Inquilab Logo Happiest Places to Work

آمد مصطفیٰ:ؐ اندھیروں سے اجالوں تک کا سفر

Updated: August 26, 2026, 2:23 PM IST | Mufti Mohammad Reza Qadri Rifai Markazi | Mumbai

سوال یہ ہے کہ ہم آمد مصطفیٰؐ کی خوشی کیسے مناتے ہیں؟کیا میلادِ مصطفیٰؐ صرف چراغاں، جلسوں، جلوسوں اور محفلوں کا نام ہے؟ یا یہ اس عہد کی تجدید بھی ہے کہ ہم اپنی زندگی کو تعلیماتِ مصطفیٰؐ کے مطابق ڈھالیں گے؟

Picture: INN
تصویر: آئی این این

تاریخ انسانیت کے افق پر کبھی ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب زمانہ اپنی سمت کھو دیتا ہے اقدار دم توڑنے لگتی ہیں۔ ظلم کو طاقت اور حق کو کمزوری سمجھا جانے لگتا ہے۔ انسان بظاہر تہذیب کے کچھ مظاہر رکھتا ہے، مگر اس کا دل جہالت، تعصب اور خود غرضی کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہوتا ہے۔ ایسے ہی ایک دور میں رحمتِ الٰہی کا وہ آفتاب طلوع ہوا جس نے صرف عرب کی سرزمین ہی نہیں، پوری انسانیت کے افق کو روشن کردیا۔ وہ آفتاب محمد مصطفیٰؐ کی ذاتِ اقدس تھی۔ بعثت مصطفیٰؐسے پہلے عرب معاشرہ قبائلی عصبیت، باہمی جنگ و جدال اور مختلف اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھا۔ طاقتور کمزور کو دبا دیتا، نسب و قبیلہ فخر کا معیار بن جاتا اور معمولی اختلافات بھی طویل دشمنیوں کا سبب بنتے۔ قرآنِ کریم نے اس دور کو گمراہی کے اندھیرے سے تعبیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کے ذریعے لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالا۔ 

یہ بھی پڑھئے: سیرت النبیؐ کا پیغام اور اِنفرادی جواب دہی

پھر وہ وقت آیا جب غارِ حرا کی خاموش فضاؤں میں وحی کا آغاز ہوا۔ یہ صرف ایک نبی کی بعثت کا واقعہ نہیں تھا بلکہ انسانی تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز تھا۔ آپؐنے سب سے پہلے انسان کے دل کو بدلا، پھر اس کے کردار کو سنوارا اور پھر ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جس میں ایمان، عدل، رحم، امانت، اخوت اور انسانی عزت بنیادی اقدار بن گئیں۔ 

حضور اکرمؐ نے ان لوگوں کو جو صدیوں سے قبائلی تفاخر میں بٹے ہوئے تھے، اخوت کا سبق دیا۔ جن کے درمیان خون کی دشمنیاں تھیں، انہیں ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا۔ غلام سمجھے جانے والوں کو عزت عطا کی، یتیموں کے حقوق کی حفاظت فرمائی، عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی اور کمزوروں کی داد رسی کو دینی ذمہ داری قرار دیا۔ 

یہی تو آمدِ مصطفیٰؐ کا سب سے بڑا انقلاب تھا!آپؐنے انسان کو یہ سمجھایا کہ اصل بزرگی مال، رنگ، نسل یا قبیلے میں نہیں بلکہ تقویٰ اور کردار میں ہے۔ آپؐ کی تعلیمات نے انسان کو انسان سے جوڑا اور دلوں سے نفرت کی دیواریں گرا دیں۔ آپؐ کی رحمت صرف مسلمانوں تک محدود نہ تھی۔ قرآنِ کریم نے آپؐ کو رحمت للعالمین قرار دیا۔ آپؐ نے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کا معاملہ کیا، پڑوسیوں کے حقوق کی تاکید فرمائی، جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک سکھایا اور معاشرے کے ہر کمزور طبقے کے حقوق کی حفاظت فرمائی۔ 

فتح مکہ کا واقعہ اسی رحمت و عفو کا ایک عظیم منظر ہے۔ وہی لوگ جنہوں نے آپؐ کو اور آپ کے صحابہ کو تکالیف پہنچائیں، وطن سے نکلنے پر مجبور کیا اور برسوں مخالفت کی، جب آپؐ کے سامنے بے بس کھڑے تھے تو انتقام کے بجائے عام معافی کا اعلان ہوا۔ یہ وہ اخلاق تھا جس نے دشمنوں کے دل بھی فتح کر لیے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سیرتِ رسولؐ کا نفسیاتی مطالعہ محض علمی مشق نہیں بلکہ عصر ِ حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے

مگر آج سوال یہ ہے کہ ہم آمدِ مصطفیٰؐ کی خوشی کیسے مناتے ہیں ؟کیا میلادِ مصطفیٰؐ صرف چراغاں، جلسوں، جلوسوں اور محفلوں کا نام ہے؟ یا یہ اس عہد کی تجدید بھی ہے کہ ہم اپنی زندگی کو تعلیماتِ مصطفیٰؐ کے مطابق ڈھالیں گے؟اگر زبان پر درود ہو مگر دل میں نفرت ہو، اگر محفل میں ذکرِ رسولؐ ہو مگر معاملات میں دھوکا ہو، اگر گھروں میں نعتیں گونجیں مگر والدین کے ساتھ بدسلوکی ہو، اگر میلاد کی محفل سجائی جائے مگر پڑوسی بھوکا سوئے، تو ہمیں اپنے جشن کے ساتھ اپنے کردار کا بھی محاسبہ کرنا چاہیے۔ میلادِ مصطفیٰؐ ہمیں صرف خوشی منانے کا موقع نہیں دیتا، بلکہ اپنی زندگی کو سیرتِ مصطفیٰؐ کے سانچے میں ڈھالنے کا پیغام بھی دیتا ہے۔ آج ہماری بستیوں میں علم ہے مگر عمل کمزور ہے، وسائل ہیں مگر سکون کم ہے، رابطے بے شمار ہیں مگر دلوں میں فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ نوجوانوں کے سامنے اسکرینوں کی چمک ہے مگر کردار سازی کی روشنی کم ہوتی جارہی ہے۔ ایسے ماحول میں سیرتِ مصطفیٰؐ ہی وہ چراغ ہے جو انسان کو مقصدِ زندگی یاد دلا سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: صلیبی دنیا اور ہم

آئیے! اس ربیع الاول میں صرف گلیوں کو روشن نہ کریں، اپنے دلوں کو بھی روشن کریں۔ صرف زبان سے عشقِ رسولؐکا اظہار نہ کریں بلکہ صدق، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت اور حسنِ اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ مصطفیٰؐ کی آمد نے دنیا کو یہ پیغام دیا تھا کہ اندھیرے کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، حق کی ایک روشنی انہیں شکست دے سکتی ہے۔ 

وہ آفتابِ رسالتؐ طلوع ہوا تو جہالت کے اندھیرے چھٹ گئے، انسان کو اس کی حقیقت کا شعور ملا، معاشرے کو عدل ملا اور زندگی کو مقصد ملا۔ آج بھی ضرورت اسی نور کی ہے، اسی سیرت کی ہے، اسی کردار کی ہے۔ آمدِ مصطفیٰؐ کا حقیقی پیغام یہی ہے کہ دلوں سے جہالت کا اندھیرا نکلے، کردار میں سنت کا اجالا آئے اور ہماری زندگی رحمتِ عالمؐ کی تعلیمات کا آئینہ بن جائے۔ صلوٰۃ و سلام ہو اس عظیم ہستیؐپر، جن کی آمد سے انسانیت کو اندھیروں سے اجالوں تک کا راستہ ملا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK