Inquilab Logo Happiest Places to Work

ای ڈی نے کیرالا کے سابق وزیر اعلیٰ کے ۲۴۲؍ بینک کھاتوں کو فریزکیا

Updated: May 28, 2026, 10:08 AM IST | Thiruvananthapuram

کیرالا کے سابق وزیر اعلیٰ پنارائی وجین کی بیٹی وینا وجین اور ان کی کمپنی ایکسالوجک سالیوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ سے متعلق ۲۴۲؍ بینک کھاتوں میں جمع تقریباً۳۶ء۱۸؍ کروڑ روپے فریز کر دیے ہیں۔

Pinarayi Vijayan.Photo:PTI
پنارائی وجین۔ تصویر:پی ٹی آئی

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے سی ایم آر ایل۔ایکسالوجک منی لانڈرنگ معاملے میں کیرالا کے سابق وزیر اعلیٰ پنارائی وجین کی بیٹی وینا وجین اور ان کی کمپنی ایکسالوجک سالیوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ سے متعلق ۲۴۲؍ بینک کھاتوں میں جمع تقریباً۳۶ء۱۸؍ کروڑ روپے فریز کر دیے ہیں اور تلاشی کے دوران قابل اعتراض دستاویزات ضبط کیے ہیں۔
ای ڈی کے کوچی زونل آفس نے ۲۷؍ مئی کو منی لانڈرنگ کی روک تھام کے ایکٹ (پی ایم ایل اے)،  ۲۰۰۲ء کے تحت کوچین منرلز اینڈ روٹائل لمیٹڈ (سی ایم آر ایل)، اس کے ڈائریکٹروں ایس این ششی دھرن کارتھا اور سرن ایس کارتھا، وینا وجین اور ایکسالوجک سالیوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ سے جڑے ٹھکانوں کوٹائم، ایرناکولم، کنور، ترواننت پورم اور بنگلورو میں تلاشی مہم چلائی۔ ای ڈی نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ کئی قابل اعتراض ریکارڈ، ڈیجیٹل شواہد، سرمایہ کاری کے دستاویزات اور بینک فکسڈ ڈپازٹ ریکارڈ برآمد کیے گئے ہیں اور ان کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ای ڈی نے یہ بھی الزام لگایا کہ ترواننت پورم میں ایک رہائش گاہ پر تلاشی مکمل کرنے کے بعد، جہاں وینا وجین اور سابق وزیر اعلیٰ پنارائی وجین موجود تھے، اس کی ایک تلاشی ٹیم پر کچھ لوگوں کے گروپ نے حملہ کیا۔ ایجنسی کے مطابق ای ڈی کی گاڑیوں پر اینٹوں اور لوہے کی سلاخوں سے حملہ کیا گیا، تین گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور ایک ڈرائیور کی آنکھ میں چوٹ آئی۔
ایجنسی نے کہا کہ ای ڈی اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے کوئی جوابی کارروائی یا طاقت کا استعمال نہیں کیا۔ ترواننت پورم پولیس میں اس معاملے میں شامل لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے شکایت درج کرائی گئی ہے۔ سی ایم آر ایل ایک عوامی طور پر درج کمپنی ہے، جس میں ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۳ء تک   ۷۵ء۴۸؍فیصد شیئر عوام کے پاس اور۴۱ء۱۳؍ فیصد شیئر کیرالا اسٹیٹ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (کے ایس آئی ڈی سی) کے پاس ہیں، جو کیرالا حکومت کا ایک پبلک سیکٹر کا ادارہ ہے۔
ای ڈی کی جانچ جنوری ۲۰۱۹ء میں سی ایم آر ایل میں انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی تلاشی سے شروع ہوئی، جس میں تقریباً ۱۳۰؍ کروڑ روپے کے مبینہ فرضی اخراجات کا پتہ چلا تھا۔ ای ڈی کے مطابق، کمپنی نے بعد میں انکم ٹیکس سیٹلمنٹ کمیشن (آئی ٹی ایس سی) کے سامنے ان اخراجات کو تسلیم کیا، جس نے مبینہ رشوت کی ادائیگی کے سلسلے میں بھی نتائج درج کیے۔
ان نتائج کی بنیاد پر، سیریس فراڈ انویسٹی گیشن آفس (ایس ایف آئی او) نے جانچ شروع کی اور ای ڈی نے متوازی پی ایم ایل اے جانچ شروع کی۔ سی ایم آر ایل نے ای ڈی کی کارروائی کو کیرل ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ پی ایم ایل اے معاملے کے لیے کوئی بنیادی جرم موجود نہیں ہے۔ تاہم، ہائی کورٹ نے ۲۶؍ مئی ۲۰۲۶ء کو کمپنی کی درخواست خارج کر دی اور ای ڈی کی جانچ کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا۔ 

یہ بھی پڑھئے:ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کررہا ہے: ورلڈ پینل کی رپورٹ


ایس ایف آئی او نے اس سے پہلے ۳؍ اپریل  ۲۰۲۵ءکو ایڈیشنل سیشن کورٹ۔۷ ، ایرناکولم میں ایس این ششی دھرن کارتھا اور۱۲؍دیگر کے خلاف کارپوریٹ دھوکہ دہی اور پی ایم ایل اے کے تحت درج جرائم کا الزام لگاتے ہوئے شکایت درج کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:ڈریک نے مائیکل جیکسن کا تاریخی ریکارڈ توڑ دیا، بل بورڈ ہاٹ ۱۰۰؍ پر نئی تاریخ رقم


ای ڈی کی طرف سے نقل کردہ ایس ایف آئی او کی رپورٹ کے مطابق، ۱۵؍ برسوں میں مبینہ طور پر۱۸۲؍ کروڑ روپے کے فرضی نقد اخراجات درج کیے گئے اور مختلف افراد کو رشوت دینے میں ان کا استعمال کیا گیا۔ جانچ میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ سی ایم آر ایل نے ششی دھرن کارتھا خاندان کی ملکیت والی کمپنیوں کو ٹرانسپورٹ خدمات کے لیے ۹۱؍کروڑ روپے کی ادائیگی کی۔ ای ڈی نے مزید الزام لگایا کہ ایکسالوجک سلوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ نے بغیر کوئی حقیقی خدمت فراہم کیے، آئی ٹی مشاورت خدمات کے بہانے سی ایم آر ایل سے۷۸ء۲؍ کروڑ روپے حاصل کیے۔ اس میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ ششی دھرن کارتھا کے ذریعے چلائی جانے والی ایمپاور انڈیا کیپٹل انویسٹمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ نے واپسی میں تاخیر کے باوجود ایکسالوجک کو کل ۵۰؍ لاکھ روپے کے قرض دیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK