ہر اَدب پارہ اس بات کا اعلان ہے کہ ہنوز انسان اپنے آپ سے مایوس نہیں ہوا ہے

Updated: September 27, 2021, 6:00 PM IST | Dr. Muhammad Hassan

یہ بیک وقت اپنے دور اور اپنے علاقے کا سچا روپ بھی پیش کرتا ہے اور زمان و مکان سے ماورا بھی ہوتا ہے ۔ اس دور کے بہت دنوں بعد اور اس علاقے سے بہت دور اس کو پڑھا جاتا ہے اور اس سے جمالیاتی حظ حاصل کیا جاتا ہے

Picture.Picture:INN
ہر ادب پارے کے پیچھے زندگی اور اس کے نظام اقدار کو بدل دینے کی خواہش کسی نہ کسی شکل میں ضرور جلوہ گر رہتی ہےہر ادب پارے کے پیچھے زندگی اور اس کے نظام اقدار کو بدل دینے کی خواہش کسی نہ کسی شکل میں ضرور جلوہ گر رہتی ہے۔ تصویر: آئی این این

ذمہ داری کے متعلق باتیں کرنا بڑی غیرذمہ داری کی بات ہے، خصوصاً ادیبوں کے لئے۔ ادیب باتیں نہیں کرتا، واقعات ، کردار ، کیفیات و جذبات کی زبان سے یا ان کے پردے میں زندگی کی عکاسی کر تا ہے۔ دنیا کا وہ روپ پیش کرتا ہے جو اس نے دیکھا ہے۔ گویا حقیقت کا ایک نجی اور ذاتی تصور سامنے لاتا ہے اس لئے سچ پوچھئے تو اس کی ذمہ داری کچھ بھی نہیں ہے۔ شاعری میں تو داخلی لب و لہجہ برقرار رہتا ہے مگر ڈرامے ، افسانے اور ناول کے کردار جو کہتے اور کرتے ہیں اپنی ذمہ داری پر کرتے ہیں۔ اگر وہ جیتے جاگتے کردار ہیں تو ان کے الفاظ و افعال کی بازپرس انہیں سے ہونی چاہئے  ، مصنف تو صرف انہیں متعارف کراکے ان الفاظ کے ساتھ پیچھے ہٹ جاتا ہے: ’’صاحبو! کھلاڑی آپ کے سامنے ہیں ، کھیل آپ کے روبرو ، مجھے اجازت دیجئے، میری روح آپ کے ہمرکاب رہے گی۔‘‘ چنانچہ ادیب جب بھی قلم اٹھاتا ہے اس کی بنیادی ذمہ داری ادب سے ہوتی ہے ۔ ادب توانا، جاندار ، خیال آفریں، معنویت اور جمالیاتی حس سے بھرپور ہے یا نہیں مگر یہ ذمہ داری  ایسی ہمہ جہت اور ہمہ گیر ہے جس کے بعد کچھ اور کہنے کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ادب آویزش کا پروردہ ہے۔ یہ آویزش کلیۃً باطنی بھی ہوسکتی ہے ، باطن اور خارج کے درمیان بھی ہوسکتی ہے، عقل اور عشق کے مابین بھی ہوسکتی ہے، فرد اور مشیت ، فرد اور سماج اور سماج کے مختلف عناصر کے مابین بھی۔ ہر آویزش تبدیلی پیدا کرتی ہے مگر تبدیلیاں بھلی بھی ہوسکتی ہیں اور بری بھی۔ غالباً ٹیگور نے کہا تھا کہ ہر نومولود بچہ اس بات کی نشانی ہے کہ خدا ابھی انسان سے مایوس نہیں ہوا۔ اس بات کو اد ب پر بھی منطبق کیا جاسکتا ہے۔ ہر ادب پارہ اس بات کا اعلان ہے کہ ہنوز انسان اپنے آپ سے مایوس نہیں ہوا ہے کیونکہ ہر ادب پارے کے پیچھے زندگی اور اس کے نظام اقدار کو بدل دینے کی خواہش کسی نہ کسی شکل میں ضرور جلوہ گر رہتی ہے۔ لیکن ہر تبدیلی مبارک نہیں ہوتی اس لئے پہلا بنیادی سوال ہر ادیب کے سامنے یہی آتا ہے کہ وہ دنیا کو کس نہج سے بدلنا چاہتا ہے ۔ انسان بھی عجیب و غریب مخلوق ہے جو ہر لحظہ بدلتا ہے اور صدیوں بلکہ ہزارہا سال کے بعد بھی بعض اعتبار سے جوں کا توں رہتا ہے۔ اس نے قدرت کے  زبردست عناصر پر فتح پائی۔ برق اور رعد کے منہ زور گھوڑوں کو رام کر لیا مگر اس کی باطنی تیرگی لالچ اور ہوس رانی ، خودغرضی اور خوں آشامی اب بھی اسی طرح قائم ہے ۔ اس نے ایٹم کو تسخیر کرلیا جس سے وہ چاند کی نورانی وادیوں تک پہنچ سکتا ہے اور جس سے پوری دنیا کو ایک لمحے میں تباہ کرسکتا ہے اور ابھی تک یہ طے نہیں ہوا ہے کہ اس کے اندر چھپا ہوا شیطان اس مہتم بالشان دریافت کو عالمگیر ہلاکت کے لئے استعمال کرے گا یا اسے انسانیت کے نیک اور پاکیزہ وجود کے لئے رحمت بنانے کی سعی کرے گا۔ آج کی دنیا میں انسان کو باہر سے تبدیل کرنا نسبتاً آسان ہوگیا ہے لیکن اس کے باطنی وجود تک رسائی پیچیدہ اور دشوار مرحلہ ہے۔  سائنس، قانون اور سیاست اس کے ظاہری روپ کے نگہبان ہیں مگر اس کے ضمیر میں ایک خوشگوار  تبدیلی پیدا کرنا ان کے بس میں نہیں۔ یہ سب اس کی آرزو کو پورا کرنے کی تدبیر تو کرسکتے ہیں مگر اس کی آرزو کو بدل دینے کی قدرت نہیں رکھتے۔ یہاں فنونِ لطیفہ اور خصوصاً ادب کا قدم درمیان میں آتا ہے۔ 
 لہٰذا ادیب کی دوسری بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ خواہ وہ کسی قوم نسل یا علاقے کا کیوں نہ ہو، وہ اس عام انسانی وجود کے بنیادی تقاضوں کو ذہن میں رکھےجو از آدم تا ایں دم قائم رہے ہیں انہیں مختصراً ضمیر وجود کہا جاسکتا ہے۔ مثلاً انسانی وجود ہر دور میں انبساط ، انصاف اور ابدیت کا متلاشی رہا ہے۔  اسی کی کھوج میں کبھی محبت کے لالہ زاروں میں سینوں پر داغ لئے ہیں کبھی شراب خانوں کے کھردرے فرش پر جان دی ہے، کبھی مجنوں کا بہروپ بھر کر صحرا صحرا بھٹکا ہے ، کبھی حب ِوطن کی خاطر میدانِ جنگ میں خونیں خلعت پہنی ہے مگر یہ پیاس آج تک بجھی نہیں ۔ انسان آج بھی سراسیمہ ہے۔ یہ تلاش اب بھی جاری ہے۔ اس تلاش میں ادیب بھی شریک ہے اور اس کے لئے زندگی بھر کی ریاضت کا یہی ثمرہ بہت ہے کہ وہ اپنے فن کے سہارے اس تیرہ و تار راستے کو جسے زندگی کہتے ہیں ، روشن کرنے کے لئے ایک ننھی سی قندیل جلانے میں کامیاب ہو۔ بعض ادیب صرف ایک راستے سے واقف ہیں جو تیرگی اور تاریکی کے اعتبار سے کچھ کم نہیں ۔ وہ ہے ان کی ذات کی تنگنائے اور اس نجی ادھیڑ بن  ’’ان کے دنوں کی تپش ان کی شبوں کے گداز‘‘ میں صرف ہوجاتی ہے۔ بات یہ بھی کھری ہے، فرق صرف ذات اور ذات کا ہے۔ اقبال نے مرد مومن کی یہ پہچان بتائی تھی کہ ’’گم اس میں ہو آفاق‘‘ ، اسی طرح اچھے اور بڑے ادیب وہ ہوتے ہیں جو اپنی ذات میں کائنات سمولیتے ہیں اور انہیں ایسا لگتا ہے جیسے ان کی شخصیت اس قدر نجی اور ذاتی ہے۔ کائنات گویا ان کے خواب و خیال کا جزو بن جاتی ہے۔ ان کے مقابلے میں بعض وہ بھی ہوتے ہیں جو خود اپنے لئے بھی اجنبی ہوجاتے ہیں۔ آج کا ادب بہت کچھ فرد کا ادب ہے  ، اس فرد کا جو حال ہی میں اپنی شدید انفرادیت سے واقف ہوا ہے اور اس کے ساتھ اسے اپنے  بے پناہ امکانات اور اندیشہ ہائے دوردراز کا بھی احساس ہوا ہے اور اپنی اجتماعی قوت اور بیکراں تنہائی کا بھی۔ اس لحاظ سے ہمارے دَور کے ادیب کے  سامنے سب سے بڑا چیلنج اس کی ذات او ر ہیئت اجتماعی کے درمیان مطابقت اور توازن کا ہے۔
 یہ توازن بیک وقت کئی سطحوں پر قائم ہونا ضروری ہے۔ سب سے پہلے شخصی اور داخلی سطح پر ذہنی جذبہ اور سماجی ذمہ داری کے درمیان ایک اندرونی توازن قائم ہونا ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر  فنکار میں زندگی کو مربوط اور مکمل شکل میں دیکھنے کی قوت اور صلاحیت پیدا ہونا دشوار ہے۔ دوسرے یہ توازن فرد اور جماعت کے درمیان قائم ہونا ضروری ہے۔ ادیب میں یہ توازن ترسیل اور ابلاغ کا مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔ جب تک ہر موضوعِ خیال،  جذبہ اور اندازِ بیان کسی نہ کسی حد تک اجتماعی نہ ہو اس وقت تک اس کی ترسیل ناممکن ہے اور سننے اور پڑھنے والے اسے سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ اسی لئے گیت ہو یا غزل، نثر ہو یا نظم، ہر جگہ مسئلہ  خارج کو جزوِ ذات  (externalization of internationalization) اور ذاتی کو خارجی (Internalization of external) کا ہے۔ ایک طرح سے مسئلہ مادے کے ذرات  کو ایٹمی توا نائی میں تبدیل کرنے کا ہی ہے۔ خیال ایٹمی توانائی ہے اور خارج کا ہر منظر گویا مادے کا ایک ذرہ ہے جو ہر لمحے توانائی میں تبدیل ہوتا جاتا ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ہر وہ مجرد احساس ، جذبہ یا خیال جو ذات کے خلوت کدے میں چپ چاپ اس انداز سے گزرتا  ہے کہ دوسروں کو آہٹ تک نہیں ہوتی۔ اس خیال ، احساس اور جذبے کو ذاتی سے آفاقی اور نجی سے کائناتی بنانے کے عمل کو تخلیقی عمل کہا جاتا ہے۔ اس لئے ہر ادب پارہ بیک وقت اپنے دور اور اپنے علاقے کا سچا روپ بھی پیش کرتا ہے اور زمان و مکان سے ماورا بھی ہوتا ہے  ۔ اس دور کے بہت دنوں بعد اور اس علاقے سے بہت دور اس کو پڑھا جاتا ہے اور اس سے جمالیاتی حظ حاصل کیا جاتا ہے۔ انفرادیت اور اجتماعیت کا جس قدر لطیف اور نازک توازن قائم ہوگا ، فن پارہ اسی قدر بلند اور عظیم ہوگا۔  ادب کو پرکھنے کا معیار سہ جہتی ہے : حجم ، رقبے  اور کیفیت ہی سے کسی ادب کی عظمت کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ اچھا ادب وہی ہے جو فکری طور پر وزن و وقار رکھتا ہو ، اس میں فکری حجم موجود ہو اور اس کا تانابانا کمزور اور بودا نہ ہو۔ نفس مضمون کے اعتبار سے اس   نے بصیرت کے ذخیرے میں اضافہ کیا ہو۔ رقبے سے مراد اس کی اپیل اور مقبولیت ہے۔ وہ کس حد تک عام فہم ہے ، کس حد تک اور کتنی مدت تک جمہور کے کتنے وسیع حلقے کے دلو ں کو چھو سکتا ہے۔ یہاں گویا زماں و مکاں کی دونوں جہت موجود ہے۔ اور کیفیت جذبے اور جمالیاتی تسکین سے پیدا ہوتی ہے۔ جب تک ادب پارہ جمالیاتی حیثیت  سے متاثر نہ کرے اس وقت تک اسے کسی قسم کے امتیاز کا حق حاصل نہیں ہوتا۔n
 (طویل مضمون ’’ہماری ادبی ذمہ داریاں ‘‘ کا ایک باب)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK