متوقع بہار انتخابات اور الیکشن کمیشن

Updated: September 12, 2020, 10:28 AM IST | Editorial | Mumbai

الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز ترمیم شدہ رہنما خطوط جاری کرتے ہوئے سیاسی پارٹیوں اور اُمیدواروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ذاتی تفصیل اخبارات میں شائع کرائیں تاکہ یہ رائے دہندگان کو یہ علم رہے کہ اگر اُن کے خلاف کوئی مجرمانہ کیس ہے تو وہ کس نوعیت کا ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز ترمیم شدہ رہنما خطوط جاری کرتے ہوئے سیاسی پارٹیوں اور اُمیدواروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ذاتی تفصیل اخبارات میں شائع کرائیں تاکہ یہ رائے دہندگان کو یہ علم رہے کہ اگر اُن کے خلاف کوئی مجرمانہ کیس ہے تو وہ کس نوعیت کا ہے۔کمیشن کا یہ اعلامیہ بہار الیکشن کو ذہن میں رکھتے ہوئے جاری کیا گیا ہے جس یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے ذریعہ اُمیدواروں کی ذاتی تفصیل کب کب منظر عام پر لائی جانی چاہئے۔ یاد دہانی کیلئے عرض ہے کہ الیکشن کمیشن نے ایسا اعلامیہ ۲۰۱۹ء میں لوک سبھا الیکشن سے قبل بھی جاری کیا تھا۔ یہ قدم سپریم کورٹ کی اُن ہدایات سے مربوط ہے جن میں ہر اُمیدوار کو اپنی ذاتی تفصیل شائع کرانے یا منظر عام پر لانے کی تلقین کی گئی تھی۔ قارئین جانتے ہیں کہ عوامی رہبری یا نمائندگی کا وہ اعلیٰ منصب جس کا امتیازی پہلو عوامی خدمت ہونا چاہئے تھا، جاہ طلبی، سیاسی کھینچا تانی اور مفاد پرستی کا شکار ہوکر رہ گیا ہے۔ عوام اس صورتحال سے اس قدر عاجز ہیں کہ انتخابی میدان میں اُترنے والوں سے بھرپور واقفیت کے باوجود انہی کو ووٹ دینے پر مجبور ہیں ۔ انہیں اکثر یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ کیا کریں ، ووٹ تو دینا ہی ہے، اس لئے ’’کم بُرے‘‘ کو دے دیا۔ اس کے برخلاف، ہونا یہ چاہئے کہ بُروں میں کم بُرے کے مقابلے میں اچھوں میں زیادہ اچھے کو منتخب کرنے کا موقع عوام کے سامنے ہو، تاکہ عوام اسی کو کامیاب بنانے کی خوشی کے حقدار بن سکیں ۔ یہ اسی وقت ہوگا جب عدالتی فیصلے اور الیکشن کمیشن کی ہدایات کی روح کو سمجھا جائیگا، مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے سیاستدانوں کو انتخابی عمل کا حصہ بننے سے روکنے کی ایماندارانہ اور مخلصانہ کوشش ہوگی اور انتخابی کمیشن’’ داغیوں ‘‘ کو روکنے میں سختی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریگا۔ 
 مگر، اب تک یہ موضوع زیر بحث ہونے کے باوجودہم وہیں کھڑے تھے جہاں کل تھے جبکہ ایسے عناصر جنہیں کٹہرے میں یا سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے تھا وہ دندناتے اور غراتے پھرتے رہے، انتخابات جیتتے رہے یا دامن پر داغ ہونے کے باوجود شفاف دامن والے عوام کی قسمت کا فیصلہ کرتے رہے۔
  جیسا کہ عرض کیا گیا، سپریم کورٹ نے حکومت کو داغیوں کیخلاف قانون بنانے، الیکشن کمیشن کو ان کے کرتوت اجاگر کرنے اور ایسے لوگوں کو عوام میں اپنا جرائم نامہ خود پیش کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ ووٹ دینے سے پہلے عوام جان جائیں کہ وہ کس کو ووٹ دے رہے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اتنی دیانتداری دورِ حاضر کی آلودہ سیاست میں ممکن نہیں ہے کیونکہ نہ تو سیاسی جماعتوں کو یہ احساس ذمہ داری ہے کہ داغیوں کے داخلے پر قدغن لگائیں نہ ہی اُمیدواروں حتیٰ کہ جمہوری طور پر منتخب ہو کر قانون ساز اداروں تک پہنچ جانے والوں میں اتنی غیرت ہے کہ اپنے دفاع کی مکروہ روش کو ترک کردیں ۔
 سیاست میں جرائم کی آمیزش کس حد تک اور کتنی تشویشناک ہے اس کا اندازہ لگانے کیلئے یہ جان لینا کافی ہے کہ ۲۰۱۸ء کی ایک رپورٹ کے مطابق اراکین پارلیمان و اسمبلی میں جن کی مجموعی تعداد ۴۸۹۶ ؍ ہے، ۱۷۶۵؍ ایسے ہیں (یعنی ۳۶؍ فیصد) جن کیخلاف کوئی نہ کوئی کیس چل رہا ہے۔
 یہ اعدادوشمار مذکورہ سال کے دوران مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو پیش کئے تھے۔ان تمام قانون سازوں کے خلاف ۳۰۴۵؍ مقدمات زیر سماعت ہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم شفافیت کے معاملے میں کتنے پھسڈی ثابت ہوئے ہیں ۔ سیاست کو جرائم سے پاک کرنے کیلئے ہمارے ملک میں ایک وسیع تر میکانزم اُسی وقت ممکن ہوگا جب ہر جمہوری ادارہ اور عوام کا ہر طبقہ سیاست میں جرائم کی آمیزش کو برداشت نہ کرنے کا عہد کریگا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK