ای ڈی کی دعوت یا عداوت؟

Updated: June 15, 2022, 9:46 AM IST | Mumbai

نیشنل ہیرالڈ کیس میں، جس کو وقتاً فوقتاً ایک بڑے مسئلہ کے طور پر اُبھارا جاتا ہے، کوئی دم نہیں ہے۔ دم اس لئے نہیں ہے کہ اس میں کوئی جعلسازی نہیں ہے۔

Rahul Gandhi
راہل گاندھی

نیشنل ہیرالڈ کیس میں، جس کو وقتاً فوقتاً ایک بڑے مسئلہ کے طور پر اُبھارا جاتا ہے، کوئی دم نہیں ہے۔ دم اس لئے نہیں ہے کہ اس میں کوئی جعلسازی نہیں ہے۔ کسی صنعتکار کی ایک کمپنی سے پیسہ اُسی کی دوسری کمپنی میں جائے تو اس میں نہ تو دھوکہ دہی اور غبن ہے نہ ہی کسی کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش۔ اسوسی ایٹیڈ جرنلس لمیٹیڈ بھی کانگریس کی کمپنی تھی اور بعد میں بنائی گئی ینگ انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ بھی کانگریس کی، جو کہ ایک نان پرافٹ کمپنی ہے جس میں منافع کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ ایک کمپنی سے دوسری کمپنی میں روپوں کی منتقلی کسی بھی قانون کے اعتبار سے غلط نہیں ہے۔ جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے، اس کیس میں نیرو مودی اور میہول چوکسی کے کیس سے ملتا جلتا کچھ نہیں ہے۔یہ الگ بات کہ نیرو اور میہول کروڑوں کی دھوکہ دہی کے بعد غیر ملکوں میں آزاد گھوم رہے ہیں۔ بقول کسے نیشنل ہیرالڈ ’’منی لانڈرنگ‘‘ کا ایسا کیس ہے جس میں لانڈرنگ ہوئی ہی نہیں۔ بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی، جو عدالت پہنچے تھے، کا الزام ہے کہ کانگریس کے لیڈروں نے پارٹی کے پیسے سے اپنی جیبیں بھریں اور دوسروں کے نام سے املاک خریدیں۔ یہ غلط ہے۔ اس کے خلاف بے ضابطگی کا کیس تو بن سکتا ہے مگر غبن اور جعلسازی کا نہیں۔ 
 اس کے باوجود سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو نوٹس بھیجنا اور ای ڈی کے دفتر میں طلب کرنا سیاسی نقطۂ نظر سے کانگریس کا حوصلہ پست کرنے اور اُسے عوام کے سامنے رُسوا کرنے کی کوشش ہے۔ یہ مالیاتی گھوٹالے کا معاملہ نہیں ہے مگر سیاسی طور پر مدمقابل کو زیر کرنے کی کوشش ضرور ہے۔ چونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لئے اس میں ای ڈی کو توقف کرنا چاہئے تھا۔
  حکمراں جماعت پر الزام ہے کہ اپنے مخالفین کے خلاف مرکزی ایجنسیوں مثلاً ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس وغیرہ کا استعمال کرتی ہے۔ یہ اس کیس سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کانگریس کو بدنام کیا جائے اور وہ جتنی کمزور اِس وقت ہے، آنے والے وقت میں اُس سے بھی زیادہ کمزور ہوجائے یا عوام کے نزدیک قابل اعتناء نہ رہے۔ یہ ۲۰۲۴ء میں دس سالہ اینٹی اِن کمبینسی سے نمٹنے کی کوشش بھی ہے تاکہ متعدد ریاستوں میں بی جے پی کا مقابلہ کرنے والی تنہا پارٹی کی حیثیت سے اس کی ساکھ مجروح ہو اور اتنی کمزور ہوجائے کہ اس میں الیکشن لڑنے کی تاب نہ رہے۔ ممکن ہے سمن وغیرہ اس لئے بھی بھجوائے گئے ہوں کہ ۲؍ اکتوبر سے شروع ہونے والی ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کو عوامی حمایت نہ ملے۔ 
 ویسے، ای ڈی کے سمن پر حاضری کے موقع کو بھنانے کی غیر معمولی کوشش کانگریس نے کی ہے جس کی ستائش نہ کرنا بخل ہوگا۔ راہل گاندھی جب پیر، ۱۳؍ جون کو ای ڈی کے دفتر میں حاضر ہونے والے تھے تب کانگریس پارٹی نے اتحاد کا زبردست مظاہرہ کیا اور بڑی تعداد میں پارٹی کے سینئر لیڈر ای ڈی کے دفتر جانے کیلئے نکلے۔ اتنا ہی نہیں، الگ الگ ریاستو ںمیں بھی ای ڈی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔اس دوران جہاں ای ڈی کی کارروائی کو سیاسی انتقام سے تعبیر کرنے کی کوشش کی گئی وہیں مہنگائی اور بے روزگاری جیسے سنگین عوامی مسائل پر بھی گفتگو کی گئی جس سے ایسا لگا کہ کانگریس اب معرکہ آرائی کیلئے تیار ہورہی ہے۔ وہ، اس جوش و خروش اور فعالیت کو کس حد تک برقرار رکھ پاتی ہے یہ دیکھنا اہم ہوگا۔ n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK