نماز فجر اور تلاوت ِ قرآن کی اہمیت کو واضح کرتی ہے

Updated: November 27, 2020, 2:27 PM IST | Dr Mohammed Saeed Kareem Bebani

سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر ۷۸؍میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’نماز قائم کرو زوال آفتاب سے لے کر اندھیرے تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآن فجر مشہود ہوتا ہے ۔‘‘

Quran Reading
نماز کے علاوہ بھی صبح کے اوقات میں قرآن پاک پڑھنے کی سعادت اور فضیلت دوسرے اوقات سے زیادہ ہے

سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر ۷۸؍میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’نماز قائم کرو زوال آفتاب سے لے کر اندھیرے تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآن فجر مشہود ہوتا ہے ۔‘‘
مفسرین کے مطابق اس آیت میں ’’دلوک الشمس‘‘ سے مراد سورج کے زوال کی ابتدا کا وقت ہے جو ۱۲؍بجے کے بعد کا ہے جب سورج نصف النہار سے اترنا شروع ہو جاتا ہے اور جس میں نماز ظہر کی ادائیگی فرض ہو جاتی ہے۔ تفسیر قرطبی کے مطابق حضراتِ عمرو، عبداللہ  بن عمر، ابوہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے علاوہ علمائے تابعین رحمہم اللہ کی ایک جماعت اسی موقف کی حامی ہے۔ ’’غسق اللیل‘‘ سے مراد گہری رات ہے جب عشاء کی نماز فرض ہوتی ہے۔    امام مالک رحمہ اللہ نے مؤطا میں لکھا ہے کہ جب شفق غائب ہو جائے تو مغرب کا وقت نکل جاتا ہے اور عشاء کا وقت داخل ہو جاتا ہے۔ گویا کہ  دلوک الشمس  سے لے کر  غسق اللیل  تک کے وقت سے مراد ۴؍نمازیں ہیں جبکہ ’’قرآن الفجر ‘‘سے مراد صبح کی نماز ہے۔ چونکہ صبح کی نماز میں قرآن پاک کی طویل تلاوت کا حکم ہے اسلئے اسے قرآن الفجر  کہا گیا ہے۔
    ہر چند کہ یہ پانچوں نمازیں وہ گلدستہ ہیں جن کے ہر پھول کی اپنی خوشبو ہے مگر فجر کی نماز کا مقام ِشرف یابی بلند تر ہے۔ اس ملکوتی وقت میں بیدار مغز ہی بیدار ہوتے ہیں کہ یہ وقت کشائشِ رزق اور آسودگی کا باعث ہے۔ صبح کے وقت عبادت کا اپنا لطف ہے کیونکہ ہر طرف یک گونہ یکسوئی، اطمینان اور سپیدۂ  سحر کے نور آگیں لمحات بکھرے ہوتے ہیں۔  
    صاحبِ تفہیم القرآن اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:’’  فجر کے قرآن سے مراد فجر کی نماز ہے۔ قرآن مجید میں نماز کیلئے کہیں تو صلوٰۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور کہیں اسکے مختلف جزاء میں سے کسی جزو کا نام لے کر پوری نماز مراد لی گئی ہے مثلاً  تسبیح، حمد، ذکر، قیام، رکوع، سجود وغیرہ۔اسی طرح یہاں فجر کے وقت قرآن پڑھنے کا مطلب محض قرآن پڑھنا نہیں بلکہ نماز میں قرآن پڑھنا ہے۔ اگرچہ فرشتے ہر نیکی اور عمل کے گواہ ہیں مگر صبح کی نماز میں قرأت کے خصوصی طور پر شاہد ہیں۔‘‘  سورہ ہود، آیت نمبر ۱۱۴؍ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
’’ نماز قائم کرو دن کے دونوں کناروں پر (یعنی فجر اور مغرب) اور کچھ رات گزرنے پر (یعنی عشاء ) ۔‘‘
سورہ قؔ کی آیت نمبر ۳۹؍ میں ارشاد ربانی ہے:
’’اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو، طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے ۔
    اسی طرح سورہ الروم کی آیات نمبر ۱۷؍ اور ۱۸؍ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’پس تسبیح کرو اللہ کی جبکہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔ آسمانوں اور زمین میں اُسی کیلئے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے پہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔‘‘
آیت کریمہ میں حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ میں مغرب اور صبح کی نمازیں آتی ہیں۔
    تفسیر معارف القرآن میں لکھا ہے: ’’قرآن الفجر سے مراد صبح کی نماز اور نماز میں پڑھی جانے والی تلاوت ہے جس کی فجر کی نماز میں طوالت کی تاکید آئی ہے۔ پانچویں نماز فجر کا علاحدہ سے ذکر کرنا اس بات کی دلالت ہے کہ نماز فجر پانچوں نمازوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔
    صبح کے وقت قرآن پڑھنے کو ’’مشھوداً‘‘  کہا گیا ہے۔ لفظ  مشھوداً  شہادت سے نکلا ہے یعنی حاضر ہونا۔ چونکہ صبح کے وقت رات اور دن، دونوں وقت کے فرشتوں کی حاضری ہوتی ہے اس لئے اس کو  مشھوداً  کہا گیا ہے۔ اس آیت میں پانچوں نمازوں کا حکم اجمالاً آیا ہے۔‘‘
    صبح کی نماز کے وقت کی ایک خاص بزرگی، بڑائی اور قدرو منزلت ہے۔ نور کے تڑکے کا یہ وقت ایک نئے دن کی شروعات اور آغازِکار کا وقت ہے۔ گویا ایک نئے دن کی زندگی کا پیش لفظ یا ابتدائیہ ہے۔ ایک طرف بقول احمد ندیم قاسمی ’’ستاروں کو بجھایا جا رہا ہے‘‘تو دوسری طرف نئے دن کا نیا سورج افق پر جلوہ فرما ہورہا ہوتا ہے  لہٰذا ایسے باسعادت اور متبرک وقت قرآن پاک کی تلاوت زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ عام مسلمان کو چاہئے کہ اس برگزیدہ وقت میں نہ صرف یہ کہ نماز فجر میں قرآن پاک کی بھرپور تلاوت کرے بلکہ نماز کے علاوہ بھی اس وقت قرآن پاک پڑھنا اپنا معمول بنا لے کیونکہ اس وقت رات اوردن دونوں وقتوں پر مامور فرشتے گواہ ہوتے ہیں اور بارگاہ الٰہی میں تلاوت کی شہادت دیتے ہیں۔ سورج کی ضو ریزی(سورج کی روشنی پھیلنے ) سے پہلے صبح کاذب کی سحر خیزی اور صبح صادق کی عطر بیزی  میں گندھا ہوا یہ وقت ایک  مبارک گھڑی ہے۔ 
حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:  ’’اس وقت رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔‘‘(راوی سیدنا ابو ہریرہؓ)
    تفسیر معارف القرآن میں ہے 
    ’’تمام عبادتوں میں سب سے افضل عبادت نماز ہی ہے۔ قرآن الفجر سے مراد ہے فجر کی نماز میں طویل قرأت کی جائے چنانچہ فجر کی نماز میں دیگر نمازوں حتیٰ کہ جمعے سے بھی زیادہ تلاوت کرنی چاہئے۔‘‘ 
    سنن ترمذی کی حدیث ہے :’’فجر اور عصر کی نماز میں رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں چنانچہ جب وہ اوپر جاتے ہیں تو اللہ تعالی پوچھتے ہیں کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا۔ اس پر فرشتے بتاتے ہیں کہ جب ہم گئے تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم نے ان کو چھوڑا تب بھی نماز پڑھ رہے تھے۔‘‘
    قرأت ہر نماز کا لازمی جزو ہے اور فجر کی نماز میں سب سے زیادہ تلاوت کرنی چاہئے۔ صلوٰۃ فجر کی تعبیر قرآن الفجر سے کی گئی ہے۔ بے شک فجر کی نماز فرشتوں کے حاضر ہونے کا وقت ہے۔ چونکہ نماز فجر بیداری کے عالم میں نہیں بلکہ حالت نوم میں آتی ہے اور اس کے لئے خصوصی اہتمام اور مشقت کرنی پڑتی ہے اس لئے اس کا خاص اہمیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
     فرشتے عصر اور فجر دونوں نمازوں میں مجتمع ہوتے ہیں مگر فجر کا ذکر اسلئے ہے کہ یہ وقت زیادہ شاق، کٹھن اور عام آدمی کیلئے بالعموم  ناگوارِ خاطر ہے۔ احادیث میں ارشاد ہے:’’ رات اور دن کے فرشتے آگے پیچھے آتے ہیں۔‘‘
    نماز ام العبادات المقربہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی عبادات میں سے نماز سب سے اہم عبادت ہے۔ تفسیر اسرار تنزیل میں لکھا ہے:
’’ عبادت سے قرب الٰہی اور تائید ِ باری نصیب ہوتی ہے اور تائید باری ہی مصائب کا حل اور دشمنوں سے حفاظت کا اعلیٰ ترین ذریعہ ہے لہٰذا قائم کیجئے صلوٰۃ کو دن ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک اور علی الصباح بھی عبادات اور نماز میں قرآن پڑھیں کہ علی الصباح قرآن کی تلاوت نماز میں روبرو ہونے کے برابر ہے کہ شب کی رخصتی کے بعد پہلا کام اللہ جل جلالہ کے حضور حضوری کا نصیب ہو جو آئندہ دن بھر اور دوسری صبح تک برکات کا سبب بنتا ہے۔‘‘
     اگرچہ مفسرین اور شارحین ِقرآن کا اس بات پر اجماع ہے کہ مذکورہ آیت میں ’’قرآن الفجر‘‘سے مراد فجر کی نماز میں قرآن پاک پڑھنا ہے تاہم نماز کے علاوہ بھی صبح کے اوقات میں قرآن پاک پڑھنے کی سعادت اور فضیلت دوسرے اوقات سے زیادہ ہے۔ 
 تفسیر جواہر القرآن میں مذکورہ آیت کے حوالے سے لکھا ہے: ’’آیت میں تلاوت قرآن کا ذکر ہے۔‘‘    اسی طرح تفسیر جالندھری میں لکھا : ’’سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک نمازیں اور صبح کے وقت قرآن پڑھو کیونکہ صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور ملائکہ ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK