Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے کہ تیرا جمال ہے زینتِ محفلِ حیات

Updated: August 26, 2026, 3:08 PM IST | Javeria Qazi | Mumbai

آج ہمارے نوجوان امت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر وہ میلاد النبیؐ کو صرف ایک تقریب کے بجائے ایک تربیتی موقع سمجھیں، سیرت کا مطالعہ کریں، علم حاصل کریں، ٹیکنالوجی کو انسانیت کی خدمت کیلئے استعمال کریں، سچائی، دیانت اور محنت کو اپنا شعار بنائیں تو وہی اقبال کے خواب کی تعبیر بن سکتے ہیں۔

Schools and colleges should organize a `Seerat Week` on the occasion of Eid-e-Milad-un-Nabi (PBUH), rather than limiting themselves to mere ceremonies. Picture: INN
اسکولوں اور کالجوں میں عیدمیلاد النبیؐ کے موقع پر صرف تقریبات ہی نہ ہوں بلکہ ’ہفتۂ سیرت‘ کا اہتمام ہونا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

انسانی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف ایک زمانے کی نہیں بلکہ تمام زمانوں کی رہنما بن جاتی ہیں۔ ان کی عظمت نسلوں، سرحدوں اور تہذیبوں سے بلند ہوتی ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰؐ ایسی ہی عالمگیر اور ابدی شخصیت ہیں۔ آپؐ سے محبت صرف ایک مذہبی جذبہ نہیں بلکہ ایمان کی روح، تہذیب کا سرچشمہ، اخلاق کی بنیاد اور انسانیت کی معراج ہے۔ لیکن اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ محبت کا حقیقی معیار جذبات نہیں بلکہ اتباع ہے۔ جب عشق کردار میں ڈھل جائے، جب عقیدت عمل کا روپ اختیار کر لے اور جب زبان کا درود زندگی کے اخلاق میں نظر آنے لگے، تب محبتِ رسولؐ اپنی منزل کو پہنچتی ہے۔ قرآن مجید نے محبت اور اتباع کے درمیان ایسا مضبوط تعلق قائم کیا ہے جو کسی اور شخصیت کیلئے بیان نہیں کیا گیا: ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا (آل عمران )۔ ‘‘گویا رسول اللہؐ کی پیروی صرف سنت پر عمل نہیں بلکہ اللہ کی محبت تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عصر حاضر میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت و اہمیت

رسول اللہؐ کی بعثت ایسے معاشرے میں ہوئی جہاں طاقت ہی قانون تھی، عورت مظلوم تھی، کمزور بے سہارا تھا، غلام کی کوئی حیثیت نہ تھی اور اخلاقی اقدار بکھر چکی تھیں۔ صرف۲۳؍ برس میں آپؐ نے اسی معاشرے کو علم، عدل، مساوات، رحم اور انسان دوستی کا نمونہ بنا دیا۔ یہ انقلاب فوجی طاقت سے زیادہ اخلاقی قیادت کا نتیجہ تھا۔ حضرت عائشہؓ سے جب رسول اللہؐ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ’’آپؐ کا اخلاق قرآن تھا (صحیح مسلم)۔ ‘‘یہ مختصر جملہ پوری سیرتِ نبویؐکی جامع ترین تعبیر ہے۔ قرآن نظریہ ہے اور رسول اللہؐ اس نظریے کی عملی تفسیر۔ 

شبلی نعمانی نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب سیرۃ النبی ؐمیں واضح کیا کہ رسول اللہؐ کی عظمت صرف معجزات میں نہیں بلکہ اس اخلاقی انقلاب میں ہے جس نے منتشر انسانوں کو ایک باکردار امت میں بدل دیا۔ شبلی کے نزدیک سیرت کا مطالعہ تاریخ جاننے کیلئے نہیں بلکہ اپنی زندگی کو سنوارنے کیلئے ہونا چاہئے۔ 

سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں کہ دنیا نے بڑے فاتح، فلسفی اور قانون ساز دیکھے، لیکن ایک ایسی شخصیت نہیں دیکھی جس نے بیک وقت معلم، مصلح، قاضی، سپہ سالار، سربراہِ مملکت، شوہر، والد، ہمسایہ اور دوست کی حیثیت سے ہر میدان میں کامل نمونہ پیش کیا ہو۔ اسی لئے سیرتِ نبویؐ ہر انسان کیلئے قابلِ عمل ہے۔ مولانا ابوالکلام آزادکے نزدیک اسلام کی سب سے بڑی قوت اس کا اخلاقی پیغام ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگر مسلمان قرآن اور اسوۂ رسولؐ کو اپنی اجتماعی زندگی کی بنیاد بنا لیں تو ان کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی نشاۃِ ثانیہ ممکن ہے۔ علامہ اقبال ؔنے عشقِ رسولؐ کو خودی کی تکمیل قرار دیا، اسی حقیقت کو شاعرِ مشرق نے اپنے لازوال شعر میں بیان کیاہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سیرتِ نبویؐ: عہدِ اضطراب میں چراغِ رہنمائی

کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں 

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں 

یہ شعر میلاد کی محفلوں کا صرف ایک خوبصورت ترانہ نہیں بلکہ امت کیلئے ایک دائمی پیغام ہے۔ اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ رسول اللہؐ سے سچی وفاداری صرف درود پڑھنے، نعت سننے یا جشن منانے سے مکمل نہیں ہوتی، بلکہ آپؐ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے سے مکمل ہوتی ہے۔ گویا میلاد کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ ہم سیرتِ نبویؐ کو اپنی عملی زندگی میں زندہ کریں۔ 

آج کا دور غیر معمولی ترقی کا دور ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل دنیا، سوشل میڈیا اور سائنسی ایجادات نے انسان کی زندگی بدل دی ہے، مگر اس کے ساتھ جھوٹ، نفرت، بے اعتمادی، خود غرضی اور اخلاقی بحران بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں رسول اللہؐ کی سیرت پہلے سے زیادہ زندہ اور ضروری محسوس ہوتی ہے۔ آپؐ نے سچائی، امانت، انصاف، رحم، رواداری، علم اور خدمتِ خلق کو زندگی کا معیار بنایا۔ 

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: لے پالک اور وصیت، وراثت کے دو سوال، اے سی کا پانی اور وضو، فجر کی قضا

عید میلاد النبیؐ ہمیں یہ سوال کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ کیا ہمارے گھروں میں رحمت ہے؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے کردار سازی کر رہے ہیں ؟ کیا ہمارے بازار دیانت داری کی مثال ہیں ؟ کیا ہماری سیاست میں امانت ہے؟ کیا سوشل میڈیا پر ہماری زبان اخلاقِ نبویؐ کی ترجمان ہے؟ اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو ہمیں میلاد کے حقیقی پیغام کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب صحابۂ کرامؓ نے رسول اللہؐ سے وفا کی تو ان کی زندگی بدل گئی اور ان کے ذریعے دنیا بدل گئی۔ حضرت ابوبکرؓ کی صداقت، حضرت عمرؓ کا عدل، حضرت عثمانؓکی سخاوت اور حضرت علیؓ کا علم اس وفا کی زندہ مثالیں ہیں۔ انہوں نے دنیا کو یہ بتایا کہ محبت کا سب سے بڑا ثبوت کردار ہے۔ آج ہمارے نوجوان امت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر وہ میلاد النبیؐ کو صرف ایک تقریب کے بجائے ایک تربیتی موقع سمجھیں، سیرت کا مطالعہ کریں، علم حاصل کریں، ٹیکنالوجی کو انسانیت کی خدمت کیلئے استعمال کریں، سچائی، دیانت اور محنت کو اپنا شعار بنائیں تو وہی اقبال کے خواب کی تعبیر بن سکتے ہیں۔ تعلیمی اداروں، خصوصاً اسکولوں اور کالجوں میں عید میلاد النبیؐ کے موقع پر صرف تقریبات ہی نہ ہوں بلکہ ’ہفتۂ سیرت‘منایا جائے، جس میں سیرتِ نبویؐ پر مطالعہ، تقریری مقابلےکے ساتھ، خدمتِ خلق کی مہم، صفائی، شجرکاری، خون کے عطیات، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد جیسے عملی پروگرام منعقد کیے جائیں۔ یہی میلاد کی روح ہے، کیونکہ رسول اللہؐ پوری انسانیت کیلئے رحمت بن کر آئے تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK