اسٹیٹ حج انسپکٹر کی ذمہ داریوں اور خدمت ِ حجاج کی حقیقی روح پر ایک تحریر۔
EPAPER
Updated: April 03, 2026, 5:01 PM IST | Mohammed Hussain Mushahid Rizwi | Mumbai
اسٹیٹ حج انسپکٹر کی ذمہ داریوں اور خدمت ِ حجاج کی حقیقی روح پر ایک تحریر۔
حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے ہر سال لاکھوں فرزندانِ اسلام کو فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے سرزمینِ حجاز روانہ کیا جاتا ہے۔ لبیک کی صدا پر گھر بار، کاروبار اور آسائشیں چھوڑ کر آنے والے یہ قافلے دراصل زمین پر چلتے ہوئے نور کے کارواں ہوتے ہیں۔ یہ عام مسافر نہیں بلکہ رحمٰن کے مہمان ہوتے ہیں، جن کی آنکھوں میں بیت اللہ کا عکس اور دلوں میں روضۂ رسول ﷺ کی تڑپ موجزن ہوتی ہے۔ ایسے مقدس قافلے کی خدمت پر مامور ہونا محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ روح کی آزمائش، اخلاص کی کسوٹی اور سعادت کی معراج ہے۔ اسٹیٹ حج انسپکٹر دراصل وہ خاموش خادم ہوتا ہے جو ہجوم میں گم ہو کر بھی بے شمار دلوں کا سہارا بنتا ہے، جو اپنی نیند قربان کر کے دوسروں کے سفر کو آسان بناتا ہے اور جو اپنے منصب کو اختیار نہیں بلکہ امانت سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو چند دن کی ڈیوٹی کو عبادت اور ایک سادا و معمولی ذمہ داری کو دائمی سعادت میں بدل دیتا ہے۔ یہ صرف ایک سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ ایک عظیم امانت، ایک روحانی امتحان اور خدمتِ خلق کا بے مثال موقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مذہب سے دوری: جدید تعلیم کا اثر یا تربیت کی کمی؟
اسٹیٹ حج انسپکٹر بن کر جانا بلاشبہ اعزاز کی بات ہے، مگر یہ اعزاز اسی وقت حقیقی معنی اختیار کرتا ہے جب اس کی بنیاد خالص نیت اور خدمتِ حجاج کے جذبے پر ہو۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھ کر جائے کہ اسے حج کمیٹی کے خرچ پر چند دن گزارنے اور مقدس مقامات کی زیارت کا موقع مل گیا ہے تو وہ دراصل اس عظیم ذمہ داری کی روح کو سمجھ ہی نہیں پایا۔ حقیقت یہ ہے کہ حج انسپکٹر کا یہ سفر سیاحت نہیں خدمت ہے اور ڈیوٹی نہیں عبادت ہے۔ جب دل میں یہ عزم ہو کہ جو بھی حاجی سامنے آئے، خواہ وہ اپنے گروپ کا ہو یا نہ ہو، اپنے شہر کا ہو یا نہ ہو، اپنے ملک کا ہو یا نہ ہو، وہ اللہ کا مہمان ہے اور میں اس کا خادم ہوں، تو یہ نیت اس خدمت کو عبادت کے درجے تک پہنچا دیتی ہے۔
حاجی دراصل عام مسافر نہیں ہوتا، وہ لبیک کی صدا پر لبیک کہتا ہوا گھر بار، کاروبار، آسائشیں اور رشتے ناتے چھوڑ کر آیا ہوا مہمانِ خدا ہوتا ہے۔ اس کے قدموں میں تھکن ضرور ہوتی ہے مگر دل میں شوق کا سمندر موجزن ہوتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں نیند کم اور اشک ِ محبت زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی بزرگ راستہ بھول جائے، کوئی خاتون زبان نہ سمجھ پائے، کوئی بیمار اچانک کمزور پڑ جائے یا کوئی نوآموز حاجی ہجوم اور ماحول سے گھبرا جائے تو اسٹیٹ حج انسپکٹر کی بروقت مدد اس کے لئے رحمت کے سایے جیسی بن جاتی ہے۔
اسٹیٹ حج انسپکٹر کی ذمہ داریاں محض کاغذی کارروائی تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ اس کا کردار ہمہ جہت ہوتا ہے۔ اسے رہائش، کھانے اور نقل و حمل سے متعلق مسائل حل کرنے ہوتے ہیں؛ بیمار حجاج کو اسپتال لے جانا اور ان کی دیکھ بھال کا بندوبست کرنا ہوتا ہے؛ گمشدہ افراد کو تلاش کرکے ان کے ساتھیوں تک پہنچانا ہوتا ہے؛ مشاعر ِ مقدسہ — منیٰ، عرفات اور مزدلفہ — میں نظم و ضبط برقرار رکھنے میں مدد کرنا ہوتی ہے؛ زبان اور ماحول کے فرق سے پیدا ہونے والی الجھنوں کو دور کرنا ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر حجاج کے ذہنی سکون اور حوصلے کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ یوں وہ بیک وقت رہنما بھی ہوتا ہے، محافظ بھی، مددگار بھی اور کئی مواقع پر بیٹے، بھائی یا دوست کی طرح سہارا دینے والا بھی۔
یہ بھی پڑھئے: عہدِ اضطراب، بحرانِ شعور اور فکر ِ اسلامی کی بازیافت
اصل خدمت کی روح اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب انسان اپنی ذمہ داری کو محدود نہ سمجھے۔ یہ سوچ کہ ’’میں صرف اپنے گروپ کیلئے یا صرف ۳۰؍ سے ۴۵؍ دن کیلئے ذمہ دار ہوں‘‘ خدمت کے دائرے کو تنگ کر دیتی ہے، جب کہ حج کے میدان میں ہر حاجی اپنا ہوتا ہے۔ جس طرح ہم اپنے گلی محلے میں کسی پریشان شخص کی مدد کو اپنا فرض سمجھتے ہیں، اسی طرح حرمین کی مقدس سرزمین پر تو یہ فریضہ اور بھی بڑھ جاتا ہے، کیوں کہ وہاں ہر خدمت کئی گنا اجر اور روحانی فیض کا سبب بن سکتی ہے۔زندگی میں بہت کم لوگوں کو یہ سعادت نصیب ہوتی ہے کہ وہ لاکھوں عبادت گزاروں کے درمیان خدمت کا چراغ بن سکیں۔ یہ دن گنتی کے ضرور ہوتے ہیں مگر ان کے اثرات دائمی ہو سکتے ہیں۔ ایک مسکراہٹ، ایک صحیح رہنمائی، ایک بروقت سہارا یا ایک ہمدردانہ جملہ کسی حاجی کے پورے سفرِ حج کو آسان اور یادگار بنا سکتا ہے۔
درحقیقت اسٹیٹ حج انسپکٹر ہونا صرف انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ روحانی تربیت کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ منصب انسان کو صبر، برداشت، عاجزی اور ایثار سکھاتا ہے۔ جب آدمی دوسروں کی سہولت کے لئے اپنی راحت قربان کرتا ہے تو اس کا اپنا دل بھی نور سے بھر جاتا ہے اور اس کی عبادت میں بھی اخلاص کی چمک پیدا ہو جاتی ہے۔ لہٰذا جو شخص اس سعادت کے لئے منتخب ہو، اسے چاہیے کہ وہ دل میں یہ عہد لے کر جائے کہ وہ سیاحت کے لئے نہیں بلکہ خدمت کے لئے جا رہا ہے؛ وہ کسی مخصوص گروپ کا نہیں بلکہ ہر حاجی کا خادم ہے؛ وہ وقت پورا کرنے نہیں بلکہ امانت ادا کرنے جا رہا ہے۔ جب یہ احساس دل میں جاگزیں ہو جائے تو اسٹیٹ حج انسپکٹر محض ایک عہدیدار نہیں رہتا بلکہ حجاج کا حقیقی معنوں میں خادم بنتا ہے اور سچ پوچھئے تو خادم ِخدا بن جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: کسی کے گود لینے سے نہ نسب تبدیل ہوگا نہ احکام وراثت میں تبدیلی ہوگی
اللہ تعالیٰ ان تمام افراد کو جو مہمانانِ خدا کی خدمت پر مامور ہیں، اخلاصِ نیت، صبرِ جمیل، قوتِ عمل اور وسعتِ قلب عطا فرمائے۔ ان کی ہر چھوٹی بڑی خدمت کو قبول فرمائے، ان کے قدموں کو استقامت بخشے، ان کے ذریعے حجاجِ کرام کے سفر کو آسان اور بابرکت بنائے اور اس خدمت کو ان کیلئے دنیا و آخرت کی سعادت کا خزانہ بنا دے۔ اس موقع پر آئیے دُعا کریں کہ ربِ کعبہ! ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرما لے جو اس کے مہمانوں کی خدمت کر کے اس کی رضا و خوشنودی حاصل کرتے ہیں ۔ آمین