ذہن پر زور دینے پر بھی یہ یاد نہیں آتا کہ مودی نے کبھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہویا میڈیا کے سوالوں کا سامنا کیا ہو، یہ کیسی روایت وہ قائم کررہے ہیں ؟
EPAPER
Updated: April 27, 2026, 4:49 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai
ذہن پر زور دینے پر بھی یہ یاد نہیں آتا کہ مودی نے کبھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہویا میڈیا کے سوالوں کا سامنا کیا ہو، یہ کیسی روایت وہ قائم کررہے ہیں ؟
گزشتہ ۱۲؍ برسوں (۲۰۱۴ء سے۲۰۲۶ء) کے درمیان اتنا تو واضح ہوگیا کہ وزیر اعظم مودی خطاب کرتے ہیں، جواب نہیں دیتے، تقریر کرتے ہیں ، گفتگو نہیں کرتے، احکامات جاری کرتے ہیں ، سوالوں کے جواب نہیں دیتے۔ تقریر و خطاب کیلئے اپنا خصوصی اہم وقت جو انہوں نے طےکررکھا ہے وہ رات ۸؍بجےسے ساڑھے ۸؍ بجے کے درمیان ہے۔ جب انہیں اس وقت خطاب کرنا ہوتا ہےتب پہلے سےاعلان عام کیاجاتا ہے۔ اس اعلان میں بس خطاب کی اطلاع ہوتی ہے، اس میں کوئی وضاحت نہیں ہوتی کہ کس موضوع پر خطاب کرنے والے ہیں۔ عوام تجسس میں رہتے ہیں اور اس وقت تک تجسس باقی رہتا ہے جب تک وزیر اعظم ٹیلی ویژن پر نمودار نہیں ہو جاتے۔ ایسے چند نمایاں خطابات میں سے ایک ۸؍ نومبر۲۰۱۶ء کا ہےجب نوٹ بندی کا اعلان کیاگیاتھا، ایک ۲۴؍ مارچ ۲۰۲۰ء کا ہے جب لاک ڈاؤن کا اعلان کیاگیا تھا، ایک ۱۲؍ مئی ۲۰۲۰ء کا ہےجب آتم نربھر بھارت کیلئے ۲۰؍ لاکھ کروڑ کے معاشی پیکیج کا اعلان کیاگیا تھا اور آخری مرتبہ وہ گزشتہ سنیچر (۱۸؍ اپریل)کوٹیلی ویژن پرآئے اور پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل نا منظور ہونے پرقوم سےمعافی مانگی اور اس کیلئے اپوزیشن کو ذمہ دار قراردیا۔
وزیر اعظم مودی یوم آزادی پرخطاب کرنے میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کا ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔ یوم آزادی کے موقع پر انہوں نے مسلسل ۱۲؍ مرتبہ خطاب کیا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے ماہانہ ریڈیو پرو گرام ’ من کی بات ‘ کے وہ اب تک ۱۳۲؍ ایڈیشنوں سے خطاب کر چکے ہیں ۔ ۲۶؍ اپریل یعنی آج اس پروگرام کا یہ ۱۳۳؍ واں ایڈیشن ہو گا۔ ان خطابا ت کا پس منظرالگ الگ ہوتا ہے، نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ مثال کے طورپر یوم آزادی پر وزیر اعظم لال قلعے یعنی ایک اسٹیج سے خطاب کرتے ہیں اورملک کی تاریخ اور ترقی کو موضوع بناتے ہیں، پارلیمنٹ میں جب کبھی خطاب کرتے ہیں تو اپنی سیٹ سے خطاب کرتے ہیں اور اپوزیشن کے ذریعے اٹھائے گئے کسی موضوع کا جواب دے رہے ہوتے ہیں، ’من کی بات‘میں وہ آل انڈیا ریڈیوکے ذریعے عوام سے مخاطب ہوتے ہیں اورکوئی اہم واقعہ، حکومت کی کوئی مہم اورکسی فرد یا گروہ کی کہانی بیان کرتے ہیں اوررات ۸؍بجے کے کسی خصوصی خطاب میں وہ ٹیلی ویژن پر سامنے آتے ہیں اور کسی غیر اعلانیہ موضوع پرگفتگو کرتے ہیں۔ بہر حال، ان میں ایک مشترک پہلو بھی ہے، وہ یہ کہ سارے خطابات یکطرفہ ہوتے ہیں، سوائے پارلیمنٹ میں کئے گئے کسی خطاب کے، کہ وہ ا پوزیشن کے اٹھائے گئے موضوع کے جواب میں ہوتا ہےیعنی کبھی پارلیمانی بحث کے آخر میں ہوتا ہے اورکبھی ابتدا میں بھی جس پر اپوزیشن کو جواب دینے اور احتجاج کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ان سبھی مواقع پر میڈیا کے ایک طبقے کا ان برسوں میں یہی اقدام دیکھنے میں آیا ہے کہ اس نے بس نشرواشاعت کی ذمہ داری نبھائی ہے۔ یہ جانبدار طبقہ ہے جوحکومت کے خلاف نہیں جاسکتا، وزیر اعظم کی کہی بات کوٹال نہیں سکتا۔ دوسرا طبقہ غیر جانبدار ہے جو بس وزیراعظم پر تنقید کرکے رہ جاتا ہےکیونکہ تنقیدکےعلاوہ اسے کچھ کرنے کا متبادل ہی نہیں ملتا۔ یہاں متبادل سے مراداس کی وہ جمہوری نوعیت بھی ہے جو اسے چوتھے ستون کی حیثیت دیتی ہے۔ یہ حیثیت اسے ایک بہت اہم حق عطا کرتی ہےجس کا تعلق سوال کرنے سے ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کتابوں سے رفاقت اسرار زیست کی آگہی عطا کرتی ہے
اب وزیر اعظم کے ان یکطرفہ خطاب کے نتیجے میں ہوا یہ ہےکہ میڈیا کی چوتھے ستون کی حیثیت ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ ان برسوں میں اس موضوع پرسیکڑوں بارکہا اورلکھا گیا ہوگا لیکن اب جو بات کھل کر سامنے آچکی ہے وہ یہی ہےکہ یہ ’یکطرفہ ‘طریق کاراختیار ہی اس لئے کیاجارہا ہےکہ میڈیا کی یہ حیثیت ختم تو ہو ہی جائے، اس کے ساتھ فراموش بھی کردی جائے۔ میڈیا کے نمائندوں سے دوبہ دواو رروبہ رووزیر اعظم مودی ان برسوں میں کبھی نہیں ہوئے۔ ذاتی طورپریہ یاد نہیں آتاکہ مذکورہ طریقوں سے خطاب کے علاوہ وزیر اعظم نے کبھی کسی پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہو۔ ان کے ہم عصرامریکی صدر ٹرمپ اپنے آمرانہ فیصلوں اور اقدامات کیلئے بدنام ہیں لیکن دیکھا گیا ہےکہ کسی ملک کا دورہ کرنے سے پہلے یا کسی اہم موقع پروہ اپنے خصوصی طیارے میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہیں ، ان کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں۔ یہ سوال وجواب بھلے ہی رسمی ہوتا ہو لیکن امریکی صدر نے میڈیا سے براہ راست گفتگو کرنے روایت تو باقی رکھی ہے۔ وزیر اعظم مودی کے یہاں تواس روایت کی معمولی پاسداری بھی نظر نہیں آتی۔ یہاں سب کچھ یکطرفہ کردیاگیا اور اتنی منصوبہ بندی سے کیاگیا ہے میڈیاکے بڑے طبقے کو اپنا ہم نوابنالیاگیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خواتین کیلئے ریزرویشن اُسی وقت با معنی ہوگی جب سبھی کو یکساں مواقع ملیں گے
اب حکومت سے جو سوالات ہوتے ہیں، جو تنقیدیں ہوتی ہیں اسے کسی بات پر جو نشانہ بنایاجاتا ہے، وہ سوشل میڈیا پر ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پرحکومت تنقیدوں کی زد پر رہتی ہےلیکن اس راستے سے یہ بھی یکطرفہ ہی معلوم ہوتاہےکیونکہ اس پر بھی براہ راست حکومت کے نمائندوں کے ذریعے کوئی جواب نہیں دیاجاتا بلکہ یہاں حکومت نے اپنے آئی ٹی سیل کو مامور کررکھا ہے۔ یہ راست سوالات سے بچنے کا طریقہ جو وزیر اعظم مودی نے اختیار کر رکھا ہے، یہ حکومت پر بھاری پڑسکتا ہے کیونکہ اس کا ر د عمل سوشل میڈیا پر شدید ہوتا ہے۔ وزیر اعظم مودی جس نسل کے ہاتھوں میں حکومت کی کمان سونپیں گےوہ نئی نسل ہوگی جو سوشل میڈیا پر موجود ہےاور اب حالات یہ ہیں کہ میڈیا بھی بیشتر معاملات میں سوشل میڈیا پر منحصرنظر آتا ہےاور مستقبل میں سوشل میڈیا سے اٹھنے والے سوالات نہ میڈیا سے چھپے رہ سکیں گے اورنہ خود حکومت ان سے بچ سکے گی۔