Inquilab Logo

قرآن مجید میں تمثیلات کے ذریعےعلوم و معارف کا بیان

Updated: September 15, 2023, 1:23 PM IST | Shafqat Hussain Khadim | Mumbai

بیہقی نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک قرآن پانچ وجوہ پر نازل ہوا ہے: حلال، حرام، محکم، متشابہ اور امثال۔ پس تم لوگ حلال پر عمل کرو، حرام سے پرہیز کرو، محکم کی پیروی کرو، متشابہ پر ایمان لاؤ اور امثال سے عبرت و نصیحت حاصل کرو۔‘‘

The subject of parables of the Holy Quran is very important and it is very important to think about it in order to understand the Quran. Photo: INN
قرآن کریم کا مضمونِ تمثیلات بڑی اہمیت رکھتا ہے اور اس میں تدبر کرنا مطالب قرآن کو سمجھنے کیلئے نہایت ضروری ہے۔۔ تصویر:آئی این این

اللہ رب العالمین قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’اور درحقیقت ہم نے لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے۔‘‘ (سورہ الروم:۵۸)۔ یہ ایک فطری اور طبعی امر ہے کہ مقامِ موعظت و نصیحت میں اَمثال کا ذکر مخاطب کیلئے نہایت مؤثر اور دلنشیں طرز کلام ہے ۔ اسی طرح امور معنویہ کو مخاطب کے سامنے محسوس و مشاہد اور ان کے قبائح و محاسن کو نمایاں کردینا تمثیلات ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ کتب ِ سابقہ تورات و انجیل میں بھی بکثرت مضامین تمثیلی رنگ میں بیان ہوئے ہیں ۔ انجیل کی سورتوں میں سے ایک کا نام ہی ’’امثال‘‘ ہے اور سید الانبیاء ﷺ اور دیگر انبیاء ؑ اور حکماء کے کلام میں امثال کی کثرت پائی جاتی ہے۔
 بیہقی نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک قرآن پانچ وجوہ پر نازل ہوا ہے: حلال، حرام، محکم، متثابہ اور امثال۔ پس تم لوگ حلال پر عمل کرو، حرام سے پرہیز کرو، محکم کی پیروی کرو، متشابہ پر ایمان لاؤ اور امثال سے عبرت و نصیحت حاصل کرو۔‘‘
تمثیل و قدر وقیمت: ضرب ِ مثال کے معنی ہیں کسی حقیقت کو تمثیل کے پیرائے میں سمجھانا۔ اعلیٰ حقائق اور روحانی لطائف کو جب تک تمثیل کا جامہ نہ پہنایا جائے اس وقت تک وہ عام عقل کی گرفت میں نہیں آتے۔ اس وجہ سے روحانی حقائق کی تعلیم میں اس صنف ِ کلام کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ چنانچہ انبیاءؑ اور حکماء کے کلام میں اس کی بڑی کثرت ہوتی ہے۔ اس کا اندازہ تورات اور انجیل پر ایک نظر ڈالنے سے ہوسکتا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کا کلام تمثیلات سے بھرا ہوا ہے۔ نبی کریم ؐ کی احادیث میں بھی بے شمار تمثیلات ہیں اور قرآن کریم میں بھی اس صنف ِ کلام کی نہایت اعلیٰ مثالیں موجود ہیں ۔ امام شافعیؒ نے علم الامثال کو منجملہ اُن امور کے شمار کیا ہے جن کی معرفت مجتہد پر واجب ہے جو کہ طاعت ِ باری تعالیٰ پر دلالت کرنے والی اور ان کے نواہی کو ضروری قرار دینے میں بیّن اور واضح ہیں ۔
تمثیل کی غرض و غایت: تمثیل کی غرض یہ ہوتی ہے کہ کسی غیر واضح اور غیرمحسوس حقیقت کو مخاطب کے فہم سے قریب تر لانے کے لئے کسی ایسی چیز سے تشبیہ دی جائے جو واضح اور محسوس ہو یا بالفاظِ دیگر یوں سمجھئے کہ جو چیز عام نگاہوں سے اوجھل ہوتی ہے تمثیل کے ذریعے سے گویا اُس کا مشاہدہ کرادیا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں یہ طرز بیان بڑی حکمت کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے کیونکہ جن حقائق سے وہ آگاہ کرنا چاہتا ہے وہ قریب قریب سب کے سب غیرمرئی اور غیرمحسوس ہیں لہٰذا قرآن کریم کا مضمونِ تمثیلات بڑی اہمیت رکھتا ہے اور اس میں تدبر کرنا مطالب قرآن کو سمجھنے کیلئے نہایت ضروری ہے۔
 امام زرکشی ؒ نے ’’البرہان فی علوم القرآن‘‘ میں لکھا ہے کہ ضرب الامثال کی حکمت یہ بھی ہے کہ بیان کی تعلیم دی جائے اور یہ بات شریعت ِ مصطفیٰؐ کے خصائص میں سے ہے۔ علامہ زمخشریؒ کا قول ہے کہ تمثیل کی طرف جانے کا مقصود صرف یہ ہے کہ معانی کو منکشف کیا جائے اور متوہّم کو شاہد سے قریب بنایا جائے۔ پس اگر ممثل لہ (جس کے لئے مثال دی جاتی ہے) عظیم و صاحب ِ رتبہ ہوگا تو ممثل بہٖ (جس کے ساتھ مثال دی جاتی ہے) بھی اُسی کے مثل ہوگا اور اگر ممثل لہ حقیر ہے تو ممثل بہٖ بھی اُسی کے مانند حقیر ہوگا۔
 تمثیل میں دراصل جو چیز دیکھنے کی ہوتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس میں جو حقیقت پیش کی گئی ہے وہ کتنی خوبی کے ساتھ پیش ہوئی ہے۔ اس چیز سے کچھ زیادہ بحث نہیں ہوتی کہ تمثیل کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں ۔ ایک حقیقت کو نگاہوں کے سامنے مصور کردینے کیلئے جو چیز بھی مفید ِ مقصد ہوسکتی ہے اُس سے تمثیل میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، خواہ وہ مچھر ہو یا مکھی۔ قرآن کریم نے مشرکین کے معبودوں کی بے بسی کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مکھی بھی اِن خداؤں سے کچھ چھین لے تو یہ اس کا بھی کچھ نہیں بگاڑ کرسکتے۔ اسی طرح شرکاء و شفعاء پر ان کو جو اعتماد تھا اس کی بے بضاعتی کی مثال مکڑی کے جالے سے دی ہے۔ یہود، دین کے اصولوں سے بے پروا ہوکر اس کی جزئیات کا جو اہتمام کرتے تھے سیدنا عیسیٰ ؑ نے اُس کو مچھر کے چھاتے اور اونٹ کے نگل جانے سے تشبیہ دی ہے۔
تشبیہ اور تمثیل کا فرق: تمثیل اگرچہ تشبیہ ہی کی نوعیت کی ایک چیز ہے لیکن تشبیہ اور تمثیل میں بڑا فرق ہے۔ ایک عام تشبیہ میں اصلی نگاہ مشبّہ اور مشبہ بہ پر ہوتی ہے اور ان دنوں کے اجزاء کو الگ الگ ایک دوسرے کے مقابل رکھ کے دیکھا جاتا ہے کہ ان میں باہم دگر کتنی مشابہت اور مطابقت پائی جاتی ہے۔ اور پھر اسی مشابہت اور مطابقت کے لحاظ سے اس تشبیہ کا حسن و قبح متعین ہوتا ہے لیکن تمثیل میں اجزاء کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی بلکہ اس میں صورت ِواقعہ کو صورت ِ واقعہ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ اگر ایک صورتحال اور دوسری صورتحال میں پوری پوری مطابقت موجود ہے اور تمثیل صورت ِ حال کی پوری تصویر نگاہوں کے سامنے پیش کررہی ہے تو وہ تمثیل مکمل ہے اگرچہ تشبیہ کے وہ تمام ضوابط اس پر منطبق نہ ہورہے ہوں جو ایک تشبیہ کے مکمل ہونے کے لئے اہل فن نے ضروری قرار دیئے ہیں ۔
اقسام الامثال: قرآن کریم یا عربی زبان ہی میں نہیں بلکہ ہر زبان میں اظہار مافی الضمیر اور اثبات ِ مدعا کے لئے تشبیہات و تمثیلات استعمال کرنے کا طریقہ رائج ہے۔ قرآن کریم میں مِثل، مَثل اور مثال کے الفاظ پائے جاتے ہیں ۔ ایسی چیزجس کی کوئی مثال ہی نہ ملتی ہو مثل کہلاتی ہے یعنی نہ کوئی صفت میں اُس جیسا ہو اور نہ صورت و ہیئت میں ، وہ بالکل یکتا ہو جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا ہے: لیس کَمِثْل شیٔ اور اگر اسی صورت و سیرت کا دوسرا بھی پایا جاتا ہو اس کے لئے مثل یا مثال کے الفاظ موجود ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ولہُ المِثْلُ الاَعلیٰ۔
 قرآن کریم میں جو امثال مذکورہ ہوئی ہیں ان کی دو اقسام ہیں ۔ ایک تو وہ امثال ہیں جو کسی بات کو سمجھانے کے لئے بطور تمثیل کے بیان ہوئی ہیں ، مثلاً سورہ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے: مَّثَلُ الَّذِينَ ……حَبَّةٍ ۔’’جو لوگ اﷲ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال (اس) دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں (اور پھر) ہر بالی میں سو دانے ہوں (یعنی سات سو گنا اجر پاتے ہیں )۔‘‘ (سورہ البقرہ: ۲۶۱) یہاں یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کئے ہوئے مال کا بدلہ آخرت میں سات سو گنا بلکہ بعض حالات میں اس سے بھی زیادہ ملے گا۔ انسانی عقل اس کو ذرا بعید سمجھ سکتی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسے ایک مثال کے ذریعے سمجھا دیا کہ جس طرح زمین کے اندر ڈالا ہوا ایک بیج درخت پر سات سو تخم جدید لے کر نمودار ہوتا ہے اس طرح دنیا میں خرچ کیا ہوا مال آخرت میں سات سو گنا تک بڑھ کر انسان کو ملے گا ، لیکن یہی انفاقِ مال بغیر ایمان و تقویٰ کے محض ریا اور حب  ِ ّ جاہ کے لئے کیا جائے تو اس کی مثال فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ ……صَلْدًا یعنی ’ ’اس کی مثال ایک ایسے چکنے پتھر کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو پھر اس پر زوردار بارش ہو تو وہ اسے (پھر وہی) سخت اور صاف (پتھر) کر کے ہی چھوڑ دے۔‘‘ (سورہ البقرہ:۱۶۴)
 ان کلمات نے مخاطب کے سامنے اُس صورت کو مخاطب کرکے دکھا دیا کہ انفاقِ مال اور صَرفِ دولت، ایمان اور اخلاص کے ساتھ ایک نفع بخش کھیتی کی مانند ہے اور یہی بذل مال اور صَرفِ دولت بغیر ایمان و تقویٰ کے کسی چکنے پتھر پر تخم ریزی کی طرح ہے۔ 
 امثالِ قرآن کی دوسری قسم وہ ہے جسے اردو میں کہاوت کہتے ہیں ۔ اس قسم کی امثال قرآن کریم میں دو طرح مذکور ہوئی ہیں ۔ بعض تو وہ ہیں جو نزولِ قرآن کے بعد ہی کہاوت بنیں گویا اُن کا موجد قرآن ہی ہے۔ مثال کے طور پر هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ’’نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے،۔‘‘ (سورہ الرحمٰن:۶۰) یا پھر وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ’’اور برائی کا بدلہ اسی برائی کی مِثل ہوتا ہے۔‘‘ 
(سورہ الشوریٰ:۴۰) 
 کہاوتوں کی دوسری قسم وہ ہے جس میں صراحتاً تو کوئی کہاوت مذکور نہیں مگر آیت کے مفہوم سے نکلتی ہے، گویا وہ یا تو عوامی ضرب الامثال کا سرچشمہ ہیں یا اُن کی طرف دلالت کرتی ہیں ۔ ایسی امثال کو امثالِ کامنہ کہا جاتا ہے۔ اس کی قرآن کریم میں بے شمار مثالیں ہیں ۔ مثلاً ایک عربی کہاوت مشہور ہے کہ لیس الاخبر کالاعیان۔ سو یہ قرآن کریم کی اس آیت میں موجود ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ نے حق تعالیٰ سے عرض کیا : آپ مجھے دکھائیں کہ آپ مردے کس طرح زندہ کرتے ہیں ؟ اس پر حق تعالیٰ نے پوچھا کیا تم اس پر ایمان نہیں رکھتے؟ تب حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا : ’’کیوں نہیں (میں اس پر ایمان رکھتا ہوں ) مگر (میں نے یہ درخواست اس لئے کی ہے کہ ) میرا قلب مطمئن ہوجائے۔ 
 غرض اسی طرح قرآن کریم میں حق تعالیٰ نے علوم و معارف کا ایک بہت بڑا ذخیرہ تمثیلات کے عنوان میں بیان فرمایا ہے۔ قرآن کا یہ طرز بیان بھی سراپا معجزانہ اور محیرالعقول ہے جس کا اندازہ بیغاویؒ، رازیؒ، آلوسیؒ اور زمخشریؒ جیسے ائمہ کی تفاسیر کے مطالعہ سے ہی ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK