Inquilab Logo Happiest Places to Work

عصر حاضر میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت و اہمیت

Updated: August 26, 2026, 2:35 PM IST | Dr. Muhammad Hussain Mushahid Razvi | Mumbai

سیرت مصطفیٰؐ ہمیں بتاتی ہے کہ اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان کتنا کما رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنا پاکیزہ کما رہا ہے؛ صرف یہ نہیں کہ وہ کتنا بول رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی زبان سے کیا نکل رہا ہے؛ صرف یہ نہیں کہ وہ کتنا پڑھا لکھا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے علم نے اس کے کردار کو کتنا سنوارا ہے۔حضورؐ نے علم کو کردار سے، عبادت کو اخلاق سے اور ایمان کو عمل سے جوڑ دیا۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کی دنیا کو شدید ضرورت ہے۔

If the Seerat-e-Tayyiba in our homes were not confined merely to books but instead became reflected in our tone of conversation. Picture: INN
اگر ہمارے گھروں میں سیرتِ طیبہ صرف کتابوں میں نہ رہے بلکہ گفتگو کا لہجہ، مزاج درست رکھنے کا انداز، بچوں سے برتاؤ، والدین کی خدمت اور رشتوں کی پاس داری بن جائے تو بہت سے گھریلو مسائل خود بخود ختم ہوسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

ربیع الاول کا چاند افقِ عالم پر نمودار ہوگیا ہے۔ فضاؤں میں پھر درود و سلام کی خوشبو بکھرنے لگی ہے، دلوں میں محبت مصطفیٰؐکی شمعیں روشن ہونے لگی ہیں، مساجد و مدارس میں محافلِ میلاد کی تیاریاں کئی دنوں سے ہو رہی ہیں اور عاشقانِ رسولؐاپنے محبوب آقا و مولا، رحمتِ عالم، فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفیٰؐ کی ولادتِ باسعادت کی خوشیاں منانے کیلئے بے قرار ہیں۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس نے تاریخِ انسانی کو ایک ایسا نور عطا کیا جس کی روشنی قیامت تک باقی رہنے والی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آمد مصطفیٰ:ؐ اندھیروں سے اجالوں تک کا سفر

مگر ربیع الاول کی آمد صرف چراغاں، محافل، جلوس اور نعت خوانی کا موسم نہیں ؛ یہ اپنے دل، اپنے کردار اور اپنی زندگی کو سیرتِ مصطفیٰؐ کے آئینے میں دیکھنے کا موسم بھی ہے۔ یہ سوال کرنے کا وقت ہے کہ ہم جس نبیِ رحمتؐ کی ولادت پر خوشیاں مناتے ہیں، کیا ہماری زندگیوں میں اُن کی تعلیمات کی روشنی بھی موجود ہے؟ ہم اُن پر درود تو بھیجتے ہیں، مگر کیا اُن کے اخلاق کو اپنی زندگی کا شعار بھی بناتے ہیں ؟ ہم اُن کی سیرت سنتے ہیں، مگر کیا اُن کی سیرت کو اپنے معاملات میں اتارتے بھی ہیں ؟

آج کا انسان ترقی کی بلند ترین منزلوں تک پہنچنے کے باوجود سکون کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ سائنس نے فاصلے سمیٹ دیئے، مگر دلوں کے فاصلے بڑھ گئے۔ ٹیکنالوجی نے رابطوں کو آسان کردیا، مگر انسان ایک دوسرے سے دور ہوتا چلا گیا۔ معلومات کے خزانے ہاتھ میں آگئے، مگر حکمت و دانائی کم ہوتی گئی۔ دولت میں اضافہ ہوا، مگر قناعت رخصت ہوگئی؛ وسائل بڑھے، مگر سکون کم ہوگیا؛ عمارتیں بلند ہوئیں، مگر کردار پست ہوتا گیا۔ ایسے دور میں اگر کسی شخصیت کی سیرت انسان کو علم بھی دے سکتی ہے، عمل بھی؛ محبت بھی دے سکتی ہے، عدل بھی؛ روحانی سکون بھی دے سکتی ہے اور معاشرتی توازن بھی، تو وہ ذاتِ اقدس حضرت محمد مصطفیٰؐ کی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سیرتِ نبویؐ: عہدِ اضطراب میں چراغِ رہنمائی

سیرتِ طیبہ: انسانیت کیلئے مکمل رہنمائی

حضور نبیِ کریمؐ کی سیرت محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ زندگی کا مکمل دستور ہے۔ آپؐ نے انسان کو صرف عبادات کا طریقہ نہیں بتایا بلکہ زندگی گزارنے کا سلیقہ عطا فرمایا۔ آپؐنے بندے کا تعلق اپنے رب سے مضبوط کیا تو ساتھ ہی انسان کا تعلق انسان سے بھی درست فرمایا۔ 

آپؐ نے عبادت میں خشوع، معاملات میں دیانت، گفتگو میں شائستگی، تجارت میں صداقت، معاشرت میں حسنِ سلوک، دشمن کے ساتھ عدل، کمزور کے ساتھ شفقت، پڑوسی کے ساتھ حسنِ معاشرت، والدین کے ساتھ ادب، اولاد کے ساتھ محبت اور پوری انسانیت کے ساتھ رحمت کا عملی نمونہ پیش فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ سیرتِ طیبہ کسی ایک طبقے، ایک قوم یا ایک زمانے کیلئے نہیں ؛ یہ ہر انسان، ہر معاشرے اور ہر دور کیلئے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آج کے انسان کو سیرت کی سب سے زیادہ ضرورت کیوں ہے؟ عصرِ حاضر کا سب سے بڑا بحران شاید کردار کا بحران ہے۔ انسان نے بہت کچھ جان لیا، مگر خود کو بھلا دیا۔ زبان نے ترقی کی، مگر سچائی کم ہوگئی۔ ذہن نے کائنات کے راز سمجھ لیے، مگر دل کے امراض کا علاج نہ کرسکا۔ سیرتِ مصطفیٰؐہمیں بتاتی ہے کہ اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان کتنا کما رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنا پاکیزہ کما رہا ہے؛ صرف یہ نہیں کہ وہ کتنا بول رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی زبان سے کیا نکل رہا ہے؛ صرف یہ نہیں کہ وہ کتنا پڑھا لکھا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے علم نے اس کے کردار کو کتنا سنوارا ہے۔ حضورؐ نے علم کو کردار سے، عبادت کو اخلاق سے اور ایمان کو عمل سے جوڑ دیا۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کی دنیا کو شدید ضرورت ہے۔ 

سوشل میڈیا اور سیرت کی رہنمائی

آج انسان کے ہاتھ میں ایک ایسا وسیلہ ہے جس کے ذریعے ایک لمحے میں دنیا بھر تک بات پہنچائی جاسکتی ہے۔ سوشل میڈیا نے اظہار کے دروازے کھول دیئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ جھوٹ، الزام، غیبت، تمسخر، افواہ اور بے بنیاد خبریں بھی عام ہوگئی ہیں۔ ایسے ماحول میں سیرتِ مصطفیٰؐ ہمیں زبان اور اظہار کا ادب سکھاتی ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ جو بات ہم اپنی زبان سے کہنے کی جرأت نہیں رکھتے، کیا اسے موبائل کی اسکرین پر لکھ دینا درست ہوجاتا ہے؟ جس شخص کی عزت ہم مجمع میں مجروح نہیں کرسکتے، کیا اسے سوشل میڈیا پر رسوا کرنا جائز ہوسکتا ہے؟

یہ بھی پڑھئے: آمد مصطفیٰ:ؐ اندھیروں سے اجالوں تک کا سفر

سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ لفظ بھی امانت ہیں اور قلم بھی امانت ہے۔ ہر بات جو معلوم ہو، ضروری نہیں کہ بیان کردی جائے؛ ہر خبر جو پہنچے، ضروری نہیں کہ آگے بڑھادی جائے۔ آج اگر ہماری انگلیاں موبائل کی اسکرین پر چلنے سے پہلے سیرتِ مصطفیٰؐ کے اخلاق سے رہنمائی حاصل کرلیں تو معاشرے میں نفرت کے بجائے محبت، بدگمانی کے بجائے حسنِ ظن اور انتشار کے بجائے اتحاد پیدا ہوسکتا ہے۔ 

خاندانی نظام اور سیرتِ نبویؐ

آج دنیا کا ایک بڑا مسئلہ خاندانی نظام کا انتشار ہے۔ رشتوں میں برداشت کم ہوتی جارہی ہے، معمولی اختلافات بڑے تنازعات میں تبدیل ہوجاتے ہیں، اولاد والدین سے اور بعض اوقات والدین اولاد سے دور ہوتی جارہی ہے۔ حضورؐکی حیاتِ مبارکہ ہمارے لیے محبت، شفقت اور حسنِ معاشرت کا بہترین نمونہ ہے۔ آپؐ نے بچوں سے محبت فرمائی، اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک فرمایا، خواتین کے حقوق کی تاکید فرمائی اور رشتوں کو جوڑنے کی تعلیم دی۔ اگر ہمارے گھروں میں سیرتِ طیبہ صرف کتابوں میں نہ رہے بلکہ گفتگو کا لہجہ، مزاج درست رکھنے کا انداز، بچوں سے برتاؤ، والدین کی خدمت اور رشتوں کی پاس داری بن جائے تو بہت سے گھریلو مسائل خود بخود ختم ہوسکتے ہیں۔ 

نوجوان نسل اور سیرتِ مصطفیٰؐ

آج کا نوجوان ذہین بھی ہے، باصلاحیت بھی اور باخبر بھی؛ مگر اسے ایک ایسے آئیڈیل کی ضرورت ہے جو اس کے ذہن کو بھی مطمئن کرے اور اس کے دل کو بھی۔ دنیا نوجوانوں کے سامنے کامیابی کے بے شمار نمونے پیش کرتی ہے، مگر ان کے سامنے سیرتِ مصطفیٰؐ ایک ایسا کامل نمونہ پیش کرتی ہے جس میں عبادت بھی ہے، قیادت بھی؛ علم بھی ہے، شجاعت بھی؛ حکمت بھی ہے، رحمت بھی؛ عزم بھی ہے، توکل بھی۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف یہ نہیں بتانا کہ نبیِ کریمؐ سے محبت کرو، بلکہ یہ بھی بتانا ہوگا کہ محبت کا تقاضا کیا ہے۔ محبت یہ ہے کہ اُن کی سچائی ہمارے معاملات میں نظر آئے، اُن کی شفقت ہمارے رویوں میں دکھائی دے، اُن کا عدل ہمارے فیصلوں میں جھلکے، اُن کی عاجزی ہمارے کردار میں پیدا ہو اور اُن کی سنت ہماری زندگی کا حسن بن جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK