بچوں کی تربیت: بنیادی اُصول اور والدین کی ذمہ داریاں

Updated: March 13, 2020, 11:20 AM IST | Badar Islam

یوں تو بچوں کی تربیت میں کئی پہلو اور نکات ہیں لیکن ابتدائی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں کو نبی کریم ﷺ کی سیرت ِ مبارکہ سے واقف کرایا جائے۔ اسورۂ رسولؐ کی پیروی کو جزو ایمان بنانا اور صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین کی زندگیوں کو مشعلِ راہ کے طور پر بچوں کے سامنے لانا ضروری ہے

Give Basic Knowledge of Child Picture INN
بچوں کو بنیادی تعلیم ضروری ۔ تصویر :آئی این این

بچوں کی تعلیم کا ایک اہم دائرہ وہ تربیت ہے جو انہیں اپنے خاندان سے حاصل ہوتی ہے۔ اس تربیت کا اہم ترین پہلو بچوں (اولاد) کے ساتھ والدین کا طرزِ عمل  ہے۔ اس سلسلے میں  چند اصولی نکات درج ذیل ہیں:
بنیادی دینی تعلیم
 ابتدائی عمر ہی سے بچوں کو دین کی بنیادی تعلیمات سے واقف کرایا جائے۔ قرآن کی تعلیم کا شعوری انتظام اور حلال و حرام کے احکامات سے واقفیت فراہم کی جائے۔ سات سال کی عمر  سے نماز کا ، اور روزہ رکھنے کے قابل عمر کو پہنچنے پر روزے کا عادی بنایا جائے۔ بچوں میں بالکل ابتداء سے اللہ سے تقویٰ اور اس کے سامنےتمام کاموں (اعمال) کے لئے جواب دہ ہونے کا تصور پیدا کرنا، اور ان میں یہ احساس جگانا ضروری ہے کہ اللہ ہر وقت ان کی نگرانی کررہا ہے۔
اخلاقی تربیت
 بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی اعلیٰ اخلاق کا عادی بنانے کی کوشش کی جائے، کیونکہ بچپن کی عادتیں بڑے ہونے پر پختہ ہوتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ بچپن ہی سے انہیں سچائی، امانتداری، بہادری، احسان، بزرگوں کی عزت، پروسیوں سے بہتر سلوک، دوستوں کے حقوق کی پاسداری اور مستحق لوگوں کی مدد جیسے اعلیٰ اخلاقی اوصاف کا حامل بنایا جائے۔ پھر انہیں برے اخلاق مثلاً جھوٹ، چوری، گالی گلوچ اور بے راہ روی سے سختی سے بچایا جائے۔ اوائل عمر سے ہی محنت و مشقت کا عادی بنایا جائے اور عیش کوشی و آرام پسندی سے دور رکھا جائے۔
جسمانی تربیت
 والدین کی طرف سے بچوں کی جسمانی نشوونما، غذا اور آرام کا خیال رکھا جائے اور انہیں ورزش کا عادی بنایا جائے۔ جسمانی بیماریوں اور جائز ضروریات کو پورا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی جائے۔
 چار بنیادی باتیں جن سے والدین کے لئے پرہیز کرنا لازم ہے
 تحقیر آمیز سلوک: بچوں کی اصلاح و تربیت میں عجلت اور جلد بازی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے صبر و استقامت کے ساتھ یہ کام کیا جائے۔ بچوں کی اہانت یا تحقیر کرنے سے گریز کیا جائے۔
 سزا میں بے اعتدالی: بالکل سزا نہ دینا اور بہت زیادہ سزا دینا ، دونوں باتیں غلط ہیں۔ بچوں کے ساتھ محبت اور شفقت و نرمی کا برتاؤ حضورؐ کی سنت ہے اور معقول حد تک سرزنش کا بھی ایک مقام ہے۔ ان دونوں رویوں میں اعتدال لازم ہے۔
 بے جا لاڈ  پیار: بچوں کی ہر خواہش کو پورا کرنا اورغیرضروری لاڈ پیار انہیں ضدی اور خودسر بناتا ہے۔ اس میں بھی اعتدال ضروری ہے۔
 بچوں کو ایک دوسرے پر ترجیح دینا: ایک ہی گھر میں دو بچوں یا لڑکوں اور لڑکیوں میں ایک کو دوسرے پر فوقیت دینا غیراسلامی رویہ ہے جس سے بچے بہت سے نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہوکر انتہاپسندی اور انتقام پسندی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسے مریضانہ رویے سے اجتناب لازم ہے۔
 ان اصولی نکات کے علاوہ چند عملی اقدامات جن پر والدین آسانی سے عمل کرسکتے ہیں
اپنے خاندان میں بالخصوص بچوں کے ساتھ ممکنہ حد تک زیادہ وقت گزارا جائے۔ اپنی معاشی جدوجہد و دیگر مصروفیات کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ لازماً کچھ وقت اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ گزارا جاسکے ۔ بچوں کی تعلیم و تربیت ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داری ہے، تربیت کا تمام تر بوجھ ماں پر ڈال دینا ایک نامناسب اور غیرمعقول طریقہ ہے۔ مدرسے میں بچوں کی مصروفیات، دوستوں کی صحبت وغیرہ سے واقفیت کے لئے ضروری ہے کہ والدین ان کے ساتھ روزانہ کچھ نہ کچھ وقت گزاریں۔
 بچوں کو سخت کوشی اور محنت کا عادی بنانے کے لئے انہیں ایک درمیانے معیار کی زندگی کا عادی بنایا جائے تاکہ وہ ایک عام انسان جیسی پرمشقت زندگی کا تجربہ حاصل کرسکیں۔
اوّل تو جیب خرچ دینے سے بچا جائے اور بچوں کی ایسی ضروریات کو خود پورا کیا جائے، اور اگر بچوں کو جیب خرچ دیا جائے تو پھر انہیں ڈسپلن کا پابند بنایا جائے۔ بچوں سے اس رقم کا حساب بھی پوچھا جائے تاکہ ان میں بچپن سے ہی کفایت شعاری، بچت اور غیرضروری اخراجات سے پرہیز کی عادت پروان چڑھے اور جوابدہی کا احساس پیدا ہو۔ والدین کی طرف سے اپنے بچوں کو آرام پہنچانے کی خواہش بجا ہے مگر ابتداء سے بغیر محنت کے آرام طلب بنانا، ان کے مستقبل کے ساتھ سنگین مذاق ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ان کے کپڑوں اور جوتوں پر اخراجات میں اعتدال رکھنا ضروری ہے۔
 ابتداء ہی سے بچوں سے خودانحصاری یعنی اپنی مدد آپ کے اصولوں پر عمل کرایا جائے۔ اگر معاشی وسائل میں وسعت حاصل ہو تب بھی  اپنے کام خود کرنے یعنی جوتے صاف کرنے ، کمرے کو ترتیب دینے اور اپنی چیزیں خود سنبھالنے وغیرہ کی عادت ڈالی جائے۔
والدین کا  فرض ہے کہ بچوں کو اپنے بزرگوں کی خدمت کی طرف متوجہ کرتے رہیں۔
ان کی مصروفیات اور ان کے دوستوں کو جاننا ضروری ہے۔ جرائم کا ارتکاب اور نشہ آور چیزوں کا استعمال غلط صحبت کا نتیجہ ہوتا ہے اس لئے بچے کے دوستوں پر گہری نظر رکھنا والدین کی لازمی ذمہ داری ہے۔
 بچوں کے سامنے مدرسے یا اساتذہ یا دوسرے عزیزوں کی برائی نہ کی جائے۔ اگر جائز شکایت ہو تو متعلقہ ذمہ داران سے گفتگو کی جائے ، مگر بچوں کے سامنے کبھی ان کے اساتذہ کی تحقیر نہیں ہونی چاہئے۔ والدین اپنے بچوں کے اساتذہ کی عزت کریں گے تو بچے بھی اس کا اچھا اثر قبول کریں گے۔
 ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے حوالے سے متوازن رویہ اپنانا ضروری ہے۔ اس کے لئے والدین کو خود اپنے آپ کو نظم و ضبط کا پابند بنانا ہوگا، تعلیمی اور معلوماتی پروگرام سے استفادہ اور اچھے تفریحی پروگراموں پر بچوں سے تبادلہ خیال کے ذریعے مثبت اور منفی پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہئے۔  ٹی وی اور کمپیوٹر کتابوں کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔ اچھی کتب اور رسالے، بچو ںکی شخصیت سازی میں غیرمعمولی کردار ادا کرتے ہیں۔ اپنے بچوں میں مطالعے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ والدین انہیں اچھی کتابیں اور رسائل فراہم کریں ۔
  بچوں میں احساس ذمہ داری پیدا کیا جائےتاکہ ملک و ملت اور انسانیت کے تئیں حساسیت پیدا ہو۔ موجودہ دور میں ہر شخص اپنے حقوق کے بارے میں بہت حساس ہے مگر اپنے فرائض کی ادائیگی کے بارے میں انجان بن جاتا ہے۔ اس رویے کو تعلیمی عمل کے دوران ہی تبدیل کرنا ہوگا۔ بچوں میں عوامی املاک کی حفاظت کا احساس پیدا کرنا چاہئے۔ اسلام ان املاک کے بارے میں امانتدار ہونے اور اللہ کے سامنے جوابدہی کا تصور دے کر اس کی حفاظت کراتا ہے۔
 قول و فعل میں تضاد سے پرہیز لازم ہے۔ بچے اپنے بڑوں کے اعمال سے غیرمحسوس طریقے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ ماں باپ اور دیگر بڑوں کا طرزِ عمل بچوں کی شخصیت کو بناتا ہے۔  والدین کو سچائی، امانتداری وغیرہ کے تمام معاملات میں خواہ وہ چھوٹا معاملہ ہو یا بڑا، اپنے عمل کو درست رکھنا چاہئے۔ 
وقت کی تنظیم اور قدر والدین خود بھی کریں اور بچوں میں ابتداء سے ہی وقت کے صحیح استعمال کی عادت ڈالیں۔ وقت کا ضیاع ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اس قیمتی دولت کا بہترین استعمال کامیابی کی کلید ہے۔
بچوں کی تعلیم و تربیت میں والدین تدریج سے کام لیں، ان کی اصلاح سے مایوس نہ ہوں۔عموماً والدین اپنے بچوں سے اونچی توقعات وابستہ کرتے ہیں مگر جب وہ اس معیار پر پورے نہیں اترتے تو  مایوس ہوجاتے ہیں اور بچوں سے ناراضگی اور جھنجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ نامناسب رویہ ہے۔ والدین کو اپنی خواہشات بچوں پر تھوپنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔
  یوں تو بچوں کی تربیت میں کئی پہلو اور نکات ہیں لیکن ابتدائی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں کو نبی کریم ﷺ کی سیرت ِ مبارکہ سے واقف کرایا جائے۔ اسورۂ رسولؐ کی پیروی کو جزو ایمان بنانا اور صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین کی زندگیوں کو مشعلِ راہ کے طور پر  بچوں کے سامنے لانا ضروری ہے 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK