عیدکا پیغام: اس اُمت کو سبق یاد ہوگیا ہے الحمد للہ

Updated: May 14, 2021, 1:22 PM IST | Maulana Sayed Alhassan Ali Nadvi

یہ ہے اسلام میں شکر کا طریقہ، شکر کا طریقہ چھٹی نہیں ہے، مکتب میں پڑھنے والے کوچھٹی نہیں ہے ، بلکہ اس کی ذمہ داریاں ہیں اور اس کو اپنی اس نعمت کا شکر ادا کرنا چاہئے

Double and increase the Fajr prayer in the middle of the Zuhr prayer this is the way of thanksgiving in Islam!. Picture :Agency
فجر کی نماز پھر ظہر کی نماز درمیان میں دوگانہ اور بڑھا لیں، یہ ہے اسلام میں شکر کا طریقہ! تصویر:ایجنسی

’’اللہ تمہارے حق میں سہولت چاہتا ہے اور تمہارے حق میں دشواری نہیں چاہتا اور یہ (چاہتا ہے) کہ تم شمار کی تکمیل کرلیا کرو اور یہ کہ تم اللہ کی بڑائی کیا کرو، اس پر کہ تمہیں راہ بتادی، عجب نہیں کہ تم شکر گزار بن جائواور جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو میں تو قریب ہی ہوں،دعاء کرنے والے کی دعاء قبول کرتا ہوں، جب وہ مجھ سے دعاء کرتا ہے۔ پس لوگوں کو چاہئے کہ میرے  احکام قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں عجب نہیں کہ ہدایت پاجائیں۔‘‘
(سورہ البقرہ: ۱۸۵۔۱۸۶)
یہ سورئہ بقرہ کی وہ آیتیں ہیں، جن کا تعلق رمضان المبارک سے ہے اور جن کی ابتدا ہوتی ہے:یاایھاالذین امنواکتب علیکم الصیام …اور اسی میں یہ آیت ہے’’شھر رمضان الذی انزل فیہ القران …اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے، اس کا منشا اور ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، وہ تم کو مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتا، یہ ۳۰؍ یا ۲۹ ؍دن کے جو روزے ہیں کوئی پہاڑ نہیں ہیں، یہ مسلسل چلتے ہیں اور جلد ختم ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ  تعالیٰ فرماتا ہے’’ تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو، اس پر کہ اللہ نے تم کو ہدایت دی ، اللہ نے ہدایت کی جو نعمت تم کو عطا فرمائی ہے، اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔‘‘
 اس آیت میں عید کا بھی ذکر کردیا
 اللہ جل شانہٗ نے اس آیت میں عید کا بھی ذکر کردیا، عید کا نام تو نہیں آیا، لیکن عید کا منشا، عید کا مقصد اورعید کا وظیفہ، عید میں کرنے کا کام، یہ سب اس میں آگیا کہ جب اللہ تعالیٰ رمضان میں روزہ کی توفیق دے کہ رمضان آئے اور خیریت کے ساتھ، توفیق الٰہی کے ساتھ، دن کے روزوں کے ساتھ، رات کی عبادتوں کے ساتھ گزر جائے ’’ولتکبروا اللّٰہ علی ماھداکم‘‘ اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اللہ نے ہدایت دی، ایمان واسلام کی دولت سے نوازا اور پھر توفیق دی، اگر ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہوتی تو کہاں کا رمضان اور کہا ں کا روزہ۔ دنیا میں پچاسوں قومیں ہیں، سیکڑوں قومیں ہیں وہ اتنا جانتی ہیں کہ رمضان کا مہینہ مسلمانوں میں آتا ہے، جیسے ہمارے یہاں مہینہ آتا ہے، انہیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب رمضان آیا اور کب ختم ہوگیا ور ان کے مہینوں اور رمضان میں کیا فرق ہے۔
تو پہلی چیز تو یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی، ہم کو اسلام کی دولت سے نوازا، جس نے ہمیں صحت دی، ایسی صحت جس سے روزہ رکھ سکیںاور پھر اس کے بعد سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ توفیق دی، سب کا انحصار تو فیق پر ہے، ساری چیزیں جمع ہیں مگر توفیق نہیں تو کچھ نہیں، یعنی روزہ رکھنے کیلئے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے، عمرتو اللہ کے فضل سے زندگی ہے، جوانی چاہئے، بلوغ چاہئے، تو وہ بھی موجود ہے، صحت چاہئے تو وہ بھی موجود ہے، اور روزے کے مسئلے معلوم ہونے چاہئیں تو وہ بھی معلوم ہیں، حکومت روکتی، قانون روکتا یا ڈاکٹر ہی نے کہا ہوتا کہ تمہارے لئے روزہ رکھنا نامناسب ہے، نقصان دہ ہے، تو یہ بھی نہیں ہے، پھر روزہ کیوں نہیں ہو رہا ہے، اگر ایسا ہے تو ظاہر ہے کہ توفیق نہیں ہے۔
توفیق کامطلب
تو فیق وہ چیز ہے جس کا ترجمہ کسی زبان میں نہیں ہو سکتا۔ تو فیق کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا رحمت کا ارادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا اس کے دل میں یہ خیال اور جذبہ ڈال دینا کہ یہ کام کرنا ہے کہ تمام رکاوٹوں اور موانع کوہٹا دینا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ کرنا کہ یہ کام ہو، یہ شخص روزہ رکھے، نماز پڑھے، ان سب کے مجموعے کا نام توفیق ہے۔ اتنی لمبی جو ہم نے عبارت بیان کی وہ عربی میں یعنی  قرآن مجید کے ایک لفظ میں آگئی ہے، اس کا نام ہے ’’توفیق‘‘! آپ دیکھیں گے، اپنے محلہ میں دیکھیں گے کہ ماحول موجود، سارے اسباب موجود، شرائط موجود، فضا موجود، لیکن روزہ نہیں اس لئے کہ تو فیق نہیں اب اللہ نے تم کو ساری چیزیں اور ساتھ میںتوفیق بھی عطا فرمائی، اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو۔
 اس کو چھٹی نہ ملی جس کو سبق یاد ہوا
 چنانچہ مسنون بھی یہ ہے کہ عید آئے، عید الفطر ہو، تو آہستہ آہستہ تکبیر کہتا ہوا آئے اور عیدالاضحی ہو تو ذرابلند آواز سے’’ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر  واللہ اکبر وللہ الحمد‘‘پکارتا ہواآئے اور مسنون یہ ہے کہ ایک راستہ سے آئے اور دوسرے راستہ سے جائے، تاکہ ساری فضا اس سے معمور ہوجائے اور وہاں کے رہنے والوں کے کانوں میں یہ فضا پڑجائے او روہ زمین گواہی دے اور جب تک عید کی نماز کے انتظار میں بیٹھارہے، یہ کہتا رہے،’’ تاکہ تم شکر کرو،‘‘ اللہ نے ہمیں تو فیق دی، اللہ نے ہم سے روزے رکھوائے، کوئی بیماری وغیرہ کے باعث چھوٹ گیا تو اس کے لئے بھی نیت اچھی کی اور دنیا میں جتنے بھی خوشی کے تہوار ہیں سب میں خوشی ہوتی ہے، یعنی اس میں جو فرائض ہوتے ہیں، روز مرہ کا جو معمول ہے وہ بھی معاف ہو جاتا ہے، لیکن اسلام تنہا مذہب ہے کہ اس میں خوشی کے دن کام بڑھا دیا جاتا ہے، کام ایسابھاری نہیں ہوتا کہ آدمی کہے کہ کام نہ ہوتا، نہیں بلکہ کام مبارک ہوتا ہے ترقی دینے والا ہوتا ہے اور معقول ہوتا ہے اور انسانیت و شرافت کا ہوتا ہے۔ یہ جو دورکعتیں آپ نے پڑھیں وہ روز کی نہیں ہوتیں، ہاں کوئی اشراق و چاشت پڑھے، جو فرض وواجب نہیں ہیں، لیکن عید کی نماز بڑھادی گئی ۔ اور (قوموں کے)  تہوار آپ دیکھیں گے تو اس میں عبادات معاف ہوجاتی ہیں، کوئی پوجا کرے یا نہ کرے، چرچ جائے یا نہ جائے، کرسمس ہے چھٹی کا دن ہے۔ اور یہاں تو کام بڑھا دیا گیا کہ فجر کی نماز پھر ظہر کی نماز درمیان میں دوگانہ اور بڑھا لیں، یہ ہے اسلام میں شکر کا طریقہ، شکر کا طریقہ چھٹی نہیں ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ  اس کو چھٹی نہ ملی جس کو سبق یاد ہوا
 اس امت کو سبق یاد ہوگیا ہے الحمد للہ۔ ساری امتیں سبق بھلا بیٹھیں، بات یہ ہے کہ روئے زمین میں کوئی امت ایسی نہیں جس کو سبق یاد ہو،  تنہا یہ امت ہے جس کو سبق یاد ہے، کچا پکا جیسا بھی ہو تو جب اس کو سبق یا د ہوا چھٹی نہیں ملی، سبق یاد کرنے والے لڑکے کو، مکتب میں پڑھنے والے کوچھٹی نہیں ہے ، بلکہ اس کی ذمہ داریاں ہیں اور اس کو اپنی اس نعمت کا شکر ادا کرنا چاہئے، اس سے اس میں اضافہ ہوگا کمی نہیں ہوگی ۔
تو دورکعت یہ اور فطرہ الگ دینا پڑتا ہے، ہر وقت کی بات نہیں ۔ دوسرے ادیان کے تہواروں میں یہ نہیں بلکہ وہاں تو کھائو پیو، وہاں معاملہ یک طرفہ ہے اور یہاں لینے سے زیادہ دینا ہے، غریبوں کو فطرہ دو، دورکعت شکرانہ کی نمازپڑھو اور پھر تکبیر پڑھو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ ’’ولتکبروا اللّٰہ علی ماھداکم ولعلکم تشکرون‘‘n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK