اسی اہمیت کے باعث خاندان کی بقا اور تحفظ کو شریعت کے بنیادی مقاصد میں شمار کیا گیا ہے اور ایک مکمل شعبہ عائلی نظام کے نام سے وجود میں لایا گیا ہے
EPAPER
Updated: December 23, 2022, 11:52 AM IST | Masood Ejazi | Mumbai
اسی اہمیت کے باعث خاندان کی بقا اور تحفظ کو شریعت کے بنیادی مقاصد میں شمار کیا گیا ہے اور ایک مکمل شعبہ عائلی نظام کے نام سے وجود میں لایا گیا ہے
خاندان معاشرے کا سب سے اہم اور بنیادی عنصر ہے۔ معاشرے کی ترقی اور نشوونما کا انحصار جہاں خاندان پر ہے، وہاں معاشرے کی خرابی اور انتشار کا ایک بڑا سبب بھی خاندان ہی ہوتا ہے ۔ دراصل خاندان، معاشرے کی اساسی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی سے معاشرے وجود میں آتے ہیں۔ اس لئے جس قدر خاندان کی اکائی مضبوط اور مستحکم ہو گی، اسی قدر معاشرہ اور ریاست مضبوط اور مستحکم ہوں گے، اور جس قدر خاندان کا یونٹ خراب اور منتشر ہوگا، تو وہ معاشرہ بھی اسی قدر خرابی کا نمونہ ہوگا۔
خاندان کی اسی اہمیت کے باعث خاندان کی بقا اور تحفظ کو شریعت کے بنیادی مقاصد میں شمار کیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا ایک مکمل شعبہ عائلی نظام کے نام سے وجود میں لایا گیا ہے۔ اسی طرح قرآن میں ایک بڑا حصہ عائلی نظام کو نظم و ضبط میں لانے کیلئے رہنمائی دیتا ہے۔ ’خاندان‘ اسلامی تہذیب و معاشرت کا سب سے بڑا ادارہ ہے، جس کو مسلم معاشرے کے ستون کی حیثیت حاصل ہے۔
اسلام نے ہی یہ شعور دیا ہے کہ اولاد اگر صالح ہوتو یہ ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے۔ اسی مناسبت سے دین و شریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں، اسی طرح اولاد کے والدین پر حقوق ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے، ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے۔ اس کے برعکس ان کو زمانے کے رحم و کرم پر آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی برتنا اُمت کے مستقبل سے ایک بدترین خیانت ہے۔
کتاب وسنت میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے، اور ان کے حقوق میں کوتاہیوں سے بچا جائے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت، اولاد ہے ۔ اور پھر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے، تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بن جاتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑجائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے، تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔اپنی اولاد کی تربیت کے معاملے میں سردمہری کا مظاہرہ کرنے والوں کو کل قیامت کے روز جوکربناک صورت حال پیش آسکتی ہے ، اس سے اہل ایمان کومحفوظ رکھنےکےلئے اللہ تعالیٰ نے متنبہ کردیا ہے، تاکہ وہ اپنی فکر کےساتھ ساتھ اپنے اہل و عیال اوراپنی آل اولاد کوعذاب الٰہی میں گرفتار ہونے اور دوزخ کا ایندھن بننے سے بچانے کی بھی فکرکریں۔
اس یاد دہانی کی تو ضرورت ہی نہیں ہو نی چاہئے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے خاندان کے مقاصد بہت بلند اور اہم ہیں، اس لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نصف دین قرار دیا ہے۔ ہر مسلمان کو نیکی کی ابتدا اپنے گھر سے کرنے کی ہدایت ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔‘‘ (التحریم:۶)
حضرت عبداﷲ ابن عمرؓ فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، مفہوم:تم میں سے ہر شخص نگہبان اور ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کے زیرکفالت و زیرنگرانی افراد سے متعلق پوچھ گچھ ہوگی۔ امام بھی راعی اور ذمہ دار ہے۔ اور یہ کہ اس سے اس کی رعیت کے بارے میں بازپُرس ہوگی۔ آدمی بھی اپنے گھر کا حاکم ہے اور اس سے بھی زیر دست افراد کے متعلق سوال ہوگا۔ عورت بھی اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے۔ اس سے بھی اس کے زیرنگرانی امور کے بارے میں بازپُرس ہوگی۔ (بخاری ، مسلم)
l بچّے کی پہلی درس گاہ: اسلام نے نکاح کو خاندان کی بنیاد بنایا ہے، کیوں کہ اسلام ایک خاندان کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنا چاہتا ہے، چنانچہ وہ اس بنیاد کو خالصتاً خلوص، محبت، پاکیزگی، دیانت داری اور مضبوط معاہدے پر استوار کرنے کا حکم دیتا ہے۔سورۂ روم ، آیت ۲۱؍ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی ۔‘‘
معاشرے کی پہلی درس گاہ، پہلا ادارہ اور پہلا مدرسہ خاندان ہی ہوتا ہے، جہاں بچے اخلاق، اقدار، عادتیں اور روایات سیکھتے ہیں۔ یہاں بچوں کی منفی یا مثبت شخصیت پروان چڑھتی ہے۔ بلاشبہ معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ بچے ہی ہوتے ہیں۔ لہٰذا، اس سلسلے میں ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی تربیت ، ترقی، تعلیم اور ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کیلئے حتی الامکان کوششیں کریں۔ یقیناً ہر خاندان اپنے گھر کے بچوں کے حوالے سے فکر مند ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود بعض خاندانوں میں غفلت یا ناواقفیت کی وجہ سے بعض ایسی خامیاں رہ جاتی ہیں، جو بچوں کی نفسیات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس لئے ان خامیوں کی جانب اشارہ کرنا ضروری ہے، تاکہ مسلم معاشرے کا ہر خاندان، مثالی خاندان ثابت ہو۔
چونکہ بچوں کی تربیت کے لئے پہلی درس گاہ ماں اور باپ ہوتے ہیں، اس لئے ان دونوں کا اس بات پہ متفق ہونا ضروری ہے کہ بچوں کے سامنے خود اُن دونوں کا باہم، ایک دوسرے کی عزّت کرنا ضروری ہے، اور ایک دوسرے کی بات سننا ضروری ہے۔ بچہ سب سے زیادہ دیکھ کر سیکھ رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا، پہلے تو والدین اور ساتھ رہنے والوں کو، جیسے مشترکہ خاندانی نظام ہے، اُس میں رہنے والے تمام بڑوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ بچہ وہی سب کچھ مستقبل میں کرے گا، جو وہ اُن کے عمل اور رویوں میں دیکھ رہا ہے۔ خواہ آپ اس کو کتنا بھی کسی بات سے کیوں نہ روک لیں، جو اس نے دیکھا ہے، وہی کرنا اس کی فطرت کا ناگزیر تقاضا ہے۔ یوں بھی بچے کو، جس بات سے مسلسل روکا جارہا ہوتا ہے، وہ اس کے لئے تجسس کا سبب بن جاتی ہے اور وہ اپنے تجسس کی تسکین یا کھوج کے لئے اس عمل کو دہراتا ہے۔بچوں کی تعلیم کا ایک اہم دائرہ وہ تربیت ہے، جو انہیں اپنے خاندان سے حاصل ہوتی ہے۔