ہرشخص کہتا ہے کاش دن بتیس یا اڑتالیس گھنٹے کا ہو تا

Updated: June 14, 2021, 7:54 AM IST | Mumbai

ہمارے درجے میں بس دو مسافر ہیں جن کو متلی کی شکایت نہیں ہوئی اور جو ہر کھانے کے وقت موجود رہتے ہیں۔

The seabirds were flying with the ship, some of them dared to sit on the mast or chimney of the ship.Picture:INN
سمندری پرندے جہاز کے ساتھ اڑ رہے تھے ،ان میں سے کوئی ہمت کرکے جہاز کے مستول یا چمنی پر بھی بیٹھ جا تا تھا تصویر آئی این این

ہمارے درجے میں بس دو مسافر ہیں جن کو متلی کی شکایت نہیں ہوئی اور جو ہر کھانے کے وقت موجود رہتے ہیں۔ ایک میں اور ایک انگریز عیسائی مشنری عورت ۔ کھانے کے وقت ہم مختلف میزوں پر بیٹھتے ہیںمگر چائے کے لئے کوئی جگہ مقرر نہیں ۔ ایک بڑی میز پرسب کے لئے سامان رکھ دیا جاتا ہے۔ ایک شام کو میں چائے پینے جیسے ہی پہنچا  ان بڑی بی نے مجھ پر حملہ ، ’’ اے نوجوان !‘‘، حضرت عیسیٰ کی اس پجارن نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ،’’ کیا تم نے کبھی اپنی روح کو دوزخ کی آگ سے بچانے کی بابت بھی سوچا ہے ؟ ‘‘ میں نے جواب دیا ،’’ پیٹ کی آگ بجھانے سے فرصت ملے تو روح اور دوزخ کے متعلق سوچوں۔‘‘ بڑی بی نے کیک کے ایک بڑے ٹکڑے کو منہ میں رکھتے ہوئے کہا ۔ انسان کی روحانی بھوک روٹی کے ٹکڑوں سے بھرسکتی ۔‘‘ میں نے کہا ،’’جی ہاں روٹی کے علاوہ دوسری انسانی ضروریات بھی ہیں!‘‘ اس کے بعد مجھے عیسائیت کی فضیلت پر ایک لمبا لیکچر سننا پڑا ۔ میں نے کہا کہ عیسائی قوموں کی حرکتوں کو دیکھتے ہوئے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہٹلر اور مسولینی اور چمبرلین سے بہتر ہوں۔بڑی بی بولیں،’’ سیاست کو اس بحث میں کیا دخل ؟‘‘ میں نے کہا ’’ کیوں نہیں ، آپ کے ملک میں تو مذہبی کتابیں اور مذہب کے احکامات پارلیمنٹ کی رائے سے بدلے جاسکتے ہیں اور پادریوں کو سرکاری خزانے سے تنخواہیں ملتی ہیں۔‘‘ غرض کسی طرح ان بڑی بی سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا۔ میں نے آخر کار متلی کا بہانہ کرکے گلو خلاصی پائی اور وہاں سے بھاگا ۔ اگلے دن چار بجے اور میںچائے کے لئے نہیں تو جاپانی اسٹیورڈ (ملازم) میرے کیبن میں مسکراتا ہوا آیا۔  ’’ آج تم بھی لیٹ گئے ؟‘‘ اس نے کہا ، ’’ کیا متلی ہو رہی ہے ‘‘ میں نے کہا نہیں مگر یہ بتائو کہ تم میرے دوست ہو ؟ میری  جان بچائوگے؟‘‘ ہاں ہاں اس نے یقین دلایا، کیا بات ہے ؟‘‘ تو چپکے سے مجھے یہیں چائے دے جائو  اور وہ مشنری عورت پوچھے تو کہہ دینا کہ میری حالت بہت خراب ہے ، میں چائے پینے نہیں آئوں گا۔‘‘
۴۸؍ گھنٹے کا دن 
 آج  ۲۶؍  جولائی ہے ، کل بھی ۲۶؍ جولائی تھی ۔ دوسرے الفاظ میں یہ دن ۴۸؍ گھنٹے کا ہوا۔ یہ کیوں ؟ اس کو سمجھنے کے لئے آپ کو اسکول میں پڑھاہوا جغرافیہ کا سبق پھر یاد کرنا پڑے گا۔ یہاں یہ کہنا کافی ہے کہ مغرب سے مشرق کی طرف بحر الکاہل کو عبور کرنے میں ایک دن  اس طرح مفت ملتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ عمر بھر افسوس کرتے رہتے ہیں کہ دن میں فقط چوبیس گھنٹے ہی کیوں ہوتے ہیں۔ ہرشخص کہتا ہے کاش دن چوبیس گھنٹے کے بجائے بتیس یا اڑتالیس گھنٹے کا ہو تا۔ پھر ہمیں سب کام کرنے کا موقع ملتا ۔ اطمینان سے لکھ پڑھ سکتے ۔ دوستوں سے گپ کرسکتے،جی بھر کر سوسکتے ۔ یہ بھاگ دوڑ اور عدیم الفرصتی  جو بیسویں صدی کی زندگی کی مستقل لعنت ہے  اس سے چھٹکارہ پاتے ۔ مگر اڑتالیس گھنٹے  کے دن کا تجربہ کم از کم میرے لئے تو بالکل ناکامیاب ثابت ہوا ۔ ۲۵؍ جولائی کو میں نے سوچا تھا کہ اگلا دن  دو دنوں کے برابر ہو گا اس لئے خوب کام کروں گا ، کئی مضمون ختم کروں گا ، ایک کتاب پڑھ ڈالوں گا  ، کئی درجن خط لکھوں گا ، اسی خوشی میں ۲۵؍ تاریخ کو کچھ کام نہ کیا۔ دن بھر گپ شپ میں یا سوکر گزارا ۔ تاش کا کھیل برج سیکھنے کی ناکام کوشش کی ۔
  جب پہلی  ۲۶؍ تاریخ  کی صبح ہوئی تو کتنا اطمینان تھا ۔ آج توکوئی بھاگ دوڑ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ میں نے سوچا  اور دن کا زیادہ  تر حصہ ڈک پر کھڑے کھرے گزارا ۔ سمندر پر کہرا چھایا ہوا تھا ۔ سردی بھی خوب تھی  اور معلوم ہوتا تھا کہ سیدھی  قطب شمالی سے آرہی ہےمگر پھر بھی کیبن کی گھٹن سے تو بہترتھا ۔سمندری پرندے جہاز کے ساتھ اڑ رہے تھے اور باورچی خانہ سے جو بچا ہوا کھانا سمندر وغیرہ میں پھینکا جاتا تھا اس پر فوراً جھپٹا مارتے تھے۔ ان میں سے کوئی ہمت کرکے جہاز کے مستول یا چمنی پر بھی بیٹھ جا تا تھا ۔  شام کو چائے کے بعد کچھ دیر ڈک ٹینس کھیلتے رہے۔ یہ کھیل بجائے گیند  اور بلوں کے فقط سخت ربڑ کے ایک چھلّے سے کھیلا جاتا ہے۔ بظاہر تو بچوں کا کھیل معلوم ہو تا ہے مگر ایک گھنٹے میںتکان سے آدمی شل ہو جاتا ہے۔ اتنے تھکنے کے بعد کام کرنا تو نا ممکن تھا ۔ کھانا کھاتے ہی سوگیا۔ اطمینان تھا کہ اگلے دن پھر چھبیس  تاریخ ہے مگر اگلے دن پھر وہی قصہ رہا ۔ صبح اٹھا تو اس احساس کے ساتھ کہ پچھلا دن بیکار گزار کر اتنا سنہری موقع گنوایا۔ کچھ دیر کتاب پڑھی  اور دو تین خط لکھے ،پھر سوگیا۔ شام کو کہرہ ذرا ہلکا ہو گیا۔ ڈک پر گھومنے کا لطف تھا ۔ اس لئے کام کون کرتا ۔ اب رات کے کھانے کے بعد یہ سطریں لکھنے بیٹھا ہوں ۔ مگر کھانا ڈٹ کر کھایا ہے ، جہاز ہلکے ہلکے ہل رہا ہے جیسے کوئی لوریاں دے کر سلارہا ہو !

ship Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK