ایک سابق چیف الیکشن کمشنر نے ’منطقی تضاد‘ کیلئے طے کئے گئے ان معیارات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق ’’ایس آئی آر میں اس کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہ غیر منطقی ہے۔
EPAPER
Updated: April 27, 2026, 4:48 PM IST | Damani Nath, Ravik Bhattacharya, Uttar Mitra | Mumbai
ایک سابق چیف الیکشن کمشنر نے ’منطقی تضاد‘ کیلئے طے کئے گئے ان معیارات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق ’’ایس آئی آر میں اس کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہ غیر منطقی ہے۔
۵۵؍ سالہ خاتون سُکلا ہازرا کا نام۲۰۰۲ء کی انتخابی فہرست میں موجود ہے۔ ان کے پاس پاسپورٹ بھی ہے جو دسمبر۲۰۲۸ء تک ویلڈ(قابل استعمال) ہے۔
۵۶؍سالہ امیرون بیگم علی اور ان کی بہوؤں عارفہ بیگم شیخ(۳۵؍سال) اور شاہدہ خاتون(۲۹؍ سال) نے بھی ۲۰۰۲ء کی فہرست سے اپنے تعلق کا ثبوت پیش کیا۔ شاہدہ نے تو ۲۰۰۲ء کی فہرست میں اپنے داداکا نام ہونے کا ثبوت پیش کیا۔
۳۹؍سالہ سبرنا منڈل نے۲۰۰۲ء کی انتخابی فہرست پیش کی جس میں ان کے والدین اور دادا دادی کے نام موجود تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنا پیدائشی سرٹیفکیٹ اور دسویں جماعت کا ایڈمٹ کارڈ بھی جمع کرایا۔
اس کے باوجود، سُکلا، امیرون، عارفہ، شاہدہ اور سبرنا کے نام مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے کاٹ دیئے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے انہیں ’منطقی تضاد‘ (لاجیکل ڈسکری پینسی ) کے زمرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ ایسا زمرہ ہے جسے اس سے پہلے کسی ریاست میں ایس آئی آر کے دوران اتنے بڑے پیمانے پر استعمال نہیں کیا گیا۔
یہ سب اس سچائی کے باوجود ہوا کہ ان افراد نے کامیابی کے ساتھ ۲۰۰۲ء کی فہرست سے اپنی میپنگ کروائی ہے۔ ووٹر لسٹ میں نام کو رکھنے کیلئے میپنگ کو خود الیکشن کمیشن آف انڈیاکو بنیادی شرط بنایا ہے۔ ۲۳؍اپریل کے پہلے مرحلے کی پولنگ مکمل ہوچکی ہےا ور ۲۹؍ اپریل کی پولنگ کیلئے بھی بہت دن نہیں بچے ہیں۔ ’منطقی تضاد ‘ کے نام پر حذف ہونے والے لاکھوں ناموں میں مذکورہ بالا نام چند مثال ہیں۔
مغربی بنگال میں ’ایس آئی آر‘ کے تعلق سے اپنے تازہ حکم میں سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ ان ’لاجیکل ڈسکری پینسی ‘ کے نام پر جن ۲۷ء۱۰؍ لاکھ افراد کے نام کاٹے گئے ہیں، انہیں ایک آخری موقع دیا جائے۔ اس کیلئے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی گئی ہےکہ وہ پولنگ سے قبل مذکورہ افراد کی ضمنی فہرستیں جاری کرے جن کے نام ’لاجیکل ڈسکری پینسی ‘کی بنیاد پر کٹے تھےمگر ٹریبونل میں شنوائی کے بعد ان کی بحالی کا حکم دیا جاتا ہے۔ ۲۳؍ اپریل کی پولنگ کیلئے ۲۱؍ اپریل اس کیلئے آخری تاریخ مقرر کی گئی تھی جبکہ ۲۹؍ اپریل کی پولنگ کیلئے ضمنی فہرست جاری کرنے کی آخری تاریخ ۲۷؍ اپریل ہے۔ پہلے مرحلےکی پولنگ سے قبل ۲۷؍ لاکھ اپیلوں میں سے ٹریبونل نے صرف۵۰۰؍اپیلیں ہی سماعت کیلئے منظور کیں اوران میں سے صرف ۱۳۷؍ ووٹرس کے نام ہی ۲۱؍ اپریل کو جاری ہونےوالی ضمنی یا اضافی لسٹ میں شامل کئے گئے۔
’منطقی تضاد‘ یا ’لاجیکل ڈِسکری پینسی ‘ کا تعین مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے پہلے مرحلے کی تکمیل اور دسمبر میں ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے شائع ہونے کے بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا نےایک مخصوص الگورتھم کے ذریعہ کیا ہے جس کا کنٹرول کمیشن کی مرکزی اکائی کے پاس ہے۔ الگورتھم نے مجموعی طور پر ۱ء۳۶؍ کروڑ ناموں کو چھانٹا جن میں سے ۶۰ء۰۶؍ لاکھ ناموں کو’تصفیہ طلب ‘ قرار دیاگیا اور بقیہ کا نمٹارا نوٹس کی مدت میں ہی کردیاگیا۔ جن ۶۰ء۰۶؍ لاکھ ناموں کو تصفیہ طلب قرار دیاگیاتھا، جانچ کے بعد ان میں سے ۲۷ء۱۰؍ لاکھ ناموں کو حذف کردیاگیا اور بقیہ کو الیکٹورل لسٹ میں بحال کردیاگیا۔ اب یہ ۲۷ء۱۰؍ لاکھ اپنا حق رائے دہی بحال کرنےکیلئے ٹربیونلز کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔
ان ناموں کے کٹنے کی مرکزی وجہ وہ ’منطقی تضاد‘ ہے جس کی نشاندہی الیکشن کمیشن کے الگورتھم نے کیا ہے۔ کچھ سابق چیف الیکشن کمشنرس اور سابق الیکشن کمشنرس نے حیرت کا اظہا رکیا ہے کہ’ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ‘ خود الیکشن کمیشن بھی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ جون ۲۰۲۴ءمیں جب اس نے بہار سے آغاز کرتے ہوئے پورے ملک کیلئے ’ایس آئی آر‘ کاپہلا حکم جاری کیا تھا اور پھر اکتوبر ۲۰۲۵ء میں جب اس نے ۱۲؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کا اعلان کیا، تب بھی’’لاجیکل ڈِسکری پینسی‘‘ کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اس بار بیشتر اخبارات نے اسرائیلی جارحیت، خواتین ریزرویشن اور مودی کو موضوع بنایا
اس کا ذکر پہلی بار اسی سال جنوری میں سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے ذریعہ داخل کئے گئے تحریری جواب میں آیا۔ کمیشن نے بتایاکہ اس کے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرس نے مختلف اقسام کے ’شناخت شدہ تضادات‘کی جانچ کیلئےنوٹس جاری کی ہیں۔ ان تضادات کو اُس نے اس طرح بیان کیا : موجودہ فہرست اور ۲۰۰۲ء کی فہرست میں ووٹر کے نام میں عدم مطابقت، ووٹر اور اس کے والدین کی عمروں میں ۱۵؍ سال یا اس سے کم یا ۵۰؍ سال سے زیادہ کا فرق، ووٹر اور اس کے دادا دادی کی عمر میں ۴۰؍ سال سے کم کا فرق اور کسی ایک شخص کی اولاد کے طور پر ۶؍یا اس سے زیادہ افراد کا اندراج۔
ایک سابق چیف الیکشن کمشنر نے ’منطقی تضاد‘ کیلئے طے کئے گئے ان معیارات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق ’’ایس آئی آر میں اس کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہ غیر منطقی ہے۔ الیکشن کمیشن کا مقصد ہمیشہ سےزیادہ سے زیادہ ووٹرس کے اندراج کو یقینی بنانا رہا ہے۔ ‘‘سابق الیکشن کمشنر اشوک لواسا کے مطابق’’ ماضی میں الیکشن کمیشن ڈپلیکیٹ ناموں (ایک ہی نام ایک سے زائد جگہ) کی جانچ کیلئے سافٹ ویئر کا استعمال کر چکا ہے لیکن تب بھی سافٹ ویئر نےجن ناموں کی نشاندہی کی انہیں متعلقہ افسر کے حوالے کیا جاتا تھا، وہ ووٹر کو نوٹس دیتا، سماعت ہوتی اور اپیل کا وقت دیا جاتا تھا اور متاثرہ شخص کے اشکالات کو طے شدہ وقت میں دور کیا جاتا تھا۔ ‘‘ بنگال میں ’منطقی تضاد‘ کے نام پرووٹروں کے نام ہی کاٹ دینے پر حیرت کا اظہار کرتےہوئے لواسا نے کہا کہ ’’جن ووٹرس کے نام کاٹے گئے، انہیں الیکشن سے قبل اپیل کا بروقت موقع تک نہیں دیا گیا۔ ‘‘لواسا کے مطابق ’’ یہ افسروں اور نوکر شاہوں کی نااہلی کےنتیجے میں ووٹر س سے ان کے حقوق کوغیر منصفانہ طریقے سےچھین لینے کے مترادف ہے۔ ‘‘
سابق چیف الیکشن کمشنر او پی راوت کے مطابق اگر ایک بھی شخص ’منطقی تضاد‘ کے نام پر غلطی سے ووٹر لسٹ سے باہر رہ جاتا ہے تو یہ’بہت سنگین‘ معاملہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’اس سے ایس آئی آر کا بنیادی مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ الیکشن کمیشن کا ہمیشہ یہ نعرہ رہا ہے کوئی ووٹر چھوٹنے نہ پائے۔ ‘‘
اتفاق سے بہار میں بھی الیکشن کمیشن کے مرکزی سافٹ ویئر نے کچھ نام نشان زد کئے تھے اور اس کے نتیجے میں ۹؍ہزار ۹۶۸؍نام کاٹے گئے تھے۔ دیگر ناموں کے کاٹے جانے کی وجوہات جیسے موت، غیر موجودگی یا منتقلی بتائی گئی تھیں مگر ان۹؍ ہزار ۹۶۸؍ افراد کے بارے میں کوئی معلومات خود الیکشن کمیشن نے بھی جاری نہیں کی۔
مغربی بنگال میں استعمال ہونے والے’منطقی تضاد‘ سے متعلق الگورتھم پر بھی الیکشن کمیشن خاموش ہے۔ ’انڈین ایکسپریس‘ ایسے کئی ووٹرس تک پہنچا جن کے پاس درست دستاویزات ہیں، ۲۰۰۲ء کی لسٹ سے ان کی میپنگ بھی ہو گئی ہے لیکن ان کے نام حذف کر دیئےگئے۔ مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج اگروال سے اس ضمن میں رابطہ اور جواب حاصل کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں جبکہ الیکشن کمیشن کے ایک سینئر افسرنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتےہوئے بتایا کہ’’تمام تصفیہ طلب معاملوں کو جوڈیشیل افسران نے دیکھا ہے۔ ان کے فیصلوں پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ کچھ معاملوں میں سماعت کے دوران پیش کئے گئے دستاویزات کادرست استعمال ہوا یا نہیں یہ جانچ طلب معاملہ ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: سرکاری اسکیموں سے فائدہ اُٹھانا ہماراحق ہے
بنگال میں ایس آئی آر کے بعد کاٹے گئے ناموں کیلئے’منطقی تضاد‘ کی ۱۰؍ حیرت انگیز مثالیں
’منطقی تضاد‘ درج ذیل ۱۰؍ معاملوں کی تفصیلات سے مزید سمجھا جاسکتاہے۔ یہ ان حلقوں کے نام ہیں جہاں ۲۹؍ اپریل کو ووٹنگ ہونی ہے یعنی اگر ٹربیونلز کے فیصلے ۲۷؍ اپریل سے پہلے آجاتے ہیں تو ان کےنام بحال ہوسکتے ہیں :
مثال نمبر ایک
نام: سُکلا ہازرا، ۵۵؍سال
منطقی تضاد:ووٹر اور والدین کے درمیان عمر کا فرق ۵۰؍ سال سے زیادہ۔
دستاویزات:انہوں نے۲۰۰۲ءکی ووٹر لسٹ جمع کرائی جس میں ان کا نام موجود ہے۔ سماعت کے وقت اپنا پاسپورٹ بھی پیش کیا جو دسمبر۲۰۲۸ء تک ویلڈ ہے۔
کیا ہوا ہوگا: ہازرا کے مطابق انہوں نے تقریباً ۵؍ سال پہلے اپنا ووٹر آئی ڈی درست کروانے کی عرضی دی تھی کیونکہ اگست۲۰۰۷ء میں جاری ہونے والے پرانے کارڈ میں ان کے نام کے املا میں غلطی تھی، سُکلا کو شکلا کردیا گیا تھا۔ مارچ۲۰۲۰ء میں ملنے والے کارڈ میں نام تو درست ہوا مگر تاریخ پیدائش غلط ہو گئی ۱۹۷۰ء کے بجائے۱۹۹۴ء ہوگئی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’’اس کی وجہ سے میرے والد کی عمر مجھ سے۵۰؍ سال زیادہ ہو گئی۔ یہ اُن (الیکشن کمیشن کےذمہ داران) کی غلطی ہے، لیکن میں در بدر بھٹک رہی ہوں۔ جب مجھے اس معاملے میں نوٹس ملا تو میں نے اپنے پاس موجود تمام دستاویزات جمع کرا د یئے، نیا اور پرانا دونوں شناختی کارڈ، درست تاریخ پیدائش والا پاسپورٹ، شوہر کا پنشن آرڈر، ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ اور یہاں تک کہ۱۹۹۳ء کی شادی کا دعوت نامہ بھی فراہم کیا۔ میں ۱۹۹۴ء میں کیسے پیدا ہو سکتی ہوں جبکہ میری شادی۱۹۹۳ء میں ہوئی تھی؟‘‘
مثال نمبردو
نام: منویارا بی بی، ۳۶؍ سال
منطقی تضاد: اپنے نام کی ۲۰۰۲ء کی لسٹ میں موجود والدین کے نام سے میپنگ کروادی ہے مگر منطقی تضاد یہ ہے کہ دیگر ۶؍ افراد نے بھی، انہیں اپنے والدین قرار دے کر میپنگ کروائی ہے۔
تفصیل: یہ ۶؍ بھائی بہنوں میں سے ایک ہیں۔ منویارا کے مطابق ’’میں نے سماعت کے دوران اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے کاغذات دیئے۔ انہوں نےکچھ نہیں کہا، بس دستاویزات لے لئے۔ ‘‘ وہ حیرت کا اظہار کرتی ہیں کہ ’’ہاں ہم ۶؍ بھائی بہن ہیں تواس میں کیا مسئلہ ہے؟‘‘ بہر حال نوٹس ملنے پر انہوں نے دوبارہ ۲۰۰۲ء میں اپنے والدین کے نام کا سیریل نمبر فراہم کیا، ساتھ ہی آدھار کارڈ اور ریاستی حکومت کے غیر منظم شعبے کے کارکنوں کیلئے جاری کردہ شناختی کارڈ کی نقل بھی جمع کرائی۔
مثال نمبرتین
نام :ہدایت اللہ شیخ، ۳۹؍ سال
منطقی تضاد: والدہ کے نام کی میپنگ ۶؍ دیگر ووٹرس کے ساتھ بھی ہوئی ہے۔
تفصیل: ہدایت اللہ کے مطابق انہوں نے۲۰۰۲ءکی ووٹر لسٹ جمع کرائی جس میں ان کی والدہ کا نام تھا۔ ممبئی میں پینٹر کا کام کرنے والے ہدایت اللہ کہتے ہیں کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کا نام کٹ گیاہے تو وہ گھر واپس آئے۔ وہ ۷؍ بہن بھائیوں میں سے ایک ہیں ۔ انہوں نے یہ حیرت انگیز انکشاف بھی کیا کہ جو ثبوت اور دستاویز انہوں نے دیئے وہی ان کے دیگر بھائی بہنوں نے بھی دیئے مگر صرف ان کا نام کاٹا گیا۔ ہدایت اللہ کہتے ہیں کہ ’’میں بہت پریشان اور ذہنی دباؤ میں ہوں۔ ایک مہینے سے ٹھیک سے نہ سویا ہوں نہ کھاپایا ہوں۔ میری آمدنی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ جب میرے پاس ۲۰۰۲ء کی فہرست، پین کارڈ، آدھار کارڈ، میرے والد کا ۱۹۹۵ء کا ووٹر آئی ڈی اور تقریباً۱۰۰؍ سال پرانے زمین کے کاغذات موجود ہیں تو میرا نام کیوں حذف کیا گیا؟‘‘
مثال نمبر چار
نام:سبرنا منڈل، ۳۹؍ سال
منطقی تضاد: معلوم نہیں
تفصیل: سبرنا کے مطابق انہوں نے۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ جمع کرائی جس میں ان کے والدین اور دادا دادی کے نام تھے، اس کے علاوہ پیدائش کا سرٹیفکیٹ، دسویں جماعت کا ایڈمٹ کارڈ اور مارکس شیٹ بھی دی۔
تفصیل: سبَرنا کے مطابق ایس آئی آر کے بعدجاری ہونےوالی حتمی ووٹر لسٹ میں ان کا نام موجود تھا، لیکن۷؍ اپریل کو جاری کی گئی ضمنی فہرست میں حذف کر دیا گیا۔ جب نوٹس ملا تو انہوں نے سماعت میں شرکت کی اور مزید دستاویزات فراہم کئے۔
سبرنا جو’سنگل مدر‘(اکیلی ماں ) ہیں، نے نام کاٹے جانے کےخلاف اپیل دائر کی اور جوکا، کولکاتا کے قریب اس ادارے بھی گئیں جہاں ٹریبونلز قائم ہیں، مگر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میرے والدین، دادا دادی، چچا اور چچی سب۲۰۰۲ء کی فہرست میں تھے۔ میرے پاس اسکول کا ایڈمٹ کارڈ اور مارکس شیٹ بھی ہے اور میرے والد کا سی’سینٹرل گورنمنٹ ہیلتھ اسکیم‘کارڈ بھی ہے جس میں ہم سب کے نام درج ہیں۔ ‘‘وہ کہتی ہیں کہ اس ساری دوڑ دھوپ کے دوران وہ اپنے۲۰؍ سال کے بیٹے کا ووٹر کارڈ بھی نہیں بنوا سکیں۔ ان کے مطابق’’میں نے سوچا اگر میرا نام ہی حذف ہو گیا تو وہ کیسے رجسٹرڈ ہوگا؟‘‘ سبرنا اپنی لڑائی کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑی تو ہائی کورٹ جاؤں گی۔ ‘‘
مثال نمبرپانچ
نام:شہناز بیگم (پہلے کلپنا مانّا)، ۳۰؍ سال
منطقی تضاد: والد کے نام میں عدم مطابقت
دستاویزات:انہوں نے۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ جمع کرائی جس میں اپنے والد کے نام سے اپنا تعلق ثابت کیا۔
تفصیل: شہناز کے مطابق سماعت کے دوران انہیں بتایا گیا کہ ان کے والد کے نام میں فرق ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ’’میرا مسئلہ کچھ الگ ہے۔ میں نے اپنی مرضی سے مجیبور سے شادی کی اور قانونی طور پر اسلام قبول کیا۔ میں نے تمام دستاویزات پیش کئے لیکن میرا نام پھر بھی حذف ہو گیا۔ کیا یہ اسلئے ہوا کہ میں نے اسلام قبول کیا؟‘‘وہ مزید کہتی ہیں کہ’’مجھے نہیں معلوم کہ مجھے ججوں سے ملنے اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا یا نہیں۔ ویسے بھی ٹربیونل جوکا میں ہے جو یہاں سے بہت دور ہے پتہ نہیں میں کیسے جاؤں گی؟‘‘ ان کے شوہر مجیبور جو وِگ بنانے کا کام کرتے ہیں اور جن کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہے، کہتے ہیں کہ’’ ہم نے ٹربیونل میں اپنی پیروی کیلئے ایک وکیل کا انتظام کیا ہے لیکن سنا ہے کہ وہ لوگ حذف کئے گئے ووٹرس یا ان کے وکیلوں سے براہ راست ملاقات نہیں کررہے ہیں۔ ‘‘ شہناز اپنے دو بچوں کے بارے میں فکر مند ہیں کہ ’’اگر میرا نام کٹ گیا تو ان کا کیا ہوگا؟‘‘
مثال نمبر چھ
نام:اسد اللہ شیخ ۴۳؍ اور بہن جمیلہ، ۳۰؍ سال
منطقی تضاد:ایک والد کے نام کے ساتھ ۶؍ بچوں کے ناموں کی میپنگ
دستاویزات: دونوں کے مطابق انہوں نے۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ جمع کرائی جس میں ان کے والد کا نام تھا۔
تفصیل: اسد اللہ کے مطابق وہ۱۳؍ بہن بھائی ہیں، لیکن صرف ان دونوں کے نام حذف کئے گئے۔ جمیلہ کہتی ہیں کہ ’’ہم سب کو سماعت کیلئے بلایا گیا کیونکہ ایک ہی والد کے ساتھ ۶؍سے زیادہ بچوں کا اندراج دکھایا گیا تھا۔ میں سماعت میں گئی اور اسد اللہ کی نمائندگی بھی کی کیونکہ وہ گجرات میں تھے۔ میں نے تمام دستاویزات جمع کرائے، لیکن اب جبکہ باقی سب ووٹر ہیں، ہم دو کے نام حذف ہو گئے ہیں۔ ‘‘ اسد اللہ، جو گجرات میں وِگ بنانے کا کام کرتے ہیں، نےبتایا کہ ’’صرف دو کے نام کیوں کاٹے گئے؟ مجھے کام پر واپس جانا ہے، کمپنی بار بار بلا رہی ہے، میری نوکری جا سکتی ہے۔ ‘‘
مثال نمبر سات
نام:امیرون بیگم علی(۵۶) بہوئیں عارفہ بیگم شیخ(۳۵) اور شاہدہ خاتون( ۲۹؍ سال)
منطقی تضاد: تینوں کے ناموں میں فرق
دستاویزات:امیرون کے مطابق انہوں نے ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ جمع کرائی جس میں ان کا نام تھا۔ عارفہ کے مطابق ان کے والدین۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں شامل ہیں۔ شاہدہ نے اپنے دادا کے ذریعے تعلق کوثابت کیا جو ۲۰۰۲ء کی فہرست میں تھے۔
تفصیل: خاندان کے باقی افراد ووٹر لسٹ میں ہیں، اس لیے امیرون کو شک ہے کہ نام کے املے میں فرق کی وجہ سے ان کا نام حذف ہوا۔ ان کے پرانے کارڈ میں نام ’ امیرون بیگم علی‘ تھا مگر نئے کارڈ میں صرف’’امیرون بیگم ‘‘ رہ گیا ہے۔
عارفہ بتاتی ہیں کہ’’کچھ دستاویزات میں میرا نام عارفہ بیگم شیخ ہے اور کچھ میں صرف عارفہ بیگم۔ ہمیں سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ کیا کریں۔ ‘‘شاہدہ کہتی ہیں کہ ان کے والدین مہاجر مزدور تھے اور ان کے دادا نے ان کی پرورش کی، اسی لیے انہوں نے دادا کے ذریعے ثبوت دیا۔
یہ بھی پڑھئے: اب تو جینا ہے سوشل میڈیا کے سا تھ، مگر کیسے؟
مثال نمبر آٹھ
نام: ایس کے فریدول۴۸؍ سال، بھائی ایس کے الف، ۴۱؍ سال، ایس کے شریفل، ۳۴؍ سال۔ فریدول کا بیٹا اور بیوی ایس کے عالم۲۴؍ سال اورعالم آراءبیگم۴۰؍ سال
منطقی تضاد:پتہ نہیں
دستاویزات: فریدول کے مطابق ان کے والد ۲۰۰۲ء سے پہلے بھی ووٹ دیتے تھے لیکن اس وقت کی فہرست میں ان کا نام نہیں ملا، اسلئے انہوں نے اپنے بڑے بھائی گلزار کے ذریعے تعلق ظاہر کیا جو۲۰۰۲ء کی فہرست میں تھے۔ انہوں نے بجلی کا بل، پین کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور آدھار بھی جمع کرایا۔ ان کے بیٹے عالم نے اسکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ، آدھار، پین اور پیدائش کا سرٹیفکیٹ دیا۔ عالم آرا کے مطابق ان کے والدین۲۰۰۲ء کی فہرست میں تھے، اور انہوں نے بھی اپنے تعلیمی اور شناختی دستاویزات جمع کرائے۔
تفصیل: نوٹس میں چونکہ’منطقی تضاد‘ کی تفصیل نہیں ہے اسلئے وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ بہوعالم آراء کہتی ہیں کہ’’ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم سب بہن بھائیوں نے ایک ہی ثبوت دیا، لیکن صرف میرا نام خارج ہوا، باقی سب شامل ہیں۔ ‘‘
مثال نمبر نو
نام:ایم ڈی مسیح الرحمان، ۶۷؍ سال
منطقی تضاد: نام میں اور والد کے نام میں فرق
دستاویزات: رحمان کے مطابق ان کا نام۲۰۰۲ء کی فہرست میں ہے اور انہوں نے پاسپورٹ سمیت تمام تفصیلات جمع کرائی ہیں۔
تفصیل:رحمان جو ریٹائرڈ فزکس پروفیسر ہیں، نے بتایا کہ ’’مجھے سماعت کیلئے بلایا گیا تھا کیونکہ ۲۰۰۲ء کی فہرست میں میرا نام ’ایم ڈی مسیح الرحمان غین ولد محمد اسحاق غین تھا، لیکن۲۰۲۵ء میں میں نے اسے اپنا نام درست کروایا اور پاسپورٹ کے مطابق’’ایم ڈی مسیح الرحمان‘ کرلیا۔ ‘‘انہوں نے آدھار، پنشن آرڈر، پاسپورٹ اور تعلیمی اسناد جمع کرائی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اسسٹنٹ الیکٹورل آفیسر(ا ی آر او) نے یقین دلایا تھا کہ پنشن آرڈر کافی ہے لیکن بعد میں میرا نام کاٹ دیا گیا۔ ‘‘ وہ ٹربیونل کے سامنے آن لائن پیش ہوئے اور دستاویز کی نقول جمع کروا چکے ہیں، اس کے بعد بھی ان کا نام شامل نہیں کیاگیا، ان کا سوال ہے کہ ’’اب میں کیا کروں؟‘‘
مثال نمبر دس
نام:ساجدہ بی بی ۶۳؍ سال
منطقی تضاد: نام میں فرق
دستاویزات:ساجدہ نے۲۰۰۲ء اور ۲۰۲۵ء کی ووٹر لسٹ، دونوں جمع کرائیں ۔ ان کے پاس پاسپورٹ بھی ہے جس سے وہ حج کیلئے سعودی عرب کا سفر کرچکی ہیں۔
تفصیل: ان کے بھتیجے سیف اللہ جمعدار کے مطابق ’’۲۰۰۲ء کی فہرست میں ان کا نام ساجدہ جمعدار تھا، بعد میں تمام دستاویزات میں ساجدہ بی بی کر دیا گیا۔ ‘‘ان کے شوہر کے پنشن آرڈر میں بھی وہ ساجدہ بی بی کے نام سے درج ہیں۔ سیف اللہ کہتے ہیں کہ ’’انہوں نے نام کی تبدیلی کا حلف نامہ بھی جمع کرایا۔ مزید ہم کیا ثبوت دیتے؟ اب ہم نے ٹریبونل میں اپیل داخل کی ہے۔ ‘‘
بشکریہ: انڈین ایکسپریس