حسد میں مبتلا شخص کو سوچنا چاہئے کہ وہ حسد کے ذریعے اپنا نقصان کررہا ہے یا اس شخص جس کے تئیں حسد کا جذبہ پایا جائے۔ جس دن حقیقت کا احساس ہوجائے گا، حسد کی کیفیت بدلنے لگے گی۔ حسد میں حاسد کا نقصان اور محسود کا فائدہ مضمر ہے۔
EPAPER
Updated: January 17, 2020, 9:17 AM IST
|
Allama Shibli Nomani
حسد میں مبتلا شخص کو سوچنا چاہئے کہ وہ حسد کے ذریعے اپنا نقصان کررہا ہے یا اس شخص جس کے تئیں حسد کا جذبہ پایا جائے۔ جس دن حقیقت کا احساس ہوجائے گا، حسد کی کیفیت بدلنے لگے گی۔ حسد میں حاسد کا نقصان اور محسود کا فائدہ مضمر ہے۔ ہماری قوم میں آج کل یہ مرض جس قدر پھیلا ہوا ہے، غالباً دنیا کی کسی اور قوم میں نہ ہوگا۔ ملک میں جس قدر مفیدکام شروع کئے جاتے ہیں ان کے برہم ہوجانے یا تکمیل نہ پانے کی وجہ زیادہ تر یہی حسد اور رشک ہوتا ہے۔ دقت یہ ہے کہ حسد بظاہر ایسا کھلا اور ذلیل عیب ہے کہ کسی بڑے آدمی کے خیال میں بھی نہیں آ سکتا کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہوگا حالانکہ بڑے آدمیوں میں یہ مرض زیادہ ہوتا ہے لیکن ایسے پیرائے میں ہوتا ہے کہ وہ تمیز نہیں کرسکتے۔
حسد پیدا ہونے کا سبب
حسد کے پیدا ہونے کا اصلی سبب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو کمزور اور پست حالت میں نہیں دیکھ سکتا اس لئے جب اس کو کوئی شخص اس سے ممتاز نظر آتا ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ کم سے کم میں اُس کے برابر ہوجاؤں ۔ برابری کے صرف دو طریقے ہوسکتے ہیں ، یا یہ شخص بھی اتنا ہی ممتاز ہوجائے یا وہ شخص گھٹ کر اس شخص کی سطح میں آجائے۔ چونکہ پہلی بات کم نصیب ہوتی ہے اس لئے خواہ مخواہ دوسرا خیال پیدا ہوتا ہے۔
کسی مصنف یا اسپیکر یا واعظ یا ریفارمر کو جب زیادہ فروغ اور زیادہ کامیابی ہوتی ہے تو اکثر اس کے اور ہم فنوں کو زیادہ گراں گزرتا ہے۔ اگرچہ وہ بظاہر اس بات کے آرزومند نہیں معلوم ہوتے کہ اس شخص کی عزت و شہرت جاتی رہے لیکن اگر بالفرض اس کا فروغ کم ہوجائے تو ان لوگوں کو رنج کے بجائے ایک قسم کی راحت معلوم ہوگی، کسی مجلس میں اس شخص کے محاسن و عیوب کا تذکرہ کیا جائے تو یہ لوگ عیوب کے تذکرہ کو زیادہ دلچسپی سے سنیں گے اور اس میں ان کو زیادہ لطف آئے گا۔ تصنیفات پر اگر ریویو کیا جائے گا تو ان لوگوں کو وہ حصہ پسند آئے گا جہاں تصنیف پر نکتہ چینیاں ہوں گی۔ اتنا فرق ہوگا کہ جو زیادہ کمینہ طبع ہوں گے وہ ہر قسم کے عیوب کو ذوق سے سنیں گے اور اس کی داد دیں گے، بخلاف اس کے عالی حوصلہ لوگ بے جا نکتہ چینیوں کو حقارت کی نظر سے دیکھیں گے ، لیکن سچی نکتہ چینیوں میں ان کو بھی وہ مزہ آئے گا جو محاسن کے اظہار میں کبھی نہیں آسکتا تھا۔
حسد کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپس میں ہم فنی اور ہم پیشگی ہو۔ اگر ایک عالم کو دنیادار پر، دنیادار کو عالم پر، زاہد کو واعظ پر ، شاعر کو نثّار پر، ریفارمر کو دولتمند پر حسد نہ ہو تو ان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ حسد کے داغ سے پاک ہیں ۔ ان کو غور کرنا چاہئے کہ خود ان کا کوئی ہم فن خصوصاً جو ظاہری اوصاف میں اُنہیں کے برابر تھا جب شہرت میں ، عزت میں ، جاہ میں ، شوکت و شان میں ان سے بڑھ جاتا ہے تو ان کی کیا حالت ہوتی ہے۔
حسد کے پیدا ہونے کے اسباب جن کی تفصیل امام غزالی ؒ نے کی ہے، حسب ذیل ہیں :
دشمنی اور عداوت میں انسان کی بالطبع یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے دشمن کو ضرر پہنچے۔ اگر خود نقصان نہیں پہنچا سکتا تو اس بات کا منتظر رہتا ہے کہ اور اسباب سے اس کو ضرر پہنچ جائے۔ اس بناء پر دشمن کے ساتھ حسد کا ہونا لازم ہے۔ نیک سے نیک آدمی بھی یہ بات نہیں پیدا کرسکتا کہ کسی شخص سے اس کو دشمنی ہو اور پھر دشمن کا رنج و راحت اس کو یکساں معلوم ہو۔
انسان کی یہ بھی فطرت ہے کہ وہ اوروں سے دب کر رہنا نہیں چاہتا اس لئے جب اس کے ہمعصروں میں کوئی شخص ایسے بلند رتبہ پر پہنچ جاتا ہے کہ اُس کے غرور و نخوت کا مقابلہ نہیں کرسکتا تو خواہ مخواہ اس کے رتبہ پر حسدہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اُس بلند رتبہ سے گرجائے۔
انسان جن لوگوں سے کسی ذاتی امتیاز کی بناء پر یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اُس کے ساتھ اطاعت و ادب سے پیش آئیں اُن میں سے جب کوئی شخص زیادہ معزز اور صاحب ِ جاہ ہوجاتا ہے تو حسدپیدا ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ جس اطاعت اور ادب سے وہ شخص پہلے پیش آتا تھا اب نہ آئے گا بلکہ مجھ کو خود الٹا اس کا ادب کرنا پڑے گا۔
دو آدمی جب ایک ہی مشترک چیز کے طالب ہوتے ہیں تو خواہ مخواہ ایک دوسرے کا حاسد بن جاتا ہے۔ ہر واعظ چاہتا ہے کہ تمام شہر اس کی سحربیانی کا گرویدہ ہوجائے۔ تلامذہ میں سے ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ استاد کی توجہ تمام تر اس کی طرف ہو۔ ایک باپ کے جتنے بیٹے ہیں سب کی کوشش ہوتی ہے کہ باپ کی ساری محبت میرے ہی حصے میں آجائے۔
بعض لوگوں کو یکتائی کی ہوس ہوتی ہے اور اس وجہ سے دنیا کے کسی حصے میں اگر کوئی شخص کسی علم و فن میں شہرت اور قبول عام حاصل کرتا ہے تو ان کو گوارا نہیں ہوتا کیونکہ ان کی شان و یکتائی میں فرق آتا ہے اور یکتائی سے زیادہ ان کو کوئی چیز عزیز نہیں ۔
بعض آدمی بالطبع خبیث النفس اور تیرہ باطن ہوتے ہیں ۔ اس قسم کے لوگ بے وجہ و بے سبب تمام لوگوں پر حسد کرتے ہیں ، کوئی شخص ہو، کہیں کا ہو، کسی طبقہ کا ہو، جب کسی چیز میں ممتاز ہوگا ان کو رشک اور حسد ہوگا۔
حسد کا علاج یہ ہے کہ انسان اس بات پر غور کرے کہ حسد کرنے سے محسود کو نقصان پہنچتا ہے یا خود حاسد کو؟ یہ ظاہر ہے کہ محسود کو ضرر نہیں پہنچتا بلکہ چونکہ محسود ہونا دلیل کمال ہے اس لئے اس کو اپنے فضل و کمال کی ایک سند ہاتھ آتی ہے۔ اس کے علاوہ جب محسود کو یہ علم ہوتا ہے کہ میرے حاسد کا دل میری ترقیوں پر جلتا ہے اور اس کو اس کا صدمہ اور کوفت رہتی ہے تو وہ نہایت خوش ہوتا ہے کیونکہ انسان کے لئے مخالف کے رنج اور کوفت سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں ۔ اس لحاظ سے کسی پر حسد کرنا، اس کو بجائے نقصان پہنچانے کے مسرور اور خوش کرنا ہے۔
اس کے ساتھ یہ خیال کرنا چاہئے کہ حسد سے انسان کو خود کس قدر دینی اور دنیوی نقصان پہنچتا ہے۔ دینی نقصان تو اس وجہ سے کہ حسد شرعاً نہایت مذموم چیز ہے اور حاسد کے لئے عذاب دوزخ موعودہے ، دنیاوی نقصان یہ ہے کہ حسد سے انسان کو ہمیشہ دل میں ایک کوفت سی رہتی ہے اور جس قدر محسود ترقی کرتا جاتا ہے اسی قدر یہ کوفت اور صدمہ بڑھتا جاتا ہے اور چونکہ انسان اس صدمہ کا اعلانیہ اظہار نہیں کرسکتا اس لئے دل ہی دل میں گھٹتا ہے اور آپ ہی آپ جلا جاتا ہے۔