Inquilab Logo Happiest Places to Work

دانشمندی اسی میں ہے کہ دنیا کو ہاتھ میں رکھا جائے دل میں نہیں

Updated: April 03, 2026, 5:14 PM IST | Shabnam Binte Farooq Khan | Mumbai

بے نیازی یقیناً عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ یہ وہ دولت ہے جو دل کو مخلوق کی محتاجی سے نکال کر خالق سے جوڑ دیتی ہے۔ ایمان کے بعد اگر کوئی نعمت ہے جسے بار بار مانگنا چاہیے تو وہ بے نیازی ہے۔

It is a fact that the satisfaction of hearts lies in the remembrance of Allah. Photo: INN
یہ حقیقت ہے کہ دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں پوشیدہ ہے۔ تصویر: آئی این این

بے نیازی یقیناً عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ یہ وہ دولت ہے جو دل کو مخلوق کی محتاجی سے نکال کر خالق سے جوڑ دیتی ہے۔ ایمان کے بعد اگر کوئی نعمت ہے جسے بار بار مانگنا چاہیے تو وہ بے نیازی ہے۔  اس دنیا سے بے نیازی، دولت و آسائش سے بے نیازی اور شہرت و نمود سے بے نیازی۔اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’جو کوئی نیک عمل کرے (خواہ) مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے، اور انہیں ضرور اس کا اجر (بھی) عطا فرمائیں گے ان اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے تھے۔‘‘ (النحل:۹۷)
یہ ’پاکیزہ زندگی‘ دراصل اُس دل کی کیفیت کا نام ہے جو دنیا کی ظاہری چمک سے بے نیاز ہو کر اﷲ کی رضا میں سکون تلاش کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: خدمت ِ حجاج: سعادت بھی ہے اور امانت بھی

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ اصل غنا دل کا غنی ہونا ہے۔‘‘(صحیح بخاری)
جب بے نیازی دل میں گھر کر لیتی ہے تو اپنے ساتھ پرہیزگاری بھی لاتی ہے اور پرہیزگاری ہی تقویٰ کی بنیاد ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لئے (دنیا و آخرت کے رنج و غم سے) نکلنے کی راہ پیدا فرما دیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رِزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔‘‘ (الطلاق:۲۔۳)
 دنیا اور اس کی چمک دمک سے دل کا آزاد ہو جانا تقویٰ کے لئے راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ جہاں تقویٰ اپنی جڑیں مضبوط کر لے، وہاں سکون آ کر رہائش اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا :
’’جان لو کہ اﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔‘‘(الرعد:۲۸)
لہٰذا اپنے دل کو ہر اُس چیز سے بے نیاز کر لیجئے جو تقویٰ کو متزلزل کرتی ہو کیونکہ اصل سکون دنیا کو حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اس سے دل کے آزاد ہو جانے میں ہے۔ بے نیازی دراصل دل کی آزادی ہے اور یہی آزادی انسان کو ﷲ کی قربت، سکونِ ذہن، سکونِ قلب اور حقیقی کامیابی تک پہنچا دیتی ہے۔
فرمانِ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ ہے : 
’’دنیا سے لگاؤ جتنا کم ہوگا اتنی ہی آپ کی زندگی آسان ہوگی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مذہب سے دوری: جدید تعلیم کا اثر یا تربیت کی کمی؟

لیکن اگر یہی دل دنیا کی محبت میں گرفتار ہو جائے  ٬اس کی چمک دمک، مال و منصب اور شہرت کو ہی اپنا مقصود بنا لے تو یہی محبت تباہی و بربادی کا سبب بن جاتی ہے۔ دنیا کی محبت دل کو سخت کر دیتی ہے،  آخرت سے غافل کر دیتی ہے اور انسان کو نقصان اور خسارے کی راہ پر ڈال دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے اور ظاہری آرائش ہے اور آپس میں فخر اور خود ستائی ہے اور ایک دوسرے پر مال و اولاد میں زیادتی کی طلب ہے، اس کی مثال بارش کی سی ہے کہ جس کی پیداوار کسانوں کو بھلی لگتی ہے پھر وہ خشک ہو جاتی ہے پھر تم اسے پک کر زرد ہوتا دیکھتے ہو پھر وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے، اور آخرت میں (نافرمانوں کے لئے) سخت عذاب ہے اور (فرمانبرداروں کے لئے) اللہ کی جانب سے مغفرت اور عظیم خوشنودی ہے، اور دنیا کی زندگی دھوکے کی پونجی کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘ (الحدید:۲۰)۔  اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
’’تم (اﷲ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے) دنیاوی زندگی (کی لذتوں) کو اختیار کرتے ہو، حالانکہ آخرت (کی لذت و راحت) بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔‘‘ (الاعلیٰ: ۱۶۔۱۷)۔ ان ارشادات کی روشنی میں  دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ دنیا کو ہاتھ میں رکھا جائے دل میں نہیں۔ کیونکہ جب دنیا دل میں گھر کر لیتی ہے تو بے سکونی، حرص اور حسرت پیدا کرتی ہے، اور جب دل اﷲ سے جڑ جاتا ہے تو قناعت، تقویٰ اور اطمینان عطا ہوتا ہے۔ انسان زندگی میں جو کچھ کرتا ہے وہ سکونِ قلب حاصل کرنے کیلئے ہی کرتا ہے۔ دل کو اللہ سے جوڑ کر بندۂ خدا سکونِ قلب کی دولت تو حاصل کرتا ہی ہے، آخرت کی کامیابی کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK