عید کا عزم

Updated: May 03, 2022, 9:40 AM IST | Mumbai

لیجئے عید آگئی۔ عید آگئی کا معنی ہے اس سال کا رمضان المبارک اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ آئندہ سال یہ مبارک مہینہ ہم میں سے کتنے لوگوں کو میسر آئے گا، جنہیں میسر ہوگا اُن میں سے کتنے ہوں گے جو ماہ مبارک کے تقاضوں کی صحتمندانہ تکمیل کے قابل ہونگے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

لیجئے عید آگئی۔ عید آگئی کا معنی ہے اس سال کا رمضان المبارک اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ آئندہ سال یہ مبارک مہینہ ہم میں سے کتنے لوگوں کو میسر آئے گا، جنہیں میسر ہوگا اُن میں سے کتنے ہوں گے جو ماہ مبارک کے تقاضوں کی صحتمندانہ تکمیل کے قابل ہونگے۔ سوائے رب العالمین کے کوئی نہیں جانتا۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان کے آخری دنوں ہی سے اختتام ِ رمضان کا احساس  اکثر مسلمانوں کو مضمحل رکھتا ہے اور چاند رات کو نقطۂ عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ اس قلبی اضمحلال کو آپ نے بھی محسوس کیا ہوگا۔مگر نظام ِ قدرت دیکھئے کہ چاند رات کے گزرنے کے ساتھ ہی روز عید طلوع ہوتا ہے اور یوں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے چاروں طرف خوشیاں برس رہی ہوں۔ دل کی کیفیت اچانک بدلتی ہے، کل رنجیدہ تھے، ملول تھے، آج دریائے مسرت میں غوطہ زن ہیں۔ 
 ہم جانتے ہیں رمضان المبارک انسانوں کو اپنے رب سے قریب ہونے، اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنے اور خدا اور رسول کے احکامات کو بجا لانے کی تربیت کے طور پر آتا ہے تاکہ اس ماہ سے استفادہ کرنے والے بقیہ گیارہ مہینوں سے بھی استفادہ ٔ تربیت کے قابل ہوجائیں۔ کوئی بھی ٹریننگ وقتی یا عارضی ہوتی ہے مگر اس لئے برپا کی جاتی ہے کہ اس دوران جو کچھ سیکھا، اس کا نفاذ یا اہتمام آئندہ زندگی میں جاری رہے۔ عید کا دن اسی عزم کا تقاضا کرتا ہے کہ رمضان کی ٹریننگ سے گزرنے والے لوگ بقیہ گیارہ مہینوں کو رمضان کی طرح گزاریں۔ اگر ایسا ہو تو بقیہ مہینے رمضان المبارک کی توسیع تصور کئے جاسکتے ہیں۔اس دوران صرف روزہ کی شرط نہیں ہوگی کیونکہ پورے ایک ماہ کے روزوں کو خالق کائنات نے صرف رمضان سے مخصوص کیا ہے اور پورے رمضان کے روزوں کو فرض کیا ہے مگر باقی تمام عبادات، مواخات، انفاق، خدا ترسی، بہی خواہی، سب کچھ بالکل اُسی طرح جاری رہ سکتا ہے جیسا کہ رمضان المبارک میں جاری تھا۔ یہ کہلائے گی رمضان کی توسیع۔ یہ انسان کے اختیار میں ہے بلکہ اسی کیلئے ایک ماہ کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کل سے دُنیا بدل جائے اور آئندہ رمضان تک بدلی ہوئی رہے۔  کورونا کے دو سال غضبناک رہے۔ ان میں بہت سوں کا روزگار چھن گیا۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی اور اب معاشی پریشانی کے سبب سلسلۂ تعلیم منقطع ہونے کے قریب ہے۔ جن لوگوں کاروزگار جاری ہے اُن کی معاشی حالت بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکی ہے۔ اس پر روزافزوں مہنگائی نے بہت سوں کیلئے ناگفتہ بہ حالات پیدا کردیئے ہیں۔ رمضان میں ہمدردی اور غمگساری کا ماحول تھا۔ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کا سلسلہ جاری تھا۔ اگر یہ آئندہ بھی جاری رہے تو اس سے معاشرہ کے معاشی طور پر کمزور خاندانوں کو کافی راحت مل سکتی ہے۔ معاشرہ میں بہت سے غریب ایسے ہیں کہ غریب دکھائی دیتے ہیں مگر بہت سے ایسے بھی ہیں جو غریب دکھائی نہیں دیتے۔ عام تاثر یہ ہوتا کہ فلاں کی معاشی حالت ٹھیک ٹھاک ہے مگر حقیقتاً ویسی نہیں ہوتی۔ معاشرہ کے متمول افراد کا فرض ہے کہ ایسے لوگوں کو تلاش کریں جو ضرورتمند ہیں مگر خودداری اور عزت نفس کی خاطر اپنی پریشانی کسی سے بیاں نہیں کرتے۔ اگر اس عید پر یہ عزم ہو کہ ایسے افراد اور خاندانوں کی تلاش اور اُن کے ساتھ تعاون کو یقینی بنایا جائیگا تو دست سوال دراز نہ کرنے والے بھی فیضیاب ہونگے۔ دست سوال دراز کرنے والوں کو تو ہم دیتے ہی ہیں۔ 

eid Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK