Inquilab Logo Happiest Places to Work

مذہب سے دوری: جدید تعلیم کا اثر یا تربیت کی کمی؟

Updated: April 03, 2026, 4:56 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

جدید علوم کے ساتھ ساتھ دینی شعور اور اخلاقی اقدار کو بھی فروغ دیا جائے تب ہی اصل کامیابی ملتی ہے۔

It is also not correct to say that modern education itself is a cause of distance from religion. Photo: INN
یہ کہنا بھی درست نہیں کہ جدید تعلیم بذاتِ خود مذہب سے دوری کا سبب ہے۔ تصویر: آئی این این

انسانی تاریخ کے ہر دور میں یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو انسان کو اپنے خالق سے قریب یا دور کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں جب جدید تعلیم نے نئی جہتیں پیدا کی ہیں، یہ بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا مذہب سے دوری کا سبب جدید تعلیمی نظام ہے یا گھریلو و سماجی تربیت کی کمی؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ یک رُخی نہیں بلکہ ایک گہرا اور ہمہ جہت المیہ ہے جس کی جڑیں فرد کے باطن، معاشرتی ڈھانچے اور فکری رجحانات میں پیوست ہیں۔ کیونکہ جہاں ایک طرف جدید تعلیم بظاہر انسان کو شعور، تحقیق اور ترقی کی راہوں پر گامزن کرتی ہے، وہیں دوسری طرف جب یہ تعلیم خدا شناسی سے خالی ہو جائے تو وہ محض معلومات کا بوجھ بن کر رہ جاتی ہے۔ قرآن کریم نے اسی حقیقت کی طرف لطیف اشارہ کیا ہے: ’’اللہ سے حقیقی ڈر رکھنے والے وہی ہیں جو علم رکھتے ہیں۔‘‘ (سورۃ فاطر:۲۸)اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اصل علم وہ ہے جو انسان کو اپنے رب کی معرفت عطا کرے، نہ کہ اس سے دور کر دے۔

یہ بھی پڑھئے: آج ہم جن پریشانیوں میں مبتلا ہیں، وہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے!

تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں کہ جدید تعلیم بذاتِ خود مذہب سے دوری کا سبب ہے۔ اصل مسئلہ تعلیم کے مواد، طریقہ ٔ  تعلیم اور اس کے مقصد میں تبدیلی کا ہے۔ جب تعلیم کا ہدف صرف معاشی ترقی اور مادی کامیابی بن جائے اور طریقہ ٔ  تعلیم اخلاقیات سے عاری ہو جائے تو روحانیت پس پشت چلی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا تعلیم یافتہ انسان کائنات کے اسرار تو جانتا ہے مگر اپنے خالق سے ناواقف رہتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم تربیت کے پہلو کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ بچے کا پہلا مدرسہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ اگر وہاں دینی اقدار، اخلاقی اصول اور خدا کی محبت کا بیج نہ بویا جائے اور اسی طرح گھر والے اپنے پیاروں کے لئے صحیح تعلیم و تربیت گاہ کا انتخاب نہ کریں تو بعد کا افسوس اور رونا اس خلا کو پُر نہیں کر سکتا۔ قرآن مجید کی اس آیت میں بھی ہمیں تعلیم و تربیت کے حوالے سے صحیح سمت کے انتخاب کا پیغام ملتا ہے: ’’اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ۔‘‘ (التحریم:۶ ) یعنی یہ آیت والدین اور گارجین (سرپرستوں) کی ذمہ داری کو واضح کرتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی صحیح تعلیم اوردینی تربیت کا اہتمام کریں۔

 احادیث ِ نبویہؐ   بھی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔‘‘ (بخاری و مسلم) یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ انسان کی ابتدائی تربیت ہی اس کے عقائد و نظریات کی بنیاد رکھتی ہے۔ منطقی اعتبار سے دیکھا جائے تو انسان ایک مرکب حقیقت ہے جس میں عقل، جذبات اور روح تینوں شامل ہیں۔ اگر تعلیم صرف عقل کو جِلا دے اور تربیت روح کو نظر انداز کر دے تو ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہی خلا بعد میں مذہب سے دوری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، کیونکہ مذہب دراصل روح کی غذا ہے، نہ کہ محض ایک رسمی نظام۔

یہ بھی پڑھئے: ان اخلاقی خوبیوں کو اپنائیے جن سے جنت کے مستحق بن سکیں

فلسفیانہ نقطۂ نظر سے بھی یہ مسئلہ قابلِ غور ہے۔ جدید فلسفہ اکثر انسان کو مرکز ِ کائنات بنا  دیتا ہے، جبکہ مذہب انسان کو خدا کا بندہ قرار دیتا ہے۔ جب انسان خود کو خودمختار اور بے نیاز سمجھنے لگتا ہے تو اس کے اندر عاجزی اور عبدیت کی کیفیت ختم ہو جاتی ہے، جبکہ یہ کیفیت مذہب کی روح ہے۔ نتیجتاً وہ مذہب کو ایک بوجھ یا غیر ضروری شے سمجھنے لگتا ہے۔ معاشرتی سطح پر بھی اس دوری کے اسباب میں سوشل میڈیا، ماحول اور دوست احباب کا کردار نمایاں ہے۔ اگر معاشرہ دین سے بےگانہ ہو تو فرد کا ایمان بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔

 اس لئے ضروری ہے کہ ہم اجتماعی طور پر ایسا ماحول تشکیل دیں جہاں دین محض عبادات تک محدود نہ ہو بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ہو۔ ان تمام دلائل کی روشنی میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ مذہب سے دوری نہ تو صرف جدید تعلیم کا نتیجہ ہے اور نہ ہی محض تربیت کی کمی کا، بلکہ یہ دونوں عوامل باہم مل کر اس بحران کو جنم دیتے ہیں۔ اگر تعلیم کو دینی فہم، دینی شعور اور دینی بصیرت سے آراستہ کر دیا جائے اور تربیت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے تو اس دوری کو قربت میں بدلا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: اعتکاف اور شوال کے روزوں کی قضا کا حکم

اس گفتگو کے خلاصے کے طور پر  یہ کہنا بجا ہوگا کہ ہمیں ایک متوازن نظامِ تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے، جہاں جدید علوم کے ساتھ ساتھ دینی شعور اور اخلاقی اقدار کو بھی فروغ دیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو نہ صرف دنیا میں کامیابی عطا کرے گا بلکہ آخرت میں بھی سرخرو کرے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK