آزادی کے ۷۵؍برسوں میں قوم کی تعلیمی، سماجی و سیاسی پیش رفت

Updated: August 15, 2022, 1:35 PM IST | Mubarak Kapri | Mumbai

ہم ملک کی آزادی کی ۷۵؍ویں سالگرہ منارہے ہیں، یہ ایک طویل عرصہ ہے،اسلئے ضروری ہے کہ ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ اس دوران ہماری قوم کی تعلیمی، سماجی اور سیاسی پیش رفت کس طرح کی رہی ہے،اس کا سنجیدگی سے جائزہ لینا اسلئے بھی ضروری ہے تاکہ اس کی روشنی میں مستقبل کا لائحہ عمل تیار کیا جاسکے اور اپنی خامیوں کو دور کیا جاسکے

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

ہمارے نوجوانوں کی سول سروسیز نیز حکومت و معاشرے سےمتعلق ہر امتحان میں سماجیات، معاشیات، نیز علوم سائنس کے علاوہ لازمی طور پر سیاسی سائنس سے متعلق سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ کبھی شہریت کہلانے والا مضمون اب کئی اضافے کے ساتھ ملک بھر میں نویں جماعت ہی سے پڑھایا  جاتا ہے۔ اسلئے اس تعلیمی کالم میں ہم آزادی کے ۷۵؍برسوں میں قوم کی تعلیمی، سماجی و سیاسی پیش رفت کے منظر نامے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ اسلئے بھی ضروری ہے کہ سارے مقابلہ جاتی امتحانات میں چند مخصوص تاریخ داں اور حالاتِ حاضرہ پر چند معروف مبصّروں کے تبصرے پڑھنے کامشورہ دیاجاتاہے۔ یہ معاملہ روایتی طور پر کئی دہائیوں  سے جاری ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے طلبہ تک حقیقی تاریخ نہیں پہنچ پاتی۔ پھر ہمارے طلبہ ساری زندگی اُسی مسخ شدہ تاریخ کے اسیر بنے رہتے ہیں اور پھر وہ آئندہ نسل تک اُسے منتقل کرتے ہیں اسلئے یہ بہت ضروری ہے کہ تاریخ، ثقافت اور تہذیب کے اصل حقائق سے قوم کے نوجوانوں کو واقف کرایا جائے۔  اس ضمن میں البتہ ہم اپنے نوجوانان، والدین اور اساتذہ  کے سامنے یہ واضح کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ تاریخ نیز حالاتِ حاضرہ سے متعلق جو فکر اور معلومات ہم  اپنے اسکول سے لے کر یونیورسٹی سطح کے طلبہ تک پہنچانا چاہتے ہیں وہ اُنھیں شاید سرکاری امتحانات میں کام نہیں آئے گی کیوںکہ ہر ملک میں سرکاری ماہرین تعلیم کی اپنی ذہنیت، اپنا نصاب اور اپنا ایجنڈا طے ہوتا ہے۔ اُن کی کسوٹی پر کھرا ثابت ہونے والے ہی کو اپنے تحریری یا زبانی امتحان میں کامیاب قرار دیا جاتا ہے البتہ اپنی قومی و ملّی قیادت سے ہمارے نوجوانوں کا مسلسل استحصال ہورہا ہے، اسلئے ہماری کوشش ہے کہ ہمارے نوجوانان سیاسی شور کا شکار نہ ہو جائیںبلکہ ان میںسیاسی شعور پیدا کرنا ضروری ہے  تاکہ وہ مستقبل کے راستے اور منزلوں کا تعین کرسکیں۔ آزادی کے بعد کے سارے معاملات کا جائزہ ممکن نہیں البتہ ہم اُن واقعات پر غور کریں گے اور فکر بھی جو اہم موڑ ثابت ہوئے:
:۱ تقسیم ہند ۔
 اِن ۷۵؍برسوں میں ہماریسب سے بڑی غلطی تقسیم ہند کا مطالبہ تھا۔ ہم جانتے ہیںکہ یہ مطالبہ پوری قوم کا نہیں تھا اور چہارسو اُس کی حمایت نہیں ملی اور یہ بھی جانتے ہیں کہ دو قومی نظریے کے اصل بانی ونایک دامودر ساورکر تھے۔ اُن کے انتہائی خطرناک منصوبے کی ہماری قوم کے  کچھ لوگوںنے حمایت کی اور یہ تاریخی حماقت اس دھرتی پر پہلی مرتبہ ہوئی کہ جس قوم نے پورے برِّصغیر نے ۸۰۰؍ سال تک حکومت کی، اُ س نے ایک چھوٹے سے علاقے پر قبضہ حاصل کر کے جشن منایا۔ یہ کچھ ایسی ہمالیائی غلطی تھی جس کی سزا پورے ۷۵؍سال تک ہم قسطوں میں ادا کر  رہے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کیلئے اس میں بڑا سبق یہ ہے کہ (الف) جذباتی، جوشیلی قیادت کے بجائے دُور اندیشی پر مبنی رہنمائی کواُنھیں ترجیح دینا ہے۔ (ب) علی گڑھ تحریک کے صرف ۹۰؍برسوں کے اندر قوم تقسیم ہوگئی۔ (ج) مولانا آزاد کے بعد اس ملک میں مسلم قیادت کبھی نہیں اُبھری۔ (د) ڈاکٹر ذاکر حسین کے صدر جمہوریہ بننے سے ہماری قوم اور خود ڈاکٹر ذاکر حسین کا شدید نقصان ہوا کیوں کہ مزید دوچار جامعہ ملیہ وجود میں آسکتے تھے البتہ اُن جیسی فعال و متحرک شخصیت کو ۳۴۰؍کمروں والے راشٹر پتی بھون میں بھیج دیا گیا ۔ (و) اُس کے بعد مسلم کوٹہ میں کئی وزیر مقرر ہوئے البتہ وہ سبھی اپنی اپنی پارٹی کے ہائی کمان کے ’’جی حضور، یس سر‘‘ والے بندے تھے۔ 
:۲ سیاسی توازن
 آزادی کے بعد سے اس ملک کی ساری سیاسی پارٹیاں جو کھیل کھیل رہی ہیں اُس کا نام ہے ’توازن، توازن‘۔ اس ملک کا جو بھی حال ہو، ہر پارٹی چاہتی ہے کہ وہ بہر صورت برسرِ اقتدار ہے اور اُس کیلئے اُن کے سارے ووٹ بینک برقرار رہیں۔ اس کی صرف دومثالیں کافی ہیں: (ا)۱۹۷۴ء میں جب جے پرکاش نرائن نے آر ایس ایس کی مدد سے اندرا گاندھی کے خلاف ملک گیر تحریک چلائی  تو اُسے کچلنے کیلئے ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ اندرا گاندھی نے آر ایس ایس پر پابندی لگادی۔شاطر مشیران نے اُنھیں مشورہ دیا کہ سیاسی توازن نہیں بگڑنا چاہئے لہٰذا بغیر کسی سبب کے اُنھوں نے جماعت اسلامی پر بھی پابندی عائد کردی۔ (۲)۱۹۸۵ء  میں شاہ بانونامی ایک مطلقہ عورت سپریم کورٹ میں پہنچی کہ اُس کا سابق شوہر اُس کے نان و نفقہ کا انتظام کرے۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ اُس کا لکھ پتی شوہر شاہ بانو کو ماہانہ ایک سو اٹھائیس روپے نان و نفقہ کیلئے دیاکرے۔ بس پھر کیا تھاہم نے زمین آسمان ایک کردیا اور اعلان کردیا کہ ہماری شریعت میں سیدھے دخل اندازی ہے، لہٰذا ناقابل برداشت۔  مسلمانوں کے ہر محلّے اور ہر نکّڑ پر ’تحفّظِ ملّت‘ کانفرنس شروع ہوئیں اور چونکہ اُس وقت رات کے صرف دس بجے تک عوامی میٹنگ کی سپریم کورٹ کی قید نہیں تھی۔ اسلئے وہ جذباتی، جوشیلی تقریروں اور فلک شگاف نعروں والی ’کانفرنسیں‘ عشاء سے فجر تک چلتی تھیں۔
 ملک بھر کی انٹیلی جنس نے راجیو گاندھی حکومت کو اطلاع دی کہ مسلمان مشتعل ہوئے جارہے ہیں۔ اس بناء پر اُنھوںنے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو رد کردیا۔ بس پھر کیا تھا، تاک میں بیٹھے سارے سنگھ پریواری مشتعل ہوگئے۔ راجیو گاندھی کے مشیران نے اُنھیں ’متوازن سیاست‘ کی بات کہی اور مشورہ تک دے ڈالا کہ چار دہائیوں سے بند پڑی بابری مسجد کا تالہ کھول دیاجائے۔نوجوانو!اُس کے بعد کیا ہوا آپ اُس سے بخوبی واقف ہیں۔
 نوجوانو! اس سانحے کے بعد اب ہم آپ کو ایک علمی اور دوسرا سماجی محاذ پر پُر کرنے کا کام دے رہے ہیں۔ (۱)نان و نفقہ پرفیصلہ دیتے وقت سپریم کورٹ نے قرآن مجید کے کسی معتبر ترجمہ کونہیں دیکھا کہ قرآنی لفظ متاع کا انگریزی میںدرست ترجمہ، پروویژن ہونا چاہئے تھا اور کئی مفسرِ قرآن نے یہی کیا ہے۔ ہمارے نوجوانان درست تراجم کو پھیلانے کیلئے کام کریں (۲) آج ، جی ہاں آج بھی، اس لنچنگ  اور ٹرولنگ وغیرہ کے دَور میں کئی غیر مسلم سیکولرمزاج کے ہیں۔ اُن کو ہم اپنے حسنِ سلوک سے جیتیں اور ’سیاسی توازن‘ کے اس غیر اخلاقی، غیر انسانی اور غیر منصفانہ کھیل کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK