Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال میں اسمبلی الیکشن کا نتیجہ کچھ بھی آئے جمہوریت بری طرح شرمسار ہورہی ہے

Updated: April 27, 2026, 4:50 PM IST | Asim Jalal | Mumbai

غیر معمولی تبادلے، ایس آئی آر کے نام پر لاکھوں  افراد کی حق رائے دہی سے محرومی اور انتخابی مہم کے دوران ملک کے قائدین کی تقریروں  میں  جمہوری اخلاق کی پامالی ہی کیا کم تھی کہ مرکزی نیم فوجی دستوں  کی تعیناتی کے ذریعہ تاثر دیا جارہاہے کہ جیسے الیکشن نہیں  مغربی بنگال پر یلغا ر ہوگئی ہو۔

CRPF deployment in Muslim-majority Malda, 2.5 lakh central force personnel deployed in Bengal in the current elections. Photo: INN
مسلم اکثریتی علاقے مالدہ میں سی آر پی ایف کی تعیناتی، موجودہ الیکشن میں بنگال میں مرکزی فورس کے۲ء۵؍ لاکھ جوان تعینات ہیں۔ تصویر: آئی این این

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی خاص بات یہ ہے کہ بی جےپی اور مرکزی حکومت کی کھلی جانبداری کے سنگین الزامات اور پارلیمنٹ میں  ان کے خلاف تحریک مواخذہ کا نوٹس تک پیش کردیئے جانے کے باوجود وہ کبھی اس بات کی کوشش بھی نہیں  کرتے کہ غیر جانبدار نظر آجائیں۔ بہار سے لے کر مغربی بنگال تک اس کی مثالیں   موجود ہیں۔ ان کی قیادت میں  الیکشن کمیشن مودی کے خلاف کھرگے کے بیان پر بی جےپی کی شکایت سے قبل ہی نوٹس لے کر جواب طلب کرلیتا ہے مگر اس سے بہت پہلے عین انتخابی مہم کے دوران قوم کے نام وزیراعظم کے خطاب میں اسے ضابطہ اخلاق کی کوئی خلاف ورزی نظر نہیں  آتی۔ 
۵؍ ریاستوں  میں  بیک وقت انتخابات کی تاریخوں   کا اعلان ہوتا ہے مگر تبادلے صرف مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں  ہوتے ہیں۔ مغربی بنگال میں  جس بڑے پیمانے پر تبادلے کئے گئے اس کی مثال آزاد ہندوستان کی تاریخ میں  نہیں  ملتی۔ انتخابی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی ۲۴؍ گھنٹوں   کے اندر اندر چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی سمیت کئی بڑے تبادلے کردیئے گئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ۲؍ اپریل تک صرف مغربی بنگال میں  ۴۸۳؍ تبادلے ہوچکے تھے جبکہ اس کےمقابلے میں  بقیہ ۴؍ ریاستوں  یعنی آسام، کیرالا، پڈوچیری اور تمل ناڈو میں   مجموعی طو رپر ۲۳؍ تبادلے کئے گئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بنگال و یوپی میں لاکھوں ووٹروں کے نام حذف، حد بندی پر اخبارات کی حکومت پر تنقید

اتنا ہی نہیں  پہلے مرحلے کی پولنگ سے عین قبل ٹی ایم سی کے ۸۰۰؍ بااثر کارکنوں کو ’’مسائل پیدا کرنے کے اندیشہ‘‘ کی بنیاد پر گرفتار کرنے کا حکم جاری کردیا گیا تھا جسے کولکاتا ہائی کورٹ میں چیلنج کیاگیا اور ممتا بنرجی کی پارٹی کو راحت ملی۔ ۲۹؍ اپریل کو دوسرے اور آخری مرحلے کی پولنگ سے قبل موٹر سائیکلوں کی نقل وحرکت ممنوع کردی گئی، معاملہ بھی جب ہائی کورٹ پہنچا تو عدالت نے جھنجھلا کر سوال کیا کہ ’’کیا بنگال میں ایمرجنسی نافذ ہوگئی ہے؟‘‘ عدالت نے الیکشن کمیشن سے یہ تک پوچھ لیا کہ دیگر ریاستوں   میں  اس طرح کی پابندیوں کی کوئی مثال پیش کی جاسکتی ہے؟ الیکشن کمیشن کے رویہ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ جن کے نام ایس آئی آر میں کٹ گئے ہیں، پہلے مرحلے کی پولنگ سے ایک روز قبل پولیس ان کے گھر پہنچی اورانہیں  متنبہ کیاگیا کہ وہ غلطی سے بھی پولنگ بوتھ کے آس پاس نظر نہ آئیں۔ 
۲۰۲۴ء کے لوک سبھاالیکشن میں سینٹرل آرمڈ پولیس فورس(سی اے پی ایف ) جس میں سی آر پی ایف، بی ایس ایف، سی آئی ایس ایف، انڈوتبتن بارڈر پولیس، ایس ایس بی، این ایس جی اور آسام رائفلز سب کا شمار ہوتا ہے، کے پورے ملک میں  ۳ء۵؍ لاکھ جوان تعینات کئے گئے تھے مگر موجودہ الیکشن میں صرف بنگال میں سی اے پی ایف کے۲ء۵؍ لاکھ جوان تعینات ہیں۔ یعنی ہر ۱۰۰؍ افراد پر ایک پولیس اہلکار۔ چپے چپے پر وردی پوش جوانوں  کی موجودگی اور بکتر بند گاڑیوں  کی نقل وحرکت کو دیکھتے ہوئے تجزیہ نگار یہ کہنے پر مجبور ہیں  کہ ایسا لگتا ہے کہ اسمبلی الیکشن نہیں   ہورہا ہے بلکہ بنگال پر یلغار ہوگئی ہے۔ 
الیکشن کمیشن کو بنگال پولیس پرشاید اسلئے بھروسہ نہیں کہ وہ ریاست کی ٹی ایم سی حکومت کی طرفداری کرسکتی ہے مگر مرکزی نیم فوجی دستوں پر پورا بھروسہ ہے جن کی کمان مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے پاس ہے اور جنہوں   نے بنگال میں  بی جےپی کی انتخابی مہم کی کمان بھی سنبھال رکھی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران الیکشن کمیشن کےرویے کو بی جے پی کی کھلی حمایت قرا ردیتے ہوئے کہا جارہاہے کہ اس مرتبہ بی جےپی کسی بھی صورت میں بنگال کو جیت لینے کیلئے بے قرار ہے۔ ۱۳۱؍ ویں   آئینی ترمیم کے ذریعہ نئی پارلیمانی واسمبلی حلقہ بندی کیلئے لوک سبھا کی منظوری حاصل کرنے میں  ناکام رہنے پر جو بی جےپی ’’خواتین ریزرویشن کے خلاف اپوزیشن کے رویہ‘‘ کا رونا رو رہی ہے وہی بنگال میں ملک کی واحد خاتون وزیراعلیٰ کو اقتدار سے بے دخل کرنے کیلئے سام، دام، دنڈ، بھید ہر طرح کا حربہ استعمال کررہی ہے۔ ملک کے قائدین انتخابی مہم میں  جس زبان اور لب ولہجے کا استعمال کررہے ہیں وہ ہر بار اخلاقی پستی کی نئی مثال قائم کرتا ہے۔ اس کے باوجود پہلے مرحلے کی پولنگ کےبعد جو اشارے مل رہے ہیں  وہ ممتا بنرجی کی چوتھی بار اقتدار میں  واپسی کے ہیں۔ خود زمین پرموجود ٹی ایم سی لیڈروں  کا اعتماد یہ ظاہر کرتا ہے، کہ انہیں اپنی واپسی کا پختہ یقین ہے۔ زمینی سطح پر موجود افراد بھی یہی بتا رہے ہیں  کہ نوئیڈا کے نیوز چینل جو چاہے ہوا بنائیں، بنگال میں  بی جےپی کے تعلق سے ماحول عوامی سطح پر ویسا بھی نہیں ہے جیسا ۲۰۲۱ء کے الیکشن میں تھا۔ بنگال میں  بی جےپی لیڈروں کو اپنی کامیابی اور حکومت سازی تک کا یقین ہے مگر ان کی ساری امیدیں ایس آئی آر اور مرکزی سیکوریٹی فورسیز کی تعیناتی سے وابستہ ہیں۔ شوبھندو ادھیکاری میڈیا سے گفتگو کے دوران خود اس کا اظہار کرچکے ہیں۔ ویسے یہ ذہن میں  رکھنا ضروری ہے کہ ۲۰۱۴ء کے بعد معرض وجود میں   آنے والے ’’نئے ہندوستان‘‘ میں  اشارے کچھ ملتے ہیں اور نتائج کچھ برآمد ہوتے ہیں، اس لئے اشاروں  پر بہت زیادہ بھروسہ بھی نہیں  کیا جا سکتا۔ البتہ اگر ٹی ایم سی اقتدار میں  واپسی کرتی ہے تو یہ بی جےپی اور اس کی مرکزی قیادت کیلئے ڈوب مرنے کا مقام ضرور ہوگا جس پر بنگال میں  اقتدار پر قبضہ کرنےکیلئے تمام آئینی اداروں کے وقار کو داؤ پر لگا دینے کا الزام ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بنگال: ایس آئی آرمیں ہٹائے گئے ناموں کے کچھ حیرت انگیز ’منطقی تضاد‘

بی جےپی اگر اپنی پوری طاقت جھونک دینے کے باوجود بنگال سے نامراد لوٹتی ہے تو اس کی سب سے نمایاں   وجہ ایس آئی آر ہوگی ۔ اس کے خلاف عوام کی ناراضگی واضح طو رپر نظر آرہی ہے۔ الیکشن کمیشن کا ہمیشہ سے نعرہ رہا ہے کہ انتخابی فہرست میں  شمولیت سے کوئی چھوٹنے نہ پائے مگر ایس آئی آر ۲۶ء میں  کمیشن کا طرز عمل یہ تاثر دے رہاہےکہ ووٹنگ کا حق اُس کے رحم وکرم پر ہے۔ اس معاملے میں بنگال کے شہریوں کو سپریم کورٹ سے بھی مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے۔ مجموعی طور پر بنگال میں انتخابات کے نتائج کچھ بھی آئیں، یہاں  جمہوریت نہ صرف شرمسار ہوئی ہے بلکہ بری طرح  شکست خوردہ نظر آتی ہے، ممتا بنرجی اپنی مقبولیت کی بنیاد پر اگر جیت بھی جاتی ہیں تب بھی یہ الیکشن ہندوستان کی تاریخ میں ایک فریق کے حق میں  سرکاری مشینری کے بے تحاشہ استعمال کے الزامات کے ساتھ یاد کیا جائےگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK