عید الفطر: اعزاز و اکرام کی جاں نواز ساعت

Updated: May 14, 2021, 3:43 PM IST | Sharfuddin Azeem Al Qasmi Azami

دنیا میں کسی کو اعزاز و اکرام ہو تو پھولے نہیں سماتا، لیکن سوچئے کہ جب رب العالمین اپنے بندوں کا اکرام کرتا ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

محنتوں ،مشقتوں اور مستقل ریاضتوں کا خوشگوار نتیجہ جب سامنے آتا ہے، دن بھر کی مشقت کے بعد جب سرشام اس کے ثمرات ظاہر ہوتے ہیں، مہینوں کی جد وجہد کے بعد جب کھیتیاں لہلہا اٹھتی ہیں تو طبیعت فرحت وشادمانی میں ڈوب جاتی ہے، مسرتوں کی روشنیوں میں نہاجاتی ہے، برسوں کی عرق ریزی اور راتوں کی نیند دن کا سکون قربان کرنے کے بعد ایک طالب کو علم کی سند ملتی ہے، ایک سائنٹسٹ یا انجینئر ارتقاء کی منزلوں کو عبور کرلیتا ہے، اور اسے مختلف اعزازات اور اسناد سے نوازا جاتا ہے، اسے استقبالیہ دیا جاتا ہے، اس کی کامیاب زندگی کا اعلان کیا جاتا ہے، اسے ایوارڈ اور کارناموں کا سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے، تو قلب سے روح تک اہتزاز کی، فخر کی اور کیف و سرور کی رَو بجلی کی طرح کیسے دوڑ جاتی ہے، اس وقت اس کے وجود پر فرحت وکیف کی کرنیں کس جمالیاتی شان سے برستی ہیں اس کا تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔جب دنیا میں عارضی طور پر ملنے والی خوشیوں کی سوغات کی تصویر کشی محال نظر آتی ہے تو تمام کریموں کا کریم اور تمام سخیوں کا سخی ،فیاض ازل اور پروردگار عالم کی بارگاہ اقدس سے کامیابی کا پروانہ مل جائے،اس کی طرف سے استقبالیہ کا اہتمام ہوجائے، اس عالی مرتبت بارگاہ سے میزبانی کا اعلان ہوجائے اور رب العالمین کی جانب سے اعزازات اور انعامات کا وعدہ ہوجائے تو اس موقع پر اس بندے کے دل میں جس کی زمینوں پر محبت الٰہی کی کھیتیاں لہلہا رہی ہوں، جس کے طاقچہ ٔقلب میں عشق نبویؐ کے چراغ فروزاں ہوں،کس قدر خوشی ومسرت اور سرور و  واہتزاز کی کیفیت ہوگی،اس کا وجود عالم دیوانگی میں کیسا سرشار ہوگا اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے نہ ہی لفظوں میں بیان کیا جاسکتا ہے۔
عیدالفطر کا دن امت مسلمہ کے لئے حقیقی اور دائمی اعزازات کا دن ہے، آج کا دن وہ تاریخی ساعت ہے جس میں بندہ مہمان اور خداوند عالم میزبان ہوتا ہے، آج اس خاکی مخلوق کو عزت اور وہ رفعت دی جارہی ہے کہ ملائکہ بھی حیرت میں ہیں، آج کی صبح نوری مخلوق پر مشتمل بے شمار فرشتے امت مسلمہ کے استقبال کیلئے کہیں گھر کے سامنے، گلیوں کے نکڑوں پر، شاہراہ عام پر اور چوراہوں پر دست بستہ کھڑے ہیں، اور مسکراہٹوں کے ساتھ سلامتی بھیج رہے ہیں، اور عالم فرحت وکیف میں پکار رہے ہیں، آواز دے رہے ہیں، مسجدوں کی طرف دعوت دے کر کہہ رہے ہیں کہ اے اللہ کے محبوب بندو،اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیو!چلو اپنے اس پروردگار کی بارگاہ کی طرف جو بہت زیادہ نوازنے والا ہے،گناہوں کو معاف کرنے والا ہے پھر جب لوگ عید گاہ میں مسجدوں میں حاضر ہوجاتے ہیں تو فرط محبت سے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اگر کسی نے اپنے فرائض کو اچھی طرح سے انجام دے دیا ہے،مفوضہ کام کو حسن وخوبی سے تکمیل تک پہنچا دیا  ہے تو اس کا کیا اجر ہوگا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اے ہمارے معبود اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی پوری مزدوری دے دی جائے! اتنا ہی نہیں بلکہ رب العالمین کا یہ اعلان ِ مزید  ہے کہ اس دن وہ بندوں کی ہر اس ضرورت کو پوری کرے گا جو اس کے لئے مناسب ہے، ہر اس دعا کو قبول کرے گا جس میں اس کے لئے مصلحت ہے، اللہ تعالیٰ کی عطا،  اس کی بخشش،اس کی رحمت وعنایت اور اس کی نوازشات حد وحساب سے ماورا ہیں، باوجود اس کے بندے کے اذعان ویقین کے استحکام کیلئے اور اپنی محبت وعنایت اور لطف وکرم کو آشکارا کرنے کے لئے فرشتوں کو گواہ بنایا گیا ہے کہ اے فرشتوا،تم گواہ رہنا میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضامندی اور بخشش کا پروانہ عطا کردیا ہے۔
فرشتوں کے سامنے اس اعلان کے بعد نوازشات کی تکمیل ہوچکی تھی لیکن قربان جائیے اس حق تعالیٰ کی محبت پر کہ اس صدا پر اس نے اکتفا نہیں کیا بلکہ یہاں خود وہ بندوں سے مخاطب ہے اور اس کی عنایات اور نوازشات کا ذکر خود اس کی زبان سے ہے، دیکھئے کس قدر محبت وشفقت کے اسلوب اور کریمانہ لہجے میں بندوں سے فرمارہا ہے کہ اے میرے بندو! مجھ سے مانگو! میری عزت کی قسم،میرے جلال کی قسم،آج کے دن اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے عطا کروں گا، اور دنیا کے بارےمیں جو سوال کرو گے اس میں تمہاری مصلحت دیکھوں گا، میری عزت کی قسم جب تک تم میرا خیال رکھو گے، میرا پاس ولحاظ رکھو گے، میرے احکامات اور نظام اسلام کی قدر کرو گے میں تمہاری لغزشوں کو نظر انداز کروں گا،انہیں دنیا والوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھوں گا، میری عزت کی قسم،اور میرے جلال کی،میں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رسوا اور ذلیل نہیں کروں گا، تم لوگ اب بخشے بخشائے  اپنے گھروں کو واپس ہو جاؤ ، تم نے مجھے راضی کردیا اور میں تم سے راضی ہوگیا۔ (شعب الایمان للبیہقی ) 
حق تعالیٰ کی یہ رضا،اس کی نوازشات وعنایت، اس کی شفقت ومحبت  اور قربت خوشنودی کا اعلان یقینا ًان کے لئے ہے جنھوں نے رمضان المبارک  کے ایک اک لمحے کو معبود کی یاد میں گزارا، جسم کی آسودگی کے لئے مشروبات وماکولات کی تمام اقسام کے باوجود ایک قطرہ حلق سے نیچے نہیں اتارا کہ مولائے کائنات کی مرضی نہیں تھی، اس وقت جبکہ اسی معاشرے کے بے شمار لوگ راتوں میں فضولیات میں مشغول تھے، ان گنت لوگ موبائل کی اسکرین پر نفس کی تسکین کے لئے عیاشانہ کرداروں کو دیکھنے میں مصروف تھے، اللہ تعالیٰ کے بے شمار بندے وہ بھی تھے جنہوں نے عین اسی لمحے کھڑے ہوکر تراویح کی عبادت انجام دیں، اپنی زکوٰۃ اور دیگر خیرات سے بے شمار سسکتی انسانیت کے زخموں کا مداوا کیا۔ 
رہے وہ لوگ جنہوں نے اس موسم فرحت وکیف میں بھی اللہ کو یاد نہیں رکھا، اس کے دین کی اہانت کی، ان کے بارے میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کی زندگی ناکامیوں اور محرومیوں کے سمندر میں غرق ہے، حقائق وصداقت کی کائنات ان سے اوجھل ہے، ایسے بے بصیرت اور بدقسمت لوگوں کے حق میں دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ خدا وندعالم انہیں ہدایت سے ہم کنار فرمائے۔ آمین
اس وقت وطن عزیز میں جس تباہی اور ہلاکت خیز وبا کا سامنا ہے،اس پر کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ موت کا رقص اب بھی پوری حشر سامانیوں کے ساتھ جاری ہے، گلستان ہستی ہر طرف سے فنا کی زد میں ہے،   سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں کیونکر امت مسلمہ خوشیوں کے ترانے گا ئے، کیسے وہ مسرتوں کا اظہار کرے اور بہجت وسرور وکیف واہتزاز کا مظاہرہ کرے؟
اگر یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ زندگی کا جزیرہ حوادث میں گھرا ہوا ہے، قدم قدم پر آزمائشوں کے سنگریزے موجود ہیں، یہ آزمائشیں کبھی انفرادی ہوتی ہیں اور کبھی اجتماعی،تو رنج والم کے ماحول میں عیدالفطر کی خوشیوں میں شرکت اور اس حوالے سے  تردد و ارتیاب کا دھواں خود بخود چھٹ جائے گا، اور انسان اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے الم انگیز لمحات کو بھول کر اس کی میزبانی کو قبول کرنے میں فخر محسوس کرے گا، اور یہ راز اس کی نگاہوں میں منکشف ہوجائے گا کہ جس طرح اس دنیا میں سیاسی لحاظ سے یا معاشی اعتبار سے کسی عظیم شخص کی دعوت اور اس کی طرف سے اعزازات کا اہتمام  ہزار مصائب کے باوجود زندگی کے لئے سرمایہ افتخار تصور کیا جاتا ہے ،تو احکم الحاکمین اور تمام بادشاہوں کے بادشاہ خلاق عالم کی میزبانی اور اس کی طرف سے اعزاز واکرام کی جاں نواز ساعت ایک بندے کے لیے کس قدر فخر ومسرت کا باعث ہوگی۔ اہل ایمان کے لئے اس کا اندازہ لگانا بہت زیادہ مشکل نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK