الیکشن مسائل سے توجہ ہٹانے کا بہانہ بن چکا ہے

Updated: April 20, 2021, 2:58 PM IST | Hasan Kamaal

انتخابات اگر جلد ختم ہو جاتے تو مودی سرکار کو پھر سچائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ۔ اس لئے انتخابات کو دنوں کے بجائے ہفتوں میں پھیلا دیاگیا۔

Narendra Modi.Picture:INN
نریندر مودی۔تصویر :آئی این این

الیکشن جمہوری سیاست کا ایک پہلو، ایک بہت اہم پہلو ہوتا ہے۔ لیکن الیکشن جمہوری سیاست کی نہ ابتدا ہے، نہ انتہا ہے۔ سیاست کا اصل مقصد کسی ملک یا معاشرے کی اقتصادیات کی ، کسی ملک کی پیداوار ، اس پیداوار سے ہونے والی آمدنی کی منصفانہ تقسیم کے نظام کی حد بندی کرنا ہوتا ہے۔ کسی ملک یا معاشرے میں معاشی اور سماجی انصاف کا ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے ایسا معلوم ہورہاہے کہ ہمارے ملک میں سیاست کے معنیٰ صرف الیکشن ہو کر رہ گئے ہیں۔ اب یہاں جو بھی کام کیا جاتا ہے ، اس کا کبھی کبھی پہلا اور صاف نظر آنے والااور کبھی کبھی چھپا ہوااور صاف نظر نہ آنے والا مقصد بس یہ ہوتا ہے کہ اس کام سے کس کو اور کتنے ووٹ مل سکتے ہیں۔ اس بیہودہ سیاست کی وجہ سے اکثر معقول اقتصادی اور سماجی بہبودی اور بہتری کی پالیسیاں بھی اپنا اعتبار کھو دیتی ہیں۔ ۲۰۱۴ء سے تو یہ سیاست ہندوستان میں ایک بدنما مگر مستقل حقیقت بن کر رہ گئی ہے۔ دفاعی معاملات یہاں تک کہ دہشت گردی جیسے سنگین معاملات بھی اسی الیکشن اور ووٹ بینک کی سیاست کی نذر ہوتے جا رہے ہیں اور یہ ایک تشویشناک امر ہے۔ مزید لعنت کہ بی جے پی نے اس سیاست میں دھرم کا بگھار دے کر اسے اپنے ووٹ بینک کے لئے خوش ذائقہ بنا دیا ہے۔ 
ایک اور قابل توجہ امر یہ ہے کہ اب ہر الیکشن کی مہم میں وزیر اعظم نریندر مودی کی شرکت کو ایک لازمی جزو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ پنڈت نہرو سے لے کر اٹل بہاری واجپئی تک کوئی بھی ریاستی انتخابات میں ایک آدھ ریلی سے زیادہ میں شرکت نہیں کرتاتھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ریاستی انتخابات ریاستی نیتائوں کی ذمہ داری ہونی چاہئے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہو جاتا تھا کہ ریاست کے کون لیڈر عوام سے قریب رہتے ہیں اور کن لیڈروں کو واقعی ریاستوں کی نمائندگی کا حق ہے۔ ۲۰۱۴ء کے بعد سے پنچایت، میونسپلٹی یا کارپوریشن کے سوا شاید ہی کوئی ایسا الیکشن ہو، جس کی مہم میں وزیر اعظم نریندر مودی نے خود خصہ نہ لیا ہو۔ حیدرآباد کارپوریشن کے انتخابات میں تو وزیر داخلہ امیت شاہ نے نہ جانے کتنی ریلیاں کر ڈالی تھیں۔ شروع شروع میں تو نریندر مودی نے ’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس‘ جیسی کچھ خوبصورت باتیں ضرور کیں، لیکن انہیں جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ خوشگوار باتیں کچھ زیادہ اثر نہیں کر رہی ہیں۔مسائل اتنے گمبھیر ہو چلے تھے کہ یہ خوشگوار باتیں ان کو ڈھانک نہیں پا رہی تھیں۔ہوا یہ کہ ۲۰۱۴ء کے بعد ملک میں جتنے بھی ریاستی اور بلدیاتی انتخابات ہوئے، ان میں یوپی کے سوا بی جے پی کو کوئی خاص فائدہ نہیں دکھائی دیا۔پارٹی کے لئے یہ تشویشناک معاملہ تھا۔ 
چنانچہ بی جے پی کی اعلیٰ ترین قیادت کی سطح پر نہایت خاموشی سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ خوش خیالی سے کوئی فائدہ نہیں، پارٹی اور حکومت کی نجات عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سیاست ہی میں ہے۔ یہ فیصلہ ۲۰۱۹ء کے لوک سبھا انتخابات سے کچھ پہلے کیا گیا تھا۔ اس وقت خود نریندر مودی اور پارٹی کو یہ اندیشہ لاحق ہو گیا تھا کہ معاملات ٹھیک نہیں ہیں اور لوک سبھا الیکشن کے نتائج کسی بھی طرف جا سکتے ہیں۔ اتفاق سے اسی زمانہ میں پلوامہ کا بد نصیب حادثہ ہو گیا۔ وزیر اعظم نے اس مصیبت میں موقع دیکھ لیا۔ انہوں نے پہلی بار ووٹ دینے والوں کی جذباتیت کا استحصال کیا اور ان سے اپنا پہلا ووٹ پلوامہ کے شہیدوں اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے نام کرنے کو کہا۔ انہیں دو باتوں کا یقین تھا۔ ایک یہ کہ جب بھی دہشت گرد کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دہشت گرد کا مطلب مسلمان ہوتا ہے۔ دوسرے انہیں یہ بھی یقین تھا کہ الیکشن کمیشن کو اتنا بے ضرر بنا یا جا چکا ہے کہ انتخابی ضابطہ کی خلاف ورزی کے باوجود ان پر انگشت نمائی کی ہمت نہیں پڑے گی کہ افوج کے نام پر ووٹ مانگنا خلاف قانون حرکت ہے۔ ہوا بھی یہی۔ الیکشن کمیشن نے شکایات کے باوجود وزیر اعظم کو کلین چٹ دے دی۔ ایک افسر نے اعتراض کیا تھا ، سو اس کی اور اس کے اہل خانہ کی انکم ٹیکس محکمہ نے ایسی درگت بنائی کہ توبہ بھلی۔ 
لوک سبھا الیکشن میں ان تمام باتوں کی وجہ سے بی جے پی کو عوام نے اتنی بڑی  اکثریت دی ، جو بی جے پی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ آج وہی عوام اپنی اس بھول پر آٹھ آٹھ آنسو رو رہے ہیں۔  اس جیت کے بل پر مودی سرکار نے سی اے اے اور ۳۷۰؍ کو رد کرنے جیسے اقدامات تو اٹھا لئے ، لیکن اس کے قومی اور بین الاقوامی نتائج اس کے لئے ہوش ربا ثابت ہوئے۔ پہلا نتیجہ چینی جارحیت کی شکل میں سامنے آیا۔ پھر جی ڈی پی میں غیر معمولی گراوٹ کا سلسلہ شروع ہوا۔ بے روزگاری کی شرح آزادی کے بعد سب سے نچلی سطح پر چلی گئی۔ ایک کے بعد ایک بینک بند ہونا شروع ہو گئے۔ صنعتی پیداوار آدھی سے بھی کم رہ گئی۔ پھر کورونا کا عذاب نازل ہوا۔ ایک انتہائی بے عقل اور بیہودہ لاک ڈائون نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ پھر کسان سڑکوں پر آگئے۔ ساری دنیا میں نکتہ چینی ہونے لگی۔ ظاہر ہے ان تمام آفتوں سے مودی سرکار کو الیکشن ہی بچا سکتا تھا۔ الیکشن ہی عوام کو ان جھمیلوں سے بے گانہ بنا سکتا تھا۔ تمل ناڈو، پونڈیچری، کیرلا، آسام اور مغربی بنگال کے صوبائی انتخابات نے مودی سرکار کو ایک بار پھر ر فتار مہیا کر دی۔ 
انتخابات اگر جلد ختم ہو جاتے تو مودی سرکار کو پھر سچائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ۔ اس لئے انتخابات کو دنوں کے بجائے ہفتوں میں پھیلا دیاگیا۔ دنیا کے بڑے بڑے ماہرین انتخابات اس منطق کو سمجھنے سے عاجز ہیں کہ تمل ناڈو کی ۲۳۴؍ سیٹوں کا الیکشن تو ایک دن میں ہو سکتا ہے، لیکن صرف ۶۰؍ اضافی سیٹوں والے مغربی بنگال کا الیکشن ۸ ؍مرحلوں اور ۶؍ ہفتوں میں کرایا جا رہا ہے۔ کورونا کی دوسری تباہ کن سونامی کے پیش نظر جب الیکشن کمیشن سے کہا گیا ہے کہ کم از کم باقی چار مرحلے ایک ہی دن میں نمٹا لئے جائیں تو دنیا کے آٹھویں عجوبے یعنی ہندوستانی الیکشن کمیشن نے بہت بھونڈا جواب دیا کہ مغربی بنگال میں باقی ملک کے مقابلے میں کورونا کے واقعات کم ہیں  اس لئے الیکشن کا شیڈول نہیں بدلا جا سکتا۔  حقیقت یہ ہے کہ مودی اور شاہ کی ریلیوں کا شیڈول طے تھا اور دونوں اسے بدلنا نہیں چاہتے تھے ۔ بہر حال بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ پانچ ریاستوں کے انتخابات کے نتائج آنے میں اب چند ہی دن باقی ہیں۔ اس کے بعد مودی سرکار کو ان سنگین مسائل کا سامنا کرنا ہی پڑے گا اور یہ سامنا آسان نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK