تعلیم، اتحاد ،جدوجہد

Updated: December 06, 2020, 11:10 AM IST | Prof Syed Iqbal

امبیڈکر کی شخصیت کو دیکھ کر یقین ہوجاتا ہے کہ کوئی شخص یوں ہی عظیم نہیں ہوجاتا، اس کیلئے شبانہ روز کی محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ امبیڈکر کی سیاست کی بنیاد مذہب نہیں انسانیت ہے، وہ کسی کیلئے نفرت کا جذبہ نہیں رکھتے

Baba Sahib Ambedkar - Pic : INN
بابا صاحب امبیڈکر ۔ تصویر : آئی این این

ہزار ہا فرقہ وارانہ فسادات کے خون میں لت پت اور تشدد اور استحصال کی مارسہتے ہوئے جب ۶؍ دسمبر کو مسلمانوں کی اجتماعی نفسیات پر کاری ضرب لگی تو قوم بلبلا اٹھی۔ یہ ایسا زخم تھا جو شاید ہی مندمل ہو۔ ظالموں نے اس  سازش کیلئے ۶؍دسمبر کا انتخاب بھی اسلئے کیا تھا کہ وہ دن دلتوں کے مسیحا، ڈاکٹر امبیڈکر کا یوم وفات تھا۔ ظاہر ہے ڈاکٹر امبیڈکر کی موت پر فرقہ پرست اندر ہی اندر بہت  خوش ہوئے ہوں گے، اسلئے عجب نہیں جو مسلمانوں کی شناخت مٹانے کیلئے بھی اسی دن کا انتخاب کیا گیا ہو۔ وائے حسرت کہ ہم ملکی سیاست میں  رونما ہونے والے انقلابات سے بڑی حد تک بے خبر ہیں بلکہ قومی مسائل سے اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیاں تک یاد نہیں رہیں۔ ان حالات میں یہ توقع رکھنا کہ ہم آزاد ہندوستان  کے دستور ساز، ملک کے پہلے وزیر قانون اور دلتوں کے سب سے بڑے رہنما کے حالات زندگی سے واقف ہوں گے، نادانی ہوگی بلکہ ڈاکٹر امبیڈکر کو دلتوں تک محدود کردینا بھی ناانصافی ہے۔ وہ تو ذات پات اور ورن کے استحصال سے ساری انسانیت کو نجات  دلانا چاہتے تھے ۔انگریزوں کے دور اقتدار میں تعلیم کی ترویج وترقی پر خاصا کام ہوا، ریلوے لائن قائم کی گئی اس طرح غیر شعوری طورپر ایک سماجی انقلاب کی راہیں کھلے لگیں مگر دلتوں کیلئے ٹھوس اقدامات سے پھر بھی پرہیز کیا گیا، مگر وقت نے دلتوں کو ایسا قائد عطا کیا، جو اسی گروہ سے تعلق رکھتا تھا اور ساری ذلتیں سہنے کے باوجود ثابت قدم رہا۔
  ان کی تحریک کی پذیرائی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مہاراشٹر میں اس تحریک کیلئے زمین پہلے ہی تیار ہوچکی تھی۔ گووندراؤ پھلے ، گووندرانا ڈے ، گوپال اگر کر ایسے مصلحین پہلے ہی برہمن واد کے خلاف جنگ چھیڑچکے تھے اور ہرطرف سماجی اصلاحات کا دور دورہ تھا۔ لڑکیوں کیلئے اسکول کھل چکے تھے، بیواؤں کی شادی عام ہونے لگی تھی۔ کسانوں کو متحد کیاجارہا تھا اور دلتوں اور مزدوروں کیلئے جدوجہد شروع ہوچکی تھی۔ کولہاپور کے شاہو مہاراج اور بڑودہ کے سیاجی راؤ گائیکواڑنے دلتوں کو اپنے انتظامیہ میں شامل کرنا شروع کردیا تھا۔ ان کیلئے اسکول اور ہاسٹل کھولے گئے تھے اورانہی کی مالی امداد سے ڈاکٹر امبیڈکر بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
  بھیم راؤ کی پیدائش رتناگیری ضلع کے امباوڑے گاؤں میں    رام جی کے گھر ہوئی جو فوج کی ملازمت سے ریٹائر ہوئے تھے۔ گھر میں کل ۶؍ افراد تھے اوران کا پنشن پر مشکل سے گزارا ہوتا تھا۔ اسلئے وہ نوکری کی تلاش میں بمبئی آگئے۔ یہاں نوکری نہیں ملی تو ستارا چلے گئے  اور وہیں بس گئے۔ چونکہ انہوںنے فوجیوں کے اسکول میں پڑھایا تھا، اسلئے تعلیم کی اہمیت سے واقف تھے۔ ننھے بھیم راؤ کو گاؤں کے اسکول میں داخل کردیا گیا مگر اسکول کا تجربہ اس بچے کیلئے کچھ اچھا نہیں تھا، لیکن دلت ہونے کے ناطے وہ ہر تلخ تجربہ برداشت کرتے رہے۔
  ان کے بچپن کا ایک واقعہ ناقابل فراموش ہے۔ ایک دن خوب بارش ہورہی تھی اور بڑا بھائی چھتری لے کر جاچکا تھا۔ اسلئے وہ بھیگتے ہوئے اسکول پہنچے۔ وہاں پنڈے گرو نامی استاد نے جب ایک کم عمر لڑکے کو یوں بارش میں بھیگا ہوا پایا تو اسے اپنے گھرلے گئے، پانی گرم کروایا اور نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہننے کو دیئے۔ ایک برہمن استاد کا اپنے دلت شاگرد کے تئیں ایسی اپنائیت وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ وہ  پنڈے گروجی کی شرافت اور روا داری کے دل سے معتقد ہوگئے۔ ان کی زندگی کا دوسرا واقعہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ روزانہ کھانے کے وقفے میں پیدل گھر جاتے اورکھانا کھاکر دوڑتے ہوئے اسکول واپس آگے۔ گھر میں اتنا کھانا نہیں ہوتا تھا کہ بچے کو ٹفن میں دیاجاسکے۔  ایک استاد یہ سب دیکھ رہے تھے۔ ایک دن  انہوں نے اس  طالب علم سے پوچھا کہ تم روزانہ گھر جانے کے بجائے میرے ساتھ ہی روٹی کھالیا کرو۔ امبیڈکر  پر گویا حیرتوں  کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ کیا کوئی برہمن کسی دلت کو اپنے کھانے میں شریک کرسکتا ہے؟ اپنے استاد کے اصرار پر امبیڈکر راضی ہوگئے۔ اب روزانہ استاد انہیں ایک روٹی دیتے اور وہ دیگر طلبہ سے دور بیٹھ کر کھالیتے۔ اس محبت کا ننھے امبیڈکر پر اتنا اثر ہوا کہ انہوںنے اسکول کی دستاویز پر اپنا سرنیم بدل کر اپنے استاد کا سرنیم امبیڈکر رکھ لیا۔ ان کی زندگی کا تیسرا واقعہ بڑا درد ناک ہے۔ دونوں بھائی  ریل سے کوریگاؤں جارہے تھے۔ مکان اسٹیشن سے دور تھا، اس لئے بیل گاڑی کرنی پڑی۔ راستے میں گاڑی چلانے والے نے اچانک ان کی ذات پوچھ لی۔  جب ’مہار‘ کا لفظ سنا تو گاڑی روک دی اور انہیں اُترنے کہا۔ ’’اب مجھے اشنان کرنا پڑے گا، گاڑی دھونی پڑے گی اور بیلو ں کو نہلانا ہوگا‘‘۔ نوسال کے امبیڈکر کی سمجھ میں نہیں آیا کہ ایسا کیا ہوگیا۔ کیا ایک نیچی ذات کے مسافر کے بیٹھنے سے ساری گاڑی، یہاں تک کہ بیل بھی اپوتر ہوجاتے ہیں؟ انہوںنے گاڑی بان سے التجا کی کہ وہ اسے دُگنے پیسے دیں گے مگر وہ کسی طرح انہیں گھر پہنچا دے۔ لالچ  میں گاڑی بان راضی ہوگیا۔  بچوں کو راستے میں پیاس لگی تو گاڑی بان نے ایک گڑھے کےپاس گاڑی روک دی جہاں پانی اتنا گندہ تھا کہ انسان تو کیا جانور بھی پانی کو منہ نہ لگاتے۔ ننھا امبیڈکر یہ سوچ سوچ کر پریشان تھا کہ ان میں ایسی کون سی خرابی ہے کہ ستارا میں ایک مقام پر پانی پینے پر لوگوں نے ان کی پٹائی کردی تھی۔ گاؤں کا  نائی ان کے بال کاٹنے پر راضی نہیں تھا۔ انہیں سنسکرت پڑھنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔ خیر! انہوںنے پانی پیئے بغیر ہی راستہ طے کرلیا۔والد کے گاؤں کی حالت بھی کچھ اچھی نہیں تھی، اسلئے سارا خاندان بمبئی منتقل ہوگیا۔ پریل کی ایک چال میں کرائے پر ایک کمرہ لیا گیا اوران کے والد نے الفسٹن اسکول میں بھیم راؤ کا داخلہ کروادیا۔ بڑےبھائی آنند کو نوکری مل گئی تھی۔   اب بھیم راؤ کی ساری توجہ تعلیم پر تھی ۔ روزانہ پریل سے دھوبی تالاب تک (تقریباً دس کلو میٹر) پیدل سفر کرنا پھر خالی پیٹ پیدل لوٹنا ان کا معمول بن چکا تھا۔ شہر کے اس بڑے اسکول میں جب انہوںنے بلیک بورڈ پر ریاضی کا سوال حل کرنا چاہا تو سارے لڑکے چلانے لگے کہ کسی دلت کو اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ خیر میٹرک کے امتحان میں انہوں نےامتیازی کامیابی حاصل کی اور اس وقت کے معروف  لیڈر نے بھرے جلسے میں اس ذہین طالب علم کی بڑی تعریف کی۔ بدھ مت پر ایک کتابچہ تحفتاً دیا اور بڑودہ کے راجا سے سفارش کرکے ان کیلئے ماہانہ پندرہ روپے کا وظیفہ منظور کروادیا ۔ بدھ مت سے یہ ان کا پہلا تعارف تھا۔ وظیفہ پاکر بھیم راؤ کو بڑا حوصلہ ملا اورانہوں نے مزید تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کرلیا۔
  اب تک ان کے والد کو بھی اپنے بیٹے کی محنت اور ذہانت کا اندازہ ہوچکا تھا۔ جب وہ کالج کی پڑھائی کرتے تو باپ کمرے کے باہر بیٹھے  رہتے۔ خوش قسمتی سے بی اے کی کامیابی کے بعد انہیں بڑودہ میں نوکری مل گئی لیکن پندرہ دنوں بعد ہی ا ن کے والد کا انتقال ہوگیا،اسلئے انہیں فوراً بمبئی آنا پڑا۔ جب وہ بڑودہ لوٹے تو پتہ چلا کہ راجا صاحب ہر سال چار طالب علم کو اعلیٰ تعلیم کیلئے ملک سے باہر بھیجتے ہیں۔ انہوںنے فوراً درخواست دی اور اتفاق سے انہیں نیویارک جانے کا وظیفہ مل گیا۔ نیویارک کی دنیا ایک الگ ہی دنیا تھی۔ یہاں ذات پات کا نظام تھا نہ انسانوں کے درمیان کوئی تفریق تھی البتہ غربت کے سبب وہ دن میں صرف ایک بار سبزی کھاتے اورایک کافی پر سارا دن گزار لیتے۔ اس طرح وظیفے میں سے کچھ پیسے بچا کر وہ گھر بھیج دیتے۔ ۱۹۱۷ء میں ایم اے کرنے کے بعد انہوںنے کولمبیا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ۔ ڈگری لینے کے بعد وہ بڑودہ لوٹے تو ان کے پاس دوہزار کتابیں جمع ہوچکی تھیں۔ بڑودہ میں انہیں سرکاری محکمے میں نوکری تو مل گئی مگر آفس کے کارکنان کا تعصب ہنوز برقرارتھا۔ یہ حضرات سرکاری کاغذات دور سے پھینک دیتے اور امبیڈکر کو اپنے لئے پینے کا پانی الگ سے لے جانا پڑتا۔
  اس سے کہیں زیادہ اندوہناک تجربہ انہیں اس دن ہوا جب انہیں شہر کے ایک ہاسٹل سے نکالا گیا۔ شہرمیں پلیگ پھیل چکا تھا اوران کے پاس رہنے کی کوئی متبادل جگہ نہیں تھی۔کسی کے اطلاع  دینےپر ہاسٹل کے باہر بھیڑ جمع ہوگئی تھی اور سب چیخ چیخ کر انہیں برا بھلا کہہ رہے تھے۔ بھوک اور پیاس سے ان کا برا حال تھا اور ہاسٹل کا مالک انہیں رکھنے پر تیارنہیں تھا۔ انہوںنے بیگ میں اپنا سامان بھرا اور باہر نکل آئے۔ جب بھیڑ چھٹ گئی تو تھوڑی دور جاکر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔ کیا اس معاشرے میں ایک  اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کی عزت صرف اسلئے نہیں کی جاتی کہ وہ نیچی ذات کا ہے؟ کیا کسی انسان کی پریشانی لوگوں کو ذرہ برابر پریشان نہیں کرتی؟سوئے اتفاق کہ ا ن کے پرانے خیر خواہ کو لوسکر کو اس حادثے کی خبر ملی تو انہوںنے اپنے ایک دوست کے ہاں ان کے رہنے کا انتظام کروادیا مگر اس دوست کی بیوی نے دھرم بھرشٹ ہونے کے خوف سے انہیں اپنے ہاں رکھنے سےا نکار کر دیا۔  انہیں سڈنہم کالج میں ملازمت بھی ملی مگر ذات پات کے تعصب نے یہاں بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ بالآخر ایک دوست کی مدد سے وہ لندن روانہ ہوگئے۔ لندن میں ان کی لینڈ لیڈی روزانہ انہیں ایک بریڈ اور جیم کا سینڈوچ اور ایک کپ کافی دیتیں جس پر وہ دن بھر گزارا کرلیتے۔ ۱۹۲۲ء میں وہ بیرسٹر بن گئے اور  ہندوستان لوٹنے  پر طے کرلیا کہ وہ نوکری نہیں کریں گے بلکہ دلتوں کے حقوق کیلئے لڑیں گے۔ جدوجہد کے وہ باب کھلتے گئے جن سے ان کی زندگی بھری پڑی ہے۔ 
  ان کے تحریکی سفر میں مہاڈ کی ستیہ گرہ بے حد اہم ہے جو انہوںنے اچھوتوں کیلئے تالاب کھلوانے کیلئے کی تھی۔ اچھوتوں کیلئے الگ سے حلقہ انتخاب کا اصرار بھی ان کی زندگی کا  اہم باب ہے جس کی انہوںنے گول میز کانفرنس تک وکالت کی لیکن آزاد ہندوستان میں  ان کا دستور بنانا ان کا تاریخی کارنامہ ہے جس کیلئے ہر ہندوستانی کو ان کا احسان مند ہونا چاہئے؟  ستم ظریفی دیکھئے کہ جس شخص نے کھلے عام منوسمرتی جلائی تھی، اسی شخص کو نئے دستور کی تیاری کا کام سونپا گیا۔ ڈھائی تا تین ہزار برس تک جس طبقے کے پاس علم کی روایتیں محفوظ تھیں ،وہ امبیڈکر جیسا ایک قدآور شخص بھی پیدا نہیں کرسکا ۔ امبیڈکر کی شخصیت دیکھ کر یقین ہوجاتا ہے کہ کوئی شخص یوں ہی عظیم نہیں ہوجاتا، اس کیلئے شبانہ  روز کی محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ امبیڈکر کی سیاست کی  بنیاد مذہب نہیں انسانیت ہے۔ وہ اس کیلئے نفرت کا جذبہ نہیں رکھتے۔ وہ عام ہندوؤں کی ذہنیت میں تبدیلی کے خواہاں تھے۔ آج دلت صحافت اور دلت ادب اُبھرنے لگا ہے اور دلت اپنے روایتی پیشوں سے ہٹ کر دوسرے پیشے اپنانے لگے ہیں تو اس کی وجہ ’تعلیم ، اتحاد اور جدوجہد‘ ہے جس پر انہوںنے ہمیشہ اصرار کیا۔ان کا تیارکردہ دستور ہندوستانیوں میں مساوات کو فروغ دینے کی کوشش ہے ۔ یہاں کی نابرابری اور ذات پات نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنے  معتقدوں کو لے کر بدھ مت میں داخل ہوں کیوں کہ وہ کہتے تھے، میںہندو پیدا ہوا ہوں مگر ہندو مرنا نہیں چاہتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK