیفہ ؓ ہی راوی ہیں کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا : ’’میرے لئے ان تمام لوگوں کے نام لکھو، جنہوںنے اسلام کا اقرار کیا ہے۔‘‘ حضرت حذیفہ ؓ نے شمار کیا تو اس وقت یہ تعداد پندرہ سو نکلی تھی۔ (بخاری ، حدیث نمبر : ۳۰۶۰) بظاہر یہ تعداد صلح حدیبیہ کے کچھ آگے یا پیچھے کی ہوگی ، صحابہ ؓ نے فتح مکہ کے مجاہدین کی تعداد بھی بیان فرمائی ہے اور بعض روایتوں میں حجۃ الوداع کے موقع سے شرکاء کی تعداد جو ایک لاکھ سے کچھ اوپر تھی، مذکور ہوئی ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اللہ کے رسولؐ کے زمانہ میں اعداد و شمار کے اکٹھا کرنے پر نظر رکھی جاتی تھی۔ خلافت راشدہ میں خاص کر حضرت عمرؓ کے عہد میں بھی مختلف شہروں کے اعداد و شمار ملتے ہیں۔ مدینہ میں آباد لوگوں کے لئے تو آپ نے مستقل رجسٹر ہی مرتب کرا رکھا تھا اور اسی رجسٹر کے مطابق حسب ِمراتب اور حسب ِخدمت مال غنیمت اورباہر سے آنے والی اِعانتیں تقسیم کی جاتی تھیں، بعد کو بھی مسلمانوں کے دور میں مردم شماری کا سلسلہ رہا ہے، اسی لئے تاتاریوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی کے پس منظر میں مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس وقت اس بہار آفریں شہر کی آبادی ایک لاکھ سے کچھ اوپر تھی ۔
پس ہر دور میں اپنی قوت بڑھانے، اپنی طاقت کا اظہار کرنے اور اپنے حقوق کی حفاظت اور اپنے قومی وجود کا دفاع کرنے کے الگ الگ ذرائع ہوتے ہیں، اس دور میں بھی انہی ذرائع کو اختیار کرنا حکمت، فراست ِایمانی اور اُسوۂ نبوی کا تقاضا ہے۔