رسول ؐ اللہ سے سچی محبت صرف نعروں، برقی قمقموں، جھنڈوں اور جلسوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ انسان کے کردار سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
EPAPER
Updated: August 26, 2026, 3:19 PM IST | Mumbai
رسول ؐ اللہ سے سچی محبت صرف نعروں، برقی قمقموں، جھنڈوں اور جلسوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ انسان کے کردار سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
ربیع الاوّل کا مہینہ مسلمانوں کیلئے محبت ِرسول ؐ، ذکر سیرتِ طیبہ اور آپ ؐ کی تعلیمات کو یاد کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ نبی کریم ؐ کی مبارک زندگی ہمارے لئے رحمت، محبت، عدل، شرافت اور حسنِ اخلاق کا کامل نمونہ ہے۔ اس لیے میلاد النبیؐ کے موقع پر ہمیں یہ بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ کسی دوسرے انسان کو تکلیف، پریشانی یا اذیت تو نہیں پہنچ رہی ہے؟ اسلام ہمیں ہمیشہ اخلاق، شائستگی اور دوسروں کے حقوق کے دائرہ میں رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اے کہ تیرا جمال ہے زینتِ محفلِ حیات
رسولِ اکرم ؐ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا جز ہے لیکن سچی محبت صرف نعروں، برقی قمقموں، جھنڈوں اور جلسوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ انسان کے کردار سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اگر ہم میلاد النبیؐ کے موقع پر یکم تا۳؍ ربیع الاوّل سیرت رسول ؐکی تعلیمات کے مختلف پروگرام منعقد کرنے کے ساتھ ساتھ برادران وطن کے سامنے آپؐ کی زندگی کے روشن پہلوؤں کو پیش کریں تو اس کے مثبت نتائج آسکتے ہیں۔ ہندوستان مختلف مذاہب، زبانوں اور تہذیبوں کا خوبصورت گلدستہ ہے۔ مسلمان یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے اپنے ابنائے وطن کے ساتھ صدیوں سے زندگی گزارتے آئے ہیں۔ ہمارے پڑوسی، ساتھی، دوست اور ہم وطن خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، ان کے حقوق اور عزت کا خیال رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں عدل اور احسان کی تعلیم دیتا ہے کہ
’’بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ ‘‘ (سورۃ النحل: ۹۰)
لہٰذا ٰمیلاد النبی ؐکا مہینہ ایسا ہونا چاہئےجو محبت بانٹے، دل جوڑے اور معاشرہ میں حسنِ اخلاق کی خوشبو پھیلائے۔ خرافات اور غیر ضروری مظاہروں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ میلاد کے نام پر بعض مقامات پر ایسے غیر ضروری مظاہرے دیکھنے میں آتے ہیں جن کا سیرتِ نبوی ؐسے کوئی تعلق نہیں۔ کہیں حد سے زیادہ فضول خرچی، کہیں نمائش، کہیں شور شرابا اور کہیں ایسے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں جن سے دوسروں کو پریشانی ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ رسول اللہ ؐکی محبت کا معیار اخراجات کی کثرت نہیں بلکہ اخلاق کی خوبصورتی ہے۔ اگر میلاد کے موقع پر ہم بڑی رقم غیر ضروری سجاوٹ پر خرچ کرنے کے بجائے کسی غریب خاندان کی مدد کریں، کسی یتیم کے چہرے پر مسکراہٹ لائیں، کسی بیمار کی عیادت کریں، مستحق طلبہ میں کتابیں تقسیم کریں یا ضرورت مندوں کیلئے کھانے کا انتظام کریں تو یہ خوشی زیادہ بامقصد اور انسانیت نواز ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عصر حاضر میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت و اہمیت
میلاد کے جلوس یا اجتماعات کے دوران ٹریفک اور عام شہریوں کی سہولت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ ایمبولینس، مریض، مسافر، ملازمین، طلبہ اور دیگر ضرورتمند افراد ہمارے بھائی ہیں۔ اگر ہماری تقریب کی وجہ سے کسی مریض کو اسپتال پہنچنے میں تاخیر ہو یا کسی شخص کو بلاوجہ شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہمارا یہ طریقہ واقعی سیرتِ مصطفیٰ ؐکے مزاج سے مطابقت رکھتا ہے؟
رسولِ اکرم ؐنے راستے کے حقوق اور لوگوں کو تکلیف نہ پہنچانے کی تعلیم دی ہے۔ اس لئے راستہ صاف رکھنا، ٹریفک کے قوانین کی پابندی کرنا اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنا بھی حسنِ اخلاق ہے۔ نعت اور ذکر ِ رسول ؐسننا یقیناً محبت و عقیدت کا ذریعہ ہے لیکن آواز کی شدت اور اوقات کا خیال رکھنا بھی بےحد ضروری ہے۔ ہمارے درمیان بیمار، بزرگ، شیر خوار بچوں والے خاندان، طلبہ اور مختلف معمولات میں مصروف لوگ رہتے ہیں۔ ہمیں ایسا انداز اختیار کرنا چاہیے کہ ہماری نعت کی آواز محبت کا پیغام بنے، کسی کیلئے اذیت کا سبب نہیں۔ اگر میلاد النبی ؐکے موقع پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم کسی کا حق نہیں ماریں گے، پڑوسی کو تکلیف نہیں دیں گے، غریبوں کی مدد کریں گے، صفائی کا خیال رکھیں گے، وعدہ پورا کریں گے اور اپنے غیر مسلم ہم وطنوں کے ساتھ عدل و حسنِ سلوک کا معاملہ کریں گے تو یہی میلاد کا حقیقی فیض ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہی سمجھانا چاہیے کہ نبی کریم ؐسے محبت کا مطلب صرف آپ ؐکی ولادت کی خوشی منانا نہیں بلکہ آپ ؐکے اخلاق کو اپنی زندگی میں اتارنا ہے۔ ہمارا انداز مثالی نمونہ ہونا چاہیے کہ ہمارے غیر مسلم ابنائے وطن متاثر ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: سیرتِ رسولؐ کا نفسیاتی مطالعہ محض علمی مشق نہیں بلکہ عصر ِ حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ رسولِ اکرم ؐکو اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا۔ آپ ؐکی رحمت کسی ایک قوم، نسل یا گروہ تک محدود نہیں تھی۔ لہٰذا آپ ؐکی ولادتِ باسعادت کےموقع پر ایسے پروگرام ترتیب دئیے جائیں جن میں رحمت، شرافت، صفائی، نظم و ضبط، اعتدال اور انسانیت کی جھلک نظر آئے۔ میلاد النبی ؐمحبت کا موقع ہے، مقابلہ بازی کا نہیں۔ عقیدت کا موقع ہے، نمائش کا نہیں۔ سیرت زندہ کرنے کا موقع ہے، غیر ضروری شور کا نہیں ہے۔
دلوں کو جوڑنے کا موقع ہے، دل آزاری کا نہیں کیونکہ محبتِ رسول ؐکا سب سے حسین و روشن وہ کردار ہے جس کی روشنی میں دوسروں کو بھی سکون، احترام اور امن نصیب ہو۔ درج ذیل پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے ہم اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ؐکی سچی محبت، آپ ؐکی سنتوں پر عمل اور آپ ؐکے اخلاقِ کریمانہ کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہوئے معاشرہ کو خوشگوار پیغام دے سکتے ہیں :
کم از کم۱۰؍ غیر مسلم پڑوسیوں کو ان کی مادری زبان میں سیرتِ النبی ؐکی خوبصورت اور مستند کتاب تحفے میں دیں۔
اپنے گھر، محلے یا کسی عوامی مقام پر کم از کم ایک درخت لگائیں اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لیں۔
اپنے پڑوسیوں کی خبرگیری کریں ان کا مذہب کچھ بھی ہو، بیماری، پریشانی یا ضرورت کے وقت ان کے کام آئیں۔ نبی کریمؐ ؐنے پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان سے جوڑا ہے۔
اپنے غیرمسلم پڑوسیوں سے خوش اخلاقی کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے باوقار انداز میں مدعو کریں اور سیرت ؐکے روشن پہلوؤں کو پیش کریں مثلاً:پڑوسیوں کے حقوق، غیر مسلموں کے حقوق، جانوروں اور قیدیوں کے حقوق ( انہیں مختلف زبانوں میں بروچرز پرنٹ کرواکر تقسیم کریں )۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: معتدہ کے تعلق سے ایک سوال
محلے کی صفائی کا بیڑا اٹھائیں۔ گلی، مسجد کے اطراف اور مشترکہ مقامات کو صاف رکھیں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں۔
کسی ضرورت مند خاندان کا راشن اپنے ذمے لیں اور کوشش کریں کہ مدد کرتے وقت اس کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔
مریضوں کی عیادت کریں اور اپنے پڑوس میں بیمار، بزرگ اور تنہا افراد کی باقاعدگی سے خبر لیتے رہیں۔
یتیم اور غریب بچوں کیلئے کتابیں، اسکول کا سامان یا تعلیمی اخراجات فراہم کریں۔ علم کی خدمت کو سیرت کا عملی پیغام بنائیں۔
سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد آگے نہ بڑھانے کا عہد کریں۔ غیر مصدقہ خبر، افواہ یا کسی مذہب کے خلاف اشتعال انگیز پوسٹ شیئر کرنے سے پہلے رک جائیں۔
اختلافِ رائے میں شائستگی اختیار کریں۔ کسی کے مذہب، عقیدے یا مقدسات کا مذاق نہ اڑائیں اور اپنی بات دلیل، حکمت اور احترام کے ساتھ پیش کریں۔
پانی کی سبیل یا پینے کے صاف پانی کا انتظام کریں تاکہ ہر راہ گیر، خواہ کسی بھی مذہب سے ہو، اس سے فائدہ اٹھا سکے۔
گرمی کے موسم میں پرندوں اور جانوروں کیلئے پانی کا انتظام کریں۔ رحمت کا دائرہ صرف انسانوں تک محدود نہ رکھیں۔
اپنے علاقے میں خون کے عطیہ کی مہم یا صحت کیمپ میں حصہ لیں اور انسانیت کی خدمت کو اپنی ترجیح بنائیں اور ضرورت مند نوجوانوں کی تعلیم اور روزگار میں رہنمائی کریں۔ کسی کو ہنر سکھانا یا روزگار سے جوڑنا بھی معاشرے کی بڑی خدمت ہے۔