معاشی مندی بمقابلہ کوٹ جیکٹ

Updated: February 11, 2020, 4:20 PM IST | Editorial

بی جے پی کے رُکن پارلیمان ویریندر سنگھ مست نے ملک میں معاشی مندی کو مسترد کرتے ہوئے بڑی مضحکہ خیز دلیل پیش کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ مندی ہوتی تو لوگ اب بھی کوٹ اور جیکٹ کیوں پہن رہے ہوتے۔

معاشی مندی بمقابلہ کوٹ جیکٹ ۔ تصویر : آئی این این
معاشی مندی بمقابلہ کوٹ جیکٹ ۔ تصویر : آئی این این

  بی جے پی کے رُکن پارلیمان ویریندر سنگھ مست نے ملک میں معاشی مندی کو مسترد کرتے ہوئے بڑی مضحکہ خیز دلیل پیش کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ مندی ہوتی تو لوگ اب بھی کوٹ اور جیکٹ کیوں پہن رہے ہوتے۔ کرتا دھوتی پر کیوں نہ آجاتے! یہ جواز ایسا ہی ہے جیسے کوئی ماہر ڈاکٹر کسی مریض کے قریب کھڑا ہوکر  کہے کہ اس کا سانس چل رہا ہے، حالت نازک کیسے ہوسکتی ہے۔ 
 ویریندر سنگھ، یوپی کے شہر بلیا سے ۲۰۱۹ء میں لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے اور بی جے پی کسان مورچہ کے صدر ہیں۔ اگر اُن کے ، بے سر پیر کے جواز کو شرف قبولیت بخشا گیا تو ممکن ہے کسی دن وہ یہ بھی کہہ بیٹھیں کہ گزشتہ چھ سالوں میں ۱۵۳۵۶؍ کسانوں نے خود کشی کی ہوتی تو ہر گاؤں دیہات میں کسان کیوں نظر آتے، کھیتوں میں بیج کیسے بویا جاتا، ہل کیوں چلتے اور فصلیں کیسے لہلہاتیں! 
 یاد رہے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب لوک سبھا میں بلیا کے عوام کی نمائندگی کرنے والے ویریندر سنگھ مست نے ایسا کوئی بیان دیا ہو۔ دسمبر ۱۹ء میں اُنہوں نے آٹو انڈسٹری کی حالت زار کو بھی ایسے ہی مضحکہ خیز انداز میں مسترد کیا اور کہا تھا کہ سڑکوں پر اتنا ٹریفک جام ہوتا ہے، اس کے باوجود اگر یہ کہا جائے کہ آٹو موبائل انڈسٹری پر مندی کے بادل چھائے ہوئے ہیں تو اسے کیسے مان لیا جائیگا؟
 اقتدار میں آنے کے بعد سے بی جے پی لیڈروں نے کسی بھی حقیقت کو تسلیم نہ کرنے کا جو طرز عمل اپنایا ہے اُس سے پارٹی کے بڑے لیڈران بھی مستثنیٰ نہیں ہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت معاشی مندی کو تسلیم نہ کرنا ہے۔ ابھی چند روز پہلے صدر جمہوریہ کے خطاب پر رسم شکریہ کے موقع پر اپنی تقریر میں اُنہوں نے معیشت کی بنیادوں کے مستحکم ہونے کی بات کہی اور ایک بار پھر ۵؍ کھرب ڈالر کی معیشت بننے کے اپنے خواب اور عزم کا اعادہ کیا۔ خواب دیکھنا اور اعلیٰ و ارفع عزم کرنا بہت اچھی بات ہے مگر منزل کا تعین ہوجانے کے بعد سمت سفر کا تعین اور پھر متعلقہ سمت میں قدم بڑھانا بھی ازحد ضروری ہے۔ اس کے بغیر خواب خواب ہی رہے گا کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ یہ اُصول ہے اور جب اس کسوٹی پر حکومت کے معاشی اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو مایوسی ہوتی ہے اور یہ سوال ازسرنو ذہن میں اُبھرتا ہے کہ جب معیشت کسی بھی کسوٹی پر پورا نہ اُتر رہی ہو تو کیسے یقین کرلیا جائے کہ سمت و راہ کا تعین ہوچکا ہے اور صحیح سمت میں قدم بڑھایا جاچکا ہے؟
 کون نہیں جانتا کہ معاشی نمو ٹھہری ہوئی ہے بلکہ کم ہورہی ہے۔ صنعتی پیداوار ڈانواڈول ہے۔ اشیاء کی مانگ کم سے کم تر ہوگئی ہے۔ سرمایہ کاری رُکی ہوئی ہے۔ بازار اُجڑا اُجڑا سا لگتا ہے خواہ تہوار ہی کا موقع کیوں نہ ہو۔ گزشتہ ماہ حکومت ہی کے جاری کردہ اعدادوشمار سے معلوم ہوا کہ خردہ بازار میں افراط زر کی شرح ۷ء۳۵؍ فیصد ہوگئی ہے جو کہ اس سے قبل کے مہینے میں ۵ء۵۴؍ فیصد تھی۔ یہ حقیقت بھی سب پر آشکار ہے کہ بے روزگاری ۴۵؍ سال کی سب سے اونچی سطح پر ہے۔ حکومت نے یہ بھی مجبوری میں مانا ورنہ ۱۹ء کے لوک سبھا الیکشن کے دور میں تو اسے خارج کردیا گیا تھا۔ اب میڈیا رپورٹوں میں بتایا جارہا ہے کہ ۲۰؍ تا ۲۴؍ سال کے ۶۳؍ فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔ بیرونی سرمایہ کار حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ اسے کون سی تدابیر اختیار کرنی چاہئے مگر جب مندی یا سست رفتاری ہی کو تسلیم نہ کیا جارہا ہو تو مشورہ کیونکر مان لیا جائیگا! بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق ایک امریکی ادارہ کے چیف اِنویسٹمنٹ آفیسر کرشنا میمانی نے لکھا ہے کہ ’’سیاست کو مؤخر کیا جاسکتا ہے، معاشی خستہ حالی سے نمٹنے کے اقدامات کو نہیں۔‘‘ 
 اس کے باوجود اگر یہ سمجھا گیا کہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر میں اُلجھا کر عوام کی توجہ ہٹائی جاسکتی ہے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ خود حکومت کو سی اے اے وغیرہ پر ضد چھوڑ کر اپنی توجہ معیشت پر مرکوز کرنی ہوگی۔ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK