ہم شبانہ روز اپنی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ کوئی چیز بنانے والے کے بغیر وجود میں نہیں آتی۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی بڑی کائنات کسی خالق کے بغیر وجود میں آئی ہوگی؟
مولانا خالد سیف الله رحمانی
دُنیا میں جو مذاہب پائے جاتے ہیں ان میں خدا کے وجود کا مشترکہ تصور ہے۔ خدا کا وجود ہی انسان کو ایک غیبی طاقت کا مطیع و فرمانبردار بناتا اور اس کے اندر جوابدہی کا یقین پیدا کرتا ہے اور یہ بات اس کو خیر و صلاح اور عدل و انصاف پر قائم رکھتی ہے۔ مگر اس وقت مغربی تہذیب کی بنیادی دعوت خدا پرستی کے بجائے شہوت پرستی کی ہے اور اس فلسفہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خدا کا یقین ہے۔ بدقسمتی سے مختلف صورتوں میں الحاد، کسی نہ کسی شکل میں، ہماری نئی نسلوں میں بڑھتا جارہا ہے؛ اسی لئے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے بال بچوںکی تربیت میں اس پہلو کو ملحوظ رکھیں۔
اللہ تعالیٰ کے وجود کو ماننے سے یہ یقین رکھنا مراد ہے کہ اگرچہ ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے ہیں؛ لیکن وہ موجود ہے، اسی نے پوری کائنات کو پیدا کیا ہے اور اسی کے حکم سے اس کا نظام جاری وساری ہے؛ اس لئے ہمیں اس کی اطاعت وفرماں برداری کرنی عاہئے۔
غور كریں تو اس کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے وجود کی دلیل ہے ۔ چند اہم دلیلیں یہ ہیں :
(الف) ہم دن رات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کوئی چیز بنانے والے کے بغیر وجود میں نہیں آتی۔ سوئی سے لے کر جہاز تک ہر چیز کسی صانع کے ذریعہ وجود میں آتی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی مکان کے بارے میں دعویٰ کرے کہ یہ از خود بن کر کھڑا ہوگیا ہے تو لوگ اسے پاگل سمجھیںگے۔ آخر یہ وسیع وعریض کائنات کسی خالق کے بغیر کیسے وجود میں آسکتی ہے؟ قرآن مجید میں بار بار اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جیسے ارشاد ہے :
’’کیا اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے۔‘‘ (ابراہیم: ۱۰)
(ب) کائنات میں ہر لمحہ تغیر کا عمل جاری ہے ، ہر دن کے بعد رات آتی ہے، اور رات کے بعد دن آتا ہے، انسان بیمار پڑتا ہے، پھر صحت حاصل ہوتی ہے، بچہ بڑھ کر جوان اور پھر بوڑھا ہوتا ہے، مختلف مخلوقات پیدا ہوتی ہیں، پھر موت اور فنا سے دوچار بھی ہوتی ہیں، تبدیلی اور ترقی کسی محرک اور عامل کی محتاج ہوتی ہے، ایسا نہیں ہے کہ لکڑی کے تختے رکھ دیئے جائیں، وہ خود بخود ٹکڑے بن جائیں اور یہ ٹکڑے جڑ کر کرسی اور پلنگ کی صورت اختیار کرلیں۔ ہر تبدیلی کے پیچھے کاریگر کا عمل ہوتا ہے، یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات جو مسلسل تغیر، حرکت وسکون اور ترقی کی منزل سے گزر رہی ہے، اس کے پیچھے ایک طاقت کار فرما ہے اور اسی طاقت کا نام اللہ ہے؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
’’بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور شب و روز کی گردش میں عقل ِ سلیم والوں کے لئے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔‘‘
(سورہ آل عمران: ۱۹۰)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ’اختلاف اللیل والنہار‘ (شب و روز کی تبدیلی) کا ذکر فرمایا ہے ۔
(ج) کائنات میں جو چیزیں پائی جاتی ہیں، وہ اپنے مقررہ کام میں مشغول ہیں، ان کے درمیان ایک خاص قسم کا توازن وارتباط ہے، جیسے: فضا میں ہزاروں سیارے گردش کررہے ہیں، انسان جن گاڑیوں کو چلاتا ہے، آئے دن ان میں ایکسیڈنٹ ہوتا رہتا ہے؛ لیکن کبھی سورج اور چاند میں کوئی تصادم نہیں ہوا اور نہ فضا میں تیرتے ہوئے ہزاروں ستاروں کے درمیان ایکسیڈنٹ کی نوبت آئی، جب تک کوئی ایسی ذات موجود نہ ہوجو حکمت کے ساتھ کائنات کی تمام مخلوقات کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے ان سے کام لے، تب تک یہ نظام برقرار نہیں رہ سکتا۔ خدا کے بغیر کائنات کے اس نظام کے چلتے رہنے کا دعویٰ کرنا ایسا ہی ہے، جیسے کوئی شخص کہے کہ جہاز اور ٹرین بغیر کسی کپتان اور ڈرائیور کے یا الیکٹرونک کنٹرول کے خود بخود چل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے، فرمایا گیا :
’’سورج اور چاند (اسی کے) مقررّہ حساب سے چل رہے ہیں۔‘‘ (سورہ رحمٰن: ۵)
’’بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک مقرّرہ اندازے کے مطابق بنایا ہے۔‘‘(سورہ قمر: ۴۹)
(د) انسان کا وجود بجائے خود اللہ تعالیٰ کے وجود کی دلیل ہے، ایک ہی ماں باپ سے کئی بچے پیدا ہوتے ہیں، ان کی شکل وصورت میں فرق ہوتا ہے، آواز میں فرق ہوتا ہے، مزاج اور رویہ میں فرق ہوتا ہے، ایک ہی مادہ اشتقاق سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کے درمیان فرق کا پایا جانا کسی قادر مطلق اور حکیم و دانا منتظم و مدبر کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اگر لکڑی سرخی مائل ہو تو اس سے جو چیز بنے گی وہ اسی رنگ کی ہوگی، سونے سے جو چیز بھی بنائی جائے گی، وہ زرد ہوگی ؛ لیکن انسان کی ذات میں غیر معمولی تنوع پایا جاتا ہے، یہ کسی حکم حاکم کے بغیر نہیں ہوسکتا؛ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
’’اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق (بھی) ہے اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف (بھی) ہے، بیشک اس میں اہلِ علم (و تحقیق) کے لئے نشانیاں ہیں۔‘‘
(سورہ الروم:۲۲)
( ہ) انسانی فطرت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اس کائنات کے پیچھے خالق ومالک کے وجود کو تسلیم کرے؛ اسی لئے انسانی تاریخ میں ہمیشہ انسانوں کی غالب ترین اکثریت نے کسی نہ کسی صورت میں خدا کے وجود کو تسلیم کیا ہے، اگرچہ بہت سی قوموں نے اس کی ذات و صفات کی معرفت میں ٹھوکر کھائی ہے؛ چنانچہ تاریخ میں ہمیشہ خدا کا انکار کرنے والے بہت کم رہے ہیں۔ تمام مذہبی صحائف کے مطالعہ سے یہی بات معلوم ہوتی ہے اور آج بھی دنیا میں خدا کا انکار کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے ۔
جو لوگ خدا کے وجود کو نہیں مانتے، ان کے پاس اپنے دعوے پر کوئی دلیل نہیں ہے، یہ سمجھنا کہ چوںکہ خدا نظر نہیں آتا؛ اس لئے اس کا وجود نہیں ہے، ایسی بات ہے جس کو عقل سلیم قبول نہیں کرسکتی، دنیا میں کتنی ایسی چیزیں ہیں، جو نظر نہیں آتی ہیں، یا جن کو حواس خمسہ ظاہرہ سے محسوس نہیں کیا جاسکتا ہے؛ لیکن ہر شخص اس کے وجود کو تسلیم کرتا ہے۔ انسان کے اندر روح اور زندگی کا ہونا اور موت کے وقت اس کا نکل جانا سب کو تسلیم ہے؛ لیکن انسانی آنکھیں اس کا مشاہدہ نہیں کرسکتیں۔ فضا ہر وقت ’ہوا ‘سے معمور رہتی ہے؛ لیکن ہم اسے دیکھ نہیں سکتے اور جب تک اس کی حرکت بڑھ نہ جائے، اس وقت تک ہم اپنے حواس سے بھی محسوس نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و فہم کی دولت عطا فرمائی ہے، ہم انسان کے رویہ کو دیکھ کر اس کے اندر عقل کو تسلیم کرتے ہیں؛ لیکن ہم ہاتھ پاؤں کی طرح نہ اس کا ادراک کرسکتے ہیں اور نہ کسی پیمانے سے اس کی مقدار کو جانچ سکتے ہیں؛ اس لئے کسی چیز کا نظر نہ آنا یا حواس ظاہرہ کے ذریعہ اس کا ادراک نہ ہونا اس کے موجودنہ ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی ۔
ملحدین اور خدا کے منکرین کائنات میں جاری حرکت وسکون کی توجیہ کرتے ہیں کہ یہ چیز اس کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے اور فطرت کی بنا پر مسلسل ایسا ہورہا ہے ؛ لیکن یہ بھی ایک ایسا دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے، اگر کسی چیز کو فعال رکھنے کے لئے فطرت کافی ہوتی تو اُن کے درمیان یکسانیت ہونی چاہئے تھی، ہر پودا جو ایک طرح کی زمین میں لگایا جائے، اس کی نشو ونما ایک ہی طرح پر ہوتی، ہر سیب کے سائز اور مٹھاس میں یکسانیت ہوتی، ہرشوہر و بیوی جن میں ماں باپ بننے کی صلاحیت ہے، ضرور ہی ماں باپ بنتے، انسان کے وجود میں جو اجزاء شامل ہیں، جیسے: لوہا، پتھر، چونا، پانی وغیرہ، اگر انسان ان سب کو ملا کر ایک پُتلا بنا دیتا تو اس میں انسان ہی کی طرح بولنے، سننے، اور لکھنے پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی؛ لیکن ایسا نہیں ہے، ایسی کوئی ایک آدھ مثال بھی دُنیا کے کسی گوشے سے نہیں مل سکتی۔
اس سے معلوم ہوا کہ مادّہ از خود کسی چیز کی تخلیق یا تشکیل نہیں کرتا؛ بلکہ کوئی ذات ہے جس کے حکم سے چیزیں وجود میں آتی ہیں اور وہ مختلف شکلیں اختیار کرتی ہیں۔ یہی پیدا کرنے اور تخلیق کرنے والی ذات خدائے واحد کی ذات ہے۔